Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

رحمت بھری ہواؤں   کے متلاشی رہوکیونکہ وہ جس پر چاہتا ہے اپنی رحمت کی ہوائیں   چلاتا ہے اوراسی سے عیب پوشی اور خوف سے امن کا سوال کرو ۔  ‘‘    ( [1] )

نفع بخش باتیں :

 ( 740 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بنجُبَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی :  ’’ مجھے کوئی ایسی بات سکھادیجئے جس پرعمل کرنے سے میں   نفع پاؤں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ 2،   3،   4 اور 5 باتیں  ہیں   جو ان پر عمل کرے گااللہ عَزَّوَجَلَّکے ہاں   اس کے دَرَجات بلند ہوں   گے :   حلال وطیّب کماؤ،  حلال وطیّب کھاؤ،   اپنے گھرمیں   حلال وطیّب کو داخل کرو اوراللہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کرو کہ وہ تمہیں   روزانہ کا رزق روزانہ ہی عطا فرمائے اور جب صبح کرو تو اپنے آپ کو مُردوں   میں   شمار کرو گویا تم ان سے مل گئے ہو،   اپنی عزت و آبرواللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد کردواور جوشخص تمہیں   گالی دے،   برابھلاکہے یا تم سے جھگڑا کرے اس کا معاملہاللہعَزَّوَجَلَّپر چھوڑ دو اور جب تم سے کوئی بُرائی سرزد ہو جائے تواِسْتِغْفار کرو ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 741 ) … حضرت سیِّدُناخَلَف بن حَوْشَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  بعض لوگوں   کے سامنے ہم ہنستے ہیں   جبکہ ہمارے دل ان پر لعنت بھیجتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [3] )

بخار میں   بھی فکرِآخرت :  

 ( 742 ) … حضرت سیِّدُنا خالد بن حُدَیْراَسْلَمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ ایک مرتبہ میں   حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہواتو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پسینہ سے شرابور،  اُونی چادراوڑھے بخار کی حالت میں   چمڑے یا اُون کے بچھونے پر آرام فرما ہیں   ۔  میں   نے عرض کی :  ’’  اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پسند فرمائیں   تو میں   آپ کی خدمت میں   امیر المؤمنین کا بھیجا ہوا عمدہ بچھونا اور چادر پیش کردیتاہوں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ ہمارا ایک گھر ہے جس کی طرف ہمیں   روانہ ہوناہے اوراسی کے لئے ہم عمل کرتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

مہمانوں   کودرسِ آخرت:

 ( 743 ) … حضرت سیِّدُناحسّان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے کچھ دوست آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے مہمان بنے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی مہمان نوازی کی،   جب رات ہوئی توبعض اُونی بسترپراوربعض بغیربسترکے سوگئے  ۔  دوسرے دن صبح جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ان کے پاس تشریف لے گئے تو ان کے چہروں   پر ناگواری کے آثار دیکھ کرفرمایا :   ’’ ہمارا ایک اصلی گھرہے جس کے لئے ہم سامان جمع کر رہے ہیں   اور اسی کی طرف ہمیں   لوٹ کر جانا ہے( [5] )

اہلِ دمشق سے خطاب :  

 ( 744 ) … حضرت سیِّدُنا حسّانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اہلِ دمشق سے فرمایا :  ’’  کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ سالہا سال سیر ہو کر کھاؤ اور تمہاری مجالساللہ عَزَّوَجَلَّکے ذکر سے خالی ہوں   ؟  کیابات ہے تمہارے عُلما دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں   لیکن تمہارے اَن پڑھ پھر بھی علم حاصل نہیں   کرتے ۔  اگر تمہارے عُلما چاہیں   تو علم میں   مزید اضافہ کر سکتے اوران پڑھ علم حاصل کر سکتے ہیں   ۔  لہٰذانقصان دِہ چیزوں   پر سودمندچیزوں   کوترجیح دو ۔  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  ( ماقبل ) تمام امتیں   نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے اورخودکو اچھا سمجھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں   ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 745 ) … حضرت سیِّدُناحسّان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کواپنے بیٹے کابناؤسنگارکرتے دیکھاتواس سے فرمایا :  ’’  تم جتناچاہو اس کابناؤ سنگارکرلو ،  یہ اس  کی گمراہی کا سبب ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 746 ) … حضرت سیِّدُناحسّان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   اپنے بھائی کی شکایت کی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ بہت جلداللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے خلاف تیری مدد فرمائے گا ۔  ‘‘ اتفاقًاوہ شخص قاصد بن کر حضرت سیِّدُناامیر مُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہواتوانہوں   نے اسے 100دینارعطا فرمائے ۔  ‘‘  واپسی پر حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص سے فرمایا: ’’ کیا تجھے یقین آگیا کہاللہ عَزَّوَجَلَّ نے تیرے بھائی کے خلاف تیری مدد فرمادی ۔  ‘‘   ( حضرت سیِّدُنا حسّان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں    ) مدد اس طرح ہوئی کہ وہ شخص قاصد بن کر حضرت سیِّدُنا امیر مُعَاوِیَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس گیاتوانہوں     نے اسے



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  کلام ابی الدَرْدَاء ،  الحدیث : ۱۵ ، ج۸ ، ص۱۶۸۔

[2]    الزہدلابی داود ،  من خبرابی الدَّرْدَاء ،   الحدیث : ۲۴۲ ، ج۱ ، ص۲۵۸۔

[3]    صحیح البخاری ،  کتاب الادب ،  باب المداراۃ مع الناس ، ص۵۱۷۔

[4]    الزہدللمعافی بن عمران الموصلی ،  باب فی التنعم واتباعالخ ،  الحدیث  ۲۰۸ ، ص۲۱۸ ، بتغیرٍقلیلٍ۔

[5]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۷۶ابو الدَرْدَاء عویمر بن زید ، ج۱ ، ص۳۲۴ ، مختصرًا۔

[6]    

Total Pages: 273

Go To