Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’ تمہارے سامنے ایک دشوارگزار گھاٹی ہے جسے بھاری بوجھ والے عبور نہیں   کر سکیں   گے ۔  ‘‘ لہٰذااس گھاٹی کوعبورکرنے کے لئے مجھے ہلکے بوجھ والارہناپسند ہے ۔    ( [1] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی6 احادیث :  

 ( 762 ) … حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ مکرم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :  ’’  اے لوگو ! اللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم کرو وہ تمہارے گناہ معاف فرمادے گا ۔  ‘‘  مروان نے کہا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم سے مراد یہ ہے کہ اس کی فرمانبرداری کرو ۔  ‘‘   ( [2] )

            حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّد عالمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:  ’’ جو اس حال میں   مرا کہ اس نےاللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہووہ جنت میں   داخل ہو گا ۔  ‘‘  حضرتِ سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے متعجب ہو عرض کی:  ’’ اگرچہ وہ زنا کرے،  اگرچہ وہ چوری کرے ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو،  ہاں    ! اگرچہ وہ زنا کرے،  اگرچہ وہ چوری کرے  ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 763 ) … حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ کریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ طلوع آفتاب کے وقت دو فرشتے ندا کرتے ہیں   جسے جن و انس کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے کہ اے لوگو !  اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ کی طرف آؤ،  قلیل ( مال )  جو کفایت کرے اس کثیرسے بہتر ہے جواللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل کر دے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 764 ) … حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ پاک،  صاحبِ لولاک،  سیاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیوں   دُعا مانگا کرتے تھے :  ’’ اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَ لُکَ حُبَّکَ وَ حُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَالْعَمَلَ الَّذِیْ یُبْلِغُنِیْ حُبَّکَ،    اللہ اجْعَلْ حُبَّکَ أَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَفْسِیْ وَ أَھْلِیْ وَ الْمَاءِ الْبَارِدیعنی اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھ سے تیری محبت ،  تیرے محبین کی محبت اور اس عمل کا سوال کرتاہوں   جو مجھے تیری محبت تک پہنچادے ۔ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  اپنی محبت میرے نزدیک میری جان،   میرے گھروالوں  اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنادے ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 765 ) … حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت،   شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ جہاں  تک ہو سکے دنیا کے غموں   سے فراغت اختیار کرو کیونکہ جس شخص کی سب سے بڑی فکر دنیا بن جاتی ہےاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے کام پھیلا دیتا اوراسے فقر وفاقہ کے خوف میں   مبتلا فرمادیتا ہے اور جس شخص کی سب سے بڑی فکر آخرت بن جائےاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے کام سنوارتا اور اس کے دل میں   غنا  ( یعنی دنیاسے بے پرواہی  ) ڈال دیتا ہے اور جو بندہ دل سےاللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوتا ہےاللہ عَزَّوَجَلَّ مؤمنین کے دلوں   کو دوستی و محبت کے ساتھ اس کی طرف مائل کر دیتااوراسے ہربھلائی پہنچانے میں   جلدی فرماتاہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 766 ) … حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ رحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا :  ’’ اے عیسیٰ !  تمہارے بعد میں   ایسی امت بھیجوں   گا جو بلا حلم و علم نعمت پر حمد و شکر بجا لائے گی اور مصیبت پر صبر و ثواب کی طالب ہوگی ۔  ‘‘  

حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عرض کی :   ’’ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! یہ بغیرعلم وحلم کے کیسے ہوگا ؟  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا :  ’’  میں   اپنے علم و حلم سے انہیں   عطا فر ماؤں   گا ۔  ‘‘   ( [7] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’ مذکورہ 6 اَحادیث مبارَکہ مصطفی جانِ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے صرف حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے روایت کی ہیں   ۔  ‘‘

حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            ہجرت میں   سبقت لے جانے والوں   میں   حضرت سیِّدُنامُعَاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاموں   کودرست طریقہ سے انجام دیتے،   لڑائی جھگڑوں   سے اجتناب کرتے،  عُلما کے پیشوا،  سخیوں   کے سردار،   عبادت گزار،   قاری ٔ قرآن،  حقیقی محبت میں   ثابت قدم رہنے والے،  خوش خلق وخوش مزاج ،  سخی وفیاض،   مسلمانوں   کے محافظ،   فتنوں   سے



[1]    المستدرک ،  کتاب الأہوال ،  باب موت ابن وہب بسمع کتاب الأہوال ،  الحدیث : ۸۷۵۳ ، ج۵ ، ص۷۹۲۔

[2]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی الدَرْدَاء ،  الحدیث : ۲۱۷۹۳ ، ج۸ ، ص۱۷۱ ’ ’مروان‘‘ بدلہ ’ ’ابن ثوبان‘‘۔

[3]    السنن الکبرٰی للنسائی ،  کتاب عمل الیوم واللیلۃ ،  الحدیث : ۱۰۹۶۳ ، ج۶ ، ص۲۷۶ ،  بدون ’ ’حین سبر‘‘۔

[4]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی الدَرْدَاء ،  الحدیث : ۲۱۷۸۰ ،  ج۸ ،  ص۱۶۸۔

                مسندابی داودالطیالسی ،  مسندابی الدَرْدَاء ،  الحدیث : ۹۷۹ ، ص۱۳۱۔