Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

محفوظ،  پاکدامن ووفادار،   حقوق العبادکے معاملے میں   دیانت دار،   اموال کے لین دین میں   امانت دار اورخوش حالی وخستہ حالی میں   میانہ روی پرکاربند رہنے والے تھے ۔

            اَہلِ تَصَوُّف فرماتے ہیں :  برکت کے خزانوں   کے باغات میں   مسلسلاللہ عَزَّوَجَلَّ کی محبت کی تلاش میں   رہنا تَصَوُّف کہلاتاہے  ۔

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے مناقب :  

 ( 767 ) … حضرت سیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ کریم،   رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :   ’’ میری اُمَّت میں   حلال و حرام کاسب سے زیادہ علم رکھنے والے مُعَاذ بن جَبَل ہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

  ( 770 ) … حضرت سیِّدُناشَہْربن حَوْشَبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   اگر میں   حضرت مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفہ نامزد کرتا اور میرا رب عَزَّوَجَلَّ مجھ سے اس کی وجہ پوچھتا تو میں   عرض کرتاکہ میں   نے تیرے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سناکہ ’’   جب عُلما اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   حاضر ہوں   گے تو مُعَاذ بن جَبَل ان میں   نمایاں   مقام ومرتبے پر فائز ہوں   گے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 771 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورسرورِعالم،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  ( بروزِقیامت ) مُعَاذ بن جبل عُلما کے امام اور ان میں   نمایاں   مقام و مرتبے پر فائز ہوں   گے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 773 ) … حضرت سیِّدُناابوالْعَجْفَائیا ابوالْعَجْمَائرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ کسی نے امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرِفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   عرض کی: ’’ کاش آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہم سے،   اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کے بارے میں   عہد لے لیتے ۔   ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   اگر میں   حضرت مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوپاتا تو انہیں   خلیفہ بناتا پھرجب اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں   حاضر ہوتا اوراللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے ارشاد فرماتاکہ ’’  تونے محمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  کی امّت پرکس کوخلیفہ مقررکیا ؟  ‘‘ تومیں   عرض کرتا :  میں   نے تیرے نبی و تیرے بندۂ خاص مصطفی جانِ رحمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے سنا کہ ’’   بروزِ قیامت عُلما کے سامنے مُعَاذ بن جَبَل کی حیثیت ایک گروہ کی مانندہو گی ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 775 ) …  حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں   نے رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’  4 آدمیوں   سے قرآن سیکھو !  ( ۱ )  عبداللہ بن مسعود ( ۲ )  مُعَاذ بن جَبَل  ( ۳ ) اُبی بن کَعْب اور  ( ۴ )  ابو حُذَیْفَہ کے آزاد کردہ غلام سالم  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم )  ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 776 ) … حضرت سیِّدُناقَتَادَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا اَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ سیِّد ِدوعالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارَک زمانے میں  4 اشخاص نے قرآن مجید جمع کیا جو سب کے سب انصاری تھے :   ( ۱ ) حضرت اُبی بن کَعْب ( ۲ )  حضرت مُعاذ بن جَبَل ( ۳ )  حضرت زَید بن ثابِت اور  ( ۴ )  حضرت ابو زَید  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  ۔  ‘‘ راوی کہتے فرماتے ہیں : ’’ میں   نے حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا :   ’’ ابوزَید کون ہیں   ؟  ‘‘  انہوں   نے فرمایا :   ’’ ابوزیدمیرے چچا ہیں   ۔  ‘‘    ( [6] )

امام کون ہوتاہے ؟

 ( 777 ) … حضرت سیِّدُنافَرْوَہ بن نَوْفَل اَشْجَعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیسے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  حضرت سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ایک امام،   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانبردار اورہر باطل سے جدا تھے ۔  ‘‘  کسی نے ( یہ خیال کرکے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھول گئے ہیں   )  یہ آیت تلاوت کی:  ’’ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًاؕ- ( پ۱۴النحل :  ۱۲۰ )  ترجمۂ کنزالا یما ن :   بے شک ابراہیم ایک امام تھا،  اللہ کا فرمانبردار اورسب سے جدا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میں   بھولا نہیں  ہوں   ۔ کیا تم جانتے ہو کہ ا مام اور فرمانبردار کون ہوتا ہے ؟  ‘‘  راوی نے عرض کی :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ بہتر جانتا ہے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ امام وہ ہو تا ہے جو لوگوں  کوبھلائی سکھاتاہے اور ’’   قانت ‘‘  اللہ ورسول  عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مطیع وفرمانبردارکوکہتے ہیں   اور حضرتِ سیِّدُنا مُعَاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں   کو بھلائی بھی سکھاتے تھے اوراللہ و رسول  عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت بھی کرتے تھے ۔  ‘‘    ( [7] )

 



[1]    جامع الترمذی ،  ابواب المناقب ،  باب مناقب مُعَاذبن جبلالخ ،  الحدیث : ۳۷۹۱ ، ص۲۰۴۱۔

[2]    فضائل الصحابۃ للامام احمدبن حنبل ،  باب فضائل اَبی عبیدۃ بن الجراح ،  الحدیث : ۱۲۸۷ ، ج۲ ، ص۷۴۲۔