Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مجھے اپنے فضل سے رزق عطا فرما ۔ میں   کسی گناہ سے اظہارِبراء ت نہیں  کرتا ۔ نہ میں   طاقتورہوں   کہ خودہی اپنی مدد کرسکوں   ۔  ہاں   !  میں   گناہ گارہوں  اور اپنے گناہوں   کی معافی چاہتاہوں   ۔  ‘‘  راوی بیان کرتے ہیں   کہ صبح حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے بڑی چاہت کے ساتھ یہ کلمات اپنے دوستوں   کو سکھائے  ۔  ‘‘    ( [1] )

جنت میں   بھی ساتھ رہنے کی دُعا :  

 ( 756 ) … حضرت سیِّدُنالقمان بن عامرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِرسے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُم دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے بارگاہ ِ الٰہی میں  یوں   التجا کی :   ’’ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ !  حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے دنیامیں  مجھے نکاح کا پیغام بھیجا اور مجھ سے شادی کی ۔ میں   تیری بارگاہ میں   عرض کرتی ہوں   کہ مجھے جنت میں   بھی ان کی زوجیت میں   رکھنا ۔   ‘‘ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اُن سے فرمایا :  ’’  اگر تو اس بات کوپسندکرتی ہے تو میں   بھی یہی چاہتاہوں   لہٰذامیرے بعد کسی سے شادی نہ کرنا ۔  ‘‘  راوی بیان کرتے ہیں   کہ ’’   حضرت سَیِّدَتُنا اُم در داء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا صاحب ِحسن و جمال تھیں   ۔  حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کے بعد حضرت سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں   نکاح کا پیغام بھجوایا تو انہوں   نے جواب دیا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! میں   دنیا میں   کسی سے شادی نہیں   کروں   گی ۔  اگراللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا توجنت میں   حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی زوجیت میں   رہوں   گی ۔  ‘‘    ( [2] )

گنہگارسے نہیں  ،  گناہ سے نفرت کرو :  

 ( 757 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو قِلَابَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک شخص کے پاس سے گزرے جسے لوگ گناہ کی وجہ سے ملامت کر رہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اس  بارے میں   تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم اسے کسی کنوئیں   میں   گرا ہوا پاتے تو اسے نکالنے کی کوشش نہ کرتے ؟   ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :  ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اپنے بھائی کو گالیاں   نہ دو بلکہ اس بات پراللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کرو کہ اُس نے تمہیں   اس گناہ سے عافیت بخشی ۔  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’  کیا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس کو برا نہیں   سمجھتے ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  میں   اس کے عمل کو برا سمجھتا ہوں  اگر یہ اسے چھوڑ دے تومیرا بھائی ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

                نیز آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اے لوگو !  خوشحالی کے ایام میں  اللہ عَزَّوَجلَّکو یاد کرو تاکہ وہ تنگی و مصیبت میں   تمہاری دعاؤں  کو قبول فرمائے  ۔ ‘‘  ( [4] )

            حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حکمت ودانائی سے بھرے ہوئے اور ماہرروحانی طبیب تھے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا کلام بکثرت حکمت پر مشتمل ہوتا اوروعظ بے حدمفیدہوتا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حکمت بھرے کلام اور علوم سے  ( روحانی  )  مریض شفاپاتے ۔ دنیا سے کنارہ کش اور مظلوم انہیں  اپنی حفاظت کا ذریعہ بناتے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غور وتفکرفرماتے تو معاملہ کی گہرائی تک رسائی پاتے اور ذکر کرتے تو شفا پاتے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ دنیا کی زیب و زینت سے کتراتے اور آخرت کے مراتب کے حصول کی سعی فرماتے تھے ۔  ‘‘

 ( 758 ) … حضرت سیِّدُنا ابنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں   نے یزید بن مُعَاوِیَہ کو کہتے سنا کہ ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شمارعُلما و حکماء اور ان لوگوں   میں   ہوتا ہے جن سے لوگ شفا پاتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

سب سے زیادہ مفیدچیز :  

 ( 759 ) … حضرت سیِّدُنا محمد بنیَزِیْدرَحَبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی گئی :  ’’ کیا بات ہے آپ شعر نہیں   کہتے ؟ جبکہ انصار میں   سے سب نے کوئی نہ کوئی شعر ضرور کہا ہے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’  میں   نے بھی اشعارکہے ہیں   ،  سنو:

یُرِیْدُ الْمَرْءُ أَنْ یُّعْطٰی مَنَاہٗ             وَیَأْبَی اللہ اِلَّا مَا أَرَادَ

یَقُوْلُ الْمَرْئُ فَائِدَتِیْ وَمَالِیْ             وَتَقْوَی اللہ اَفْضَلُ مَا اسْتَفَادَا

ترجمہ :   ( ۱ ) … بندہ چاہتاہے کہ اس کی ہرامیدپوری ہوحالانکہ ہوناتو وہی ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کومنظورہے ۔

             ( ۲ ) …  بندہ کہتا ہے :  میرا فائدہ ،  میرا مال ۔ جبکہ خوفِ خداسے بڑھ کر کوئی چیز فائدہ مند نہیں   ۔   ( [6] )

دُشْوَارگزارگھاٹی :  

 ( 761 ) … حضرت سیِّدُناہِلَال بن یَسَاف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنااُمِّ دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی :  ’’ کیابات ہے آپ اپنے مہمانوں   کی اس طرح ضیافت نہیں   کرتے جس طرح دوسرے لوگ کرتے ہیں   ؟   ‘‘ انہوں   نے فرمایا :  میں   نے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الدعاء ،  باب مارخص للرجلالخ ،  الحدیث : ۵ ، ج۷ ، ص۳۴۔

[2]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۷۶ابو الدَرْدَاء عویمر بن زید ،  ذکروفاۃ ابی الدَرْدَاء ، ج۱ ، ص۳۲۵۔

[3]    شعب الإیمان للبیہقی ،  باب فی تحریم أعراض الناس ،  الحدیث : ۶۶۹۱ ، ج۵ ، ص۲۹۰ ، بتغیرٍ۔

[4]    الزھدللامام احمد بن حنبل ،  زہدابی الدَرْدَاء ،  الحدیث : ۷۱۸ ، ص۱۶۰۔

[5]    الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب ،  باب الدال ،  الرقم