Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 706 ) … حضرت سیِّدُناحِزَام بن حَکِیْمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْکَرِیْمسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اگر تم موت کے بعد کے معاملات جان لوتو من پسندلذیذکھانے،  ٹھنڈے اورمیٹھے مشروبات چھوڑدو،  عالیشان مکانات و عمدہ محلات سے منہ موڑ لو،  تمہاری کیفیت ایسی ہوجائے کہ سینوں   کو پیٹتے ،  آنسو بہاتے صحراؤں   کی طرف نکل جاؤ اور اس بات کی تمنا کرنے لگو کہ اے کاش ! ہم درخت ہوتے جنہیں   کاٹ لیاجاتا اور ان کے پھل کھالئے جاتے ۔  ‘‘    ( [1] )

اِیمان کا اَعلیٰ دَرَجہ :  

 ( 707 ) … حضرت سیِّدُنا ابوعثمان یزید بن مَرْثَدہَمْدانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے کہ ’’   ایمان کا اعلیٰ دَرَجہ یہ ہے کہ بندہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم پر صبر کرے اور تقدیر پر راضی رہے نیز توکل کے معاملے میں   اخلاص اپنائے اور ہر وقتاللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانبردار رہے  ۔  ‘ ‘( [2] )

 دوست پرانفرادی کوشش :  

 ( 708 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن محمدمُحَارِبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے ایک دوست کو خط لکھا حمد و ثنا کے بعدفرمایا :  ’’ اس دنیامیں   تیرا کوئی حصہ نہیں   ہے کیونکہ تجھ سے پہلے بھی اس میں   لوگ رہتے تھے وہ اسے یونہی چھوڑ کرچلے گئے اور تیرے بعداس میں   کچھ اورلوگ آبسیں   گے ۔  اس دنیا میں   تیرے لئے وہی ہے جو تو آگے بھیج دے اور جوچیزیں   تویہاں   چھوڑجائے گا اس کی حقدارتیری نیک اولاد ہو گی کیونکہ مرنے کے بعدتیری پیشی ایسی بارگاہ میں   ہونی ہے جہاں   کوئی بہانہ چلے گا نہ عذر قابل قبول ہوگا اور تم جن کے لئے دنیااکٹھی کروگے وہ تمہارے کام نہیں   آ سکیں   گے ۔  تمہارا جمع کیاہوامال تمہاری اولاد کے لئے ہے ۔ وہ اس میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کرکے سعادت مندہو جائے گی جس کو کمانے کی وجہ سے تم بد بخت بنے یا وہ اس مال کواللہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی میں   خرچ کرکے بدبخت ہو جائے گی ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  ان دونوں   میں   سے کوئی بھی ایسا معاملہ نہیں   کہ جس کی وجہ سے تم اپنی کمر پر بوجھ اٹھاؤ اور انہیں   اپنی ذات پر ترجیح دو ۔  لہٰذا جو گزر گئے ان کے لئےاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کی امید رکھو اور جو پیچھے رہ گئے ان کے لئےاللہ عَزَّوَجَلَّکے رزق پر اعتمادکرو ۔  ‘‘    ( [3] ) وَالسَّلَام !

اَہل قُبرص کی شان وشوکت کہاں   گئی ؟

 ( 709 ) … حضرت سیِّدُناجُبَیْربن نُفَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ جب ’’ قُبْرُص ‘‘ فتح ہوا تو وہاں   کے باشندوں   میں   تفریق کر دی گئی ۔  وہ ایک دوسرے کویادکرکے رونے لگے ۔  میں   نے حضرت سیِّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھاکہ تنہا بیٹھے رو رہے ہیں   ۔ میں   نے عرض کی :  ’’ اے ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  آپ  کیوں   رو رہے ہیں   جبکہ آج کے دناللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسلام و مسلمانوں   کو عزت و عظمت عطا فرمائی ہے ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  افسوس اے جُبَیْر !  جب کوئی قوم اَحکاماتِ الٰہی کو ترک کر دیتی ہے تو وہ اس کے ہاں   بے وقعت ہو جاتی ہے ۔ دیکھو ! اہلِ قُبْرُصکس قدر طاقت وغلبہ والے تھے لیکن انہوں   نےاللہ عَزَّوَجَلَّکے احکامات کی نافرمانی کی تو ان کایہ حال ہوا جو تم دیکھ رہے ہو ۔  ‘‘    ( [4] )

مرضِ موت کی گفتگو :  

 ( 710 ) … حضرت سیِّدُنااسماعیل بن عُبیداللہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سَیِّدَتُنااُم دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں   کہ جب حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کون میرے اس دن کے عمل کی طرح عمل کرے گا ؟  کون میری اس گھڑی کی طرح عمل کرے گا ؟  کون میرے اس لیٹنے کی طرح عمل کرے گا ؟ پھر یہ آیت ِ مبارَکہ تلاوت فرمائی :  

وَ نُقَلِّبُ اَفْـٕدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ  ( پ۷،  الانعام :  ۱۱۰ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور ہم پھیر دیتے ہیں   ان کے دلوں  اور آنکھوں   کو جیسا وہ پہلی باراس پر ایمان نہ لائے تھے ۔  ‘‘    ( [5] )

مال جمع کرنے والے کے لئے ہلاکت :  

 ( 711 ) … حضرت سیِّدُنا فُرَات بن سلیمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ ہروہ شخص جو مال جمع کرتاہے اس کے لئے ہلاکت ہے ۔  اس کا منہ بھرا ہوا ہے گویا کہ وہ مجنون  ( یعنی پاگل )   ہے ۔  ایسے شخص کی نظراپنے مال پرنہیں   بلکہ لوگوں   کے مال پرہوتی ہے،  اگر اس کے بس میں   ہوتا تو رات دن کماتا ہی رہتا ۔ اس کے لئے سخت حساب اور دردناک عذاب کی وجہ سے ہلاکت ہے ۔  ‘‘    ( [6] )

 نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے:

 



[1]    الزہدلابی داؤد ،  باب من خبر الی الدرداء ،  الحدیث : ۲۰۱ ، ص۲۱۷.

[2]    الزہدلابن المبارک ،  مارواہ نعیم بن حماد فی نسختہ زائدا ،  باب فی الرضابالقضاء ،  الحدیث : ۱۲۳ ، ص۳۱۔

[3]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  ج۴۷ ، ص۱۶۹ ، مفہومًا۔

[4]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۶۳ ، ص۱۶۵۔

[5]    شعب الایمان للبیہقی ،  باب فی الزہدوقصرالامل ،  الحدیث : ۱۰۶۶۶ ، ج۷ ، ص۳۸۲۔

[6]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۶۹ ، ص۱۶۶۔



Total Pages: 273

Go To