Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

100دیناراوراپنا ایک خادم عطا فرمایا  ۔  ‘‘    ( [1] )

لوگوں   میں   بدترین شخص :  

 ( 747 ) … حضرت سیِّدُنا ابوکَبْشَہ سَلُوْلِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِی فرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو فرماتے ہوئے سناکہ ’’ قیامت کے دن لوگوں   میں   سےاللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بدترین شخص وہ عالِم ہوگا جو اپنے علم سے نفع حاصل نہیں   کرتا ۔  ‘‘    ( [2] )

عُلما کی ناپسندیدگی سے بچو :  

 ( 748 ) … حضرت سیِّدُناحسّان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہیوں   دعاکرتے :   ’’ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ أَنْ تَلْعَنَنِیْ قُلُوْبُ الْعُلَمَائِیعنی :  اےاللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں   اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں   کہ عُلما کے دل مجھ پر لعنت کریں   ۔  ‘‘  کسی نے عرض کی :  ’’  ان کے دل آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر کیوں   کر لعنت کریں   گے ؟   ‘‘  فرمایا :   ’’ ان کے دلوں   کالعنت کرنایہ ہے کہ وہ مجھے ناپسند کریں   ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 750 ) … حضرت سیِّدُناعُمَیْربن ہَانِیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جھٹلانے والے،   نافرمانی کرنے والے اور پختہ عہد کو توڑنے والے کے لئے ہلاکت ہے اس میں   کوئی بھلائی ہے نہ سچائی  ۔  ‘‘

 ( 751 ) … حضرت سیِّدُنا ابوعبداللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ تمہارے دل ہروقت دنیا کی محبت میں   ڈوبے رہتے ہیں   اگرچہ بڑھاپے کی وجہ سے ہنسلی کی ہڈیاں    آپس میں   مل جائیں  ،   سوائے ان لوگوں   کے کہ جن کے دلوں   کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تقویٰ کے لئے چن رکھاہے مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

کامل انسان کی تین نشانیاں :  

 ( 752 ) … حضرت سیِّدُنا عَوْف رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک شخص سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ انسان کے کامل ہونے کی 3نشانیاں  ہیں :  ( ۱ ) مصیبت کے وقت شکوہ نہ کرنا ( ۲ )  اپنی تکلیف کاڈھنڈورانہ پیٹتے پھرنااور ( ۳ )  اپنے منہ میاں   مٹھونہ بننا ۔  ‘‘    ( [5] )

پیالے والاواقعہ:

  ( 753 ) … حضرت سیِّدُناقَیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف (  یا حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اُن کی طرف )  خط لکھتے تو انہیں   پیالے والا واقعہ یاد دِلاتے  ۔ راوی اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں : ’’ اورہم باہم یہ گفتگو کیاکرتے تھے  کہ ایک مرتبہ یہ دونوں   بزرگ پیالے میں   کھانا کھا رہے تھے کہ اس پیالے اور اس میں   موجود کھانے نے ان کے سامنے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح بیان کی تھی ۔  ‘‘    ( [6] )

اللہعَزَّوَجَلَّ کی پاکی بولنے والی ہنڈیا :  

 ( 754 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے،   حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی پاس موجود تھے کہ اچانک حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہنڈیا سے آواز سنی پھر آواز بلند ہوئی وہ اس طرح تسبیح بیان کر رہی تھی جس طرح بچہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح بیان کرتا ہے پھر وہ ہنڈیا اپنی جگہ سے ہٹ کر خود بخود اپنی جگہ پہنچ گئی اور اس سے کوئی چیز بھی نہ گری ۔  حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو آواز دے کر فرمایا :  ’’ اے سلمان !  یہ عجیب منظر دیکھو !  ایسامنظر تم نے اور تمہارے والد نے کبھی نہیں  دیکھاہوگا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اگر آپ خاموش رہتے تواللہ عَزَّوَجَلَّ کی اس سے بڑی بڑی نشانیاں   دیکھتے ۔  ‘‘   ( [7] )

بارگاہِ الٰہی میں   التجا :  

 ( 755 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن یَزِیدبن رَبِیْعَہ دِمَشْقِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ایک رات میں   مسجدمیں   داخل ہوا تومیراگزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہواجو سجدے کی حالت میں  اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   یہ التجاکررہا تھا :  ’’ اَللّٰھُمَّ خَائِفٌ مُسْتَجِیْرٌ فَأَجِرْنِیْ مِنْ عَذَابِکَ،    وَسَائِلٌ فَقِیْرٌفَارْزُقْنِیْ مِنْ فَضْلِکَ،    لَامِنْ ذَنْبٍ فَاعْتَذِرُ،    وَلَاذُوْقُوَّۃٍ فَا نْتَصِرُوَلٰکِنْ مُذْنِبٌمُّسْتَغْفِرٌیعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں   تیرے عذاب سے خوف زدہ ہوں   ۔ پناہ چاہتاہوں   ۔ مجھے اپنے عذاب سے بچا ۔ میں   محتاج ہوں   ۔  تجھ سے سوال کرتا ہوں   ۔  



[1]    الزھدلابی داؤد ،  من خبرابی الدَرْدَاء ،  الحدیث : ۲۳۹ ، ج۱ ، ص۲۵۵۔

[2]    الزھدلابن المبارک ،  باب التحضیض علی طاعۃ اﷲ ،  الحدیث : ۴۰ ، ص۱۴۔

[3]    رجال حول الرسول ،  أبوالدرداء ۔أیّ حکیم کان ، ص۹۱۔

[4]    الزھدلابن المبارک ،  باب النہی عن طول الأمل ،  الحدیث : ۲۵۷ ، ص۸۷ ، بتغیرٍ۔