Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 712 ) … حضرت سیِّدُنا شُرَحْبِیلعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْجَلِیْلسے مَروِی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو فرماتے :  ’’  تم صبح کو چل پڑے ہم شام کو تمہارے پیچھے آنے والے ہیں   یا تم شام کو چلے ہم صبح آنے والے ہیں   ۔  موت بہت بڑی نصیحت ہے ۔  لیکن غفلت بھی بہت جلد طاری ہو جاتی ہے اور نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے ۔  اچھے لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے اور باقی بچنے والوں   میں   حِلْم و بُردْباری نام کی کوئی چیز نہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

3 محبوب چیزیں :

 ( 713 ) … حضرت سیِّدُنامُعَاوِیَہ بن قُرَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مَروِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ 3چیزیں   جنہیں   لوگ ناپسند کرتے ہیں   مجھے بہت محبوب ہیں :  فقر ،  مرض اور موت ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 714 ) … حضرت سیِّدُناعَمْروبن مُرَّۃَ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے شیخ سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میں   موت کوپسندکرتاہوں   تاکہ دیدارِالٰہی حاصل ہو ۔  فقر کو پسندکرتا ہوں   تاکہ ربعَزَّوَجَلَّ کے حضور گڑ گڑاؤں   اوربیماری کوپسندکرتاہوں   تاکہ میرے گناہوں   کا کفارہ ہو ۔   ‘‘    ( [3] )

قومِ عاد کاحال :  

 ( 715 ) … حضرت سیِّدُنا سَعِیدبن ابوہِلَال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اے اہلِ دمشق !  کیا تم حیا نہیں   کرتے ؟ اتنا مال جمع کرتے ہو جو کھا نہ سکو گے ۔ ایسے مکان تعمیر کرتے ہو جن میں   رہ نہ پاؤ گے اور ایسی امیدیں   باندھتے ہو جو پوری نہ ہوسکیں   گی ۔ تم سے پہلے بھی ایسے لوگ گزرے ہیں   جنہوں   نے مال جمع کیا ۔  لمبی امیدیں   باندھیں   اور مضبوط عمارتیں   تعمیر کیں   لیکن ان کے جمع شدہ اموال تباہ و برباد ہوگئے ۔ ان کی امیدیں   خاک میں   مل گئیں   اور ان کے محلات ان کی قبروں   میں   تبدیل ہو گئے ۔ یہ قومِ عاد تھی،   جس نے ’’ عَدَن ‘‘  سے لے کر ’’  عَمَّان ‘‘ تک مال جمع کیااورکثیر اولاد پائی توکوئی ہے جو قومِ عاد کاترکہ مجھ سے 2دِرہم کے عوض خریدلے ؟  ‘‘    ( [4] )

مالداروں   کونصیحت :  

 ( 716 ) … حضرت سیِّدُنا صَفْوَان بن عمرو رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اے مالدارو !  اپنے اموال سے اپنے جسموں   کوراحت پہنچا لواس سے پہلے کہ ہم اورتم برابر ہو جائیں   اوردنیامیں   جو کچھ تم دیکھتے ہو تو تمہارے ساتھ ہم بھی دیکھ لیتے ہیں   ۔  ‘‘ پھرفرمایا :  ’’ مجھے تم پر غافل کر دینے والی نعمت میں   مخفی شہوت کا خوف ہے ۔  وہ اس طرح کہ تم کھاناتوسیرہوکرکھاتے ہو لیکن علم کے معاملے میں   بھوکے رہتے ہو،   تم میں   بہترین شخص وہ ہے جو اپنے دوست سے کہے کہ آؤ مرنے سے پہلے روزہ رکھ لیں   اور بد ترین شخص وہ ہے جو اپنے دوست سے کہے کہ آؤ مرنے سے پہلے کچھ کھا پی لیں   اور کھیل کودکر لیں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاگزر ایک قوم کے پاس سے ہوا جو مکان تعمیر کرنے میں   مشغول تھی توفرمایا :  ’’ تم دنیا کو نیا کرنے میں   مشغول ہو جبکہاللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے برباد و ویران کرنے کا اِرادہ فرمایاہوا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ  کا ارادہ ہی  ( سب پر )  غالب ہے ۔  ‘‘

ویران عمارتوں   سے عبرت :  

 ( 717 ) … حضرت سیِّدُنامَکْحُوْل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ویران عمارتوں   کے پاس جا کر کہتے :  ’’ اے ویران ہونے والی عمارتو !  تمہارے پہلے رہائشی کہاں   چلے گئے ؟  ‘‘   ( [5] )

 ( 718 ) … حضرت سیِّدُنا مُعَاوِیَہ بن قُرَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیمار ہوئے توکچھ دوست عیادت کے لئے حاضر ہوئے اورپوچھا :   ’’ اے بودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  آپ کو کیا مرض ہے ؟   ‘‘ فرمایا :   ’’ مجھے گناہوں  کامرض لاحق ہے ۔  ‘‘ دوستوں   نے پوچھا :   ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو کسی چیز کی خواہش ہے ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ میں   جنت کا خواہش مند ہوں   ۔  ‘‘ دوستوں   نے کہا :   ’’ ہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لئے طبیب کو بُلا لائیں    ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  اسی  ( یعنی طبیبِ حقیقی اللہ عَزَّوَجَلَّ  ) نے مجھے بستر پر لٹایاہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 719 ) … حضرت سیِّدُنا عَوْن بن عبداللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  جوتلاش کرتا ہے وہ گم ہوجاتا ہے ۔ جو تکلیف دِہ امور پر صبر نہیں   کرتا وہ عاجزآ جاتا ہے ۔  اگر تم لوگوں   کے ساتھ برائی سے پیش آؤگے تووہ بھی تمہارے ساتھ ایسا ہی معاملہ کریں   گے ۔  تم انہیں   چھوڑنا چاہو گے لیکن وہ تمہیں   نہیں   چھوڑیں   گے ۔  ‘‘ راوی نے عرض کی :  ’’  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مجھے کیا حکم دیتے ہیں    ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  اپنی طرف سے فقر والے دن  ( یعنی قیامت )  کے لئے قرض دو  ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 720 ) … حضرت سیِّدُنا سعید بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْعَزِیْز سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے دعاکی درخواست کی گئی تو فرمایا :  ’’  میں   اچھی طرح تیراکی



[1]    الزہدلابی داؤد ،  باب من خبر الی الدرداء ،  الحدیث : ۲۵۰ ، ج۱ ، ص۲۶۶۔

[2]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۳۶ ، ص۱۶۲ ، بتغیرٍ۔

[3]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،   الحدیث : ۸۱۱ ، ص۱۷۲۔

[4]    شعب الایمان للبیہقی ،  باب فی الزہدوقصرالامل ،  الحدیث : ۱۰۷۴۰ ،  ج۷ ، ص۳۹۸ ، بتغیرٍ۔

[5]    الزہدلوکیع ،  باب الخرب ،  الحدیث : ۵۰۱ ، ج۲ ، ص۷۶۔

[6]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الد رداء ،  الحدیث : ۷۷۱۶ ، ص۱۶۰۔