Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مالدارکو لایا جائے گاجس نے مال کے معاملے میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت و فرمانبرداری کی ہوگی ۔  وہ اس حال میں   آئے گاکہ وہ آگے اوراس کا مال اس کے پیچھے ہوگا ۔  پل صراط پر جب بھی کوئی رکاوٹ آئے گی تو اس کا مال اسے کہے گا :  چلو ! چلو ! تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّکے تمام حقوق پورے کئے ہیں   ۔ پھرایک ایسے مالدار کو لایا جائے گاجس نے مال کے معاملے میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت نہ کی ہوگی ۔ وہ اس حال میں   آئے گاکہ اس کامال اس کے کندھوں   کے درمیان ہوگا وہ اسے پھسلائے گا اور کہے گا :  ’’ تیری ہلاکت ہو !  تو نے میرے معاملے میں   اللہعَزَّوَجَلَّکی اطاعت کیوں   نہ کی ؟ وہ اسی طرح کہتا رہے گا حتی کہ ہلاکت کی دعامانگے گا ۔  ‘‘  اے میرے بھائی ! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے ایک خادم خریداہے ۔ میں   نے اللہعَزَّوَجَلَّکے حبیب،   حبیب لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’  بندہ جب تک کسی خادم سے مدد نہیں   لیتا،   مسلسلاللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب پاتارہتاہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اسے اپنے قرب سے نوازتاہے اور جب وہ کسی خادم سے خدمت لیتا ہے تو اس پر اس کا حساب لازم ہو جاتا ہے ۔  ‘‘ میری زوجہ نے مجھ سے ایک خادم رکھنے کا مطالبہ کیاتھالیکن حساب کے خوف سے میں   نے اسے ناپسند جانا حالانکہ میں   ان دنوں   مالدار تھا ۔ اے میرے بھائی !  اگر ہم سے پورا پورا حساب لیا گیا تو بروزِ قیامت میرا اور تیرا مددگار کون ہوگا ؟

            اے میرے بھائی ! رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صحابی ہونے کی وجہ سے دھوکے میں   نہ رہنا ۔  بے شک ہم حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد ایک طویل عرصہ زندہ رہے ہیں   اوراللہعَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد ہمیں   کن کن حالات کا سامنا کرنا پڑاہے  ۔

بنت ِابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکانکاح :   

 ( 703 ) … حضرت سیِّدُناثَابِت بُنَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی  سے مروی ہے کہ یَزِید بن مُعَاوِیَہ نے حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ان کی صاحبزادی ’’ دَرْدَاء ‘‘  کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے رد کر دیا ۔  یزید کے ساتھیوں   میں   سے ایک نے یزیدسے کہا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّتیرابھلاکرے ! تومجھے اس لڑکی سے نکاح کرنے کی اجازت دے دے ؟  ‘‘  یزید نے کہا :  ’’  تو ہلاک ہو !  یہ ممکن نہیں   ۔  ‘‘  اس شخص نے کہا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ تیری اصلاح کرے  ! مجھے اجازت دے دے ۔  ‘‘  یزید نے اجازت دے دی ۔  چنانچہ،   اس شخص نے حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف پیغام بھیجا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی بیٹی کا نکاح اس آدمی کے ساتھ کر دیا ۔ راوی کا بیان ہے کہ ’’ یہ بات لوگوں   میں   مشہور ہو گئی کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یزید کا پیغام رد کر کے اپنی بیٹی کا نکاح ایک غریب مسلمان سے کر دیا ہے ۔  ‘‘  ( اس پر ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ میں   نے اپنی بیٹی دَرْدَاء کی بہتری سوچی ہے تم اس وقت دَرْدَاء کے بارے میں   کیا سوچتے جب ایک دنیا دار بادشاہ اس کا شوہر ہوتا اور وہ ایسے گھر میں   رہتی جس میں   اس کی نظریں   چکا چوندھ ( یعنی اندھی ) ہو جاتیں   تو کیااس کا دین سلامت رہتا ؟  ‘‘    ( [1] )

تنہائی میں   گناہ کرنے کی دنیاوی سزا :  

 ( 704 ) … حضرت سیِّدُنادَاودبن مِہْرَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : میں   بچپن میں  ایک بارحضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیَاض رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا،   سلام کیا،  آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کی آنکھیں   کھلی تھیں   اور میں   سمجھ رہا تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ مجھے ملاحظہ فرما رہے ہیں   ۔  کافی دیر آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اسی حالت میں   رہے پھر سرجھکایا اور پوچھا :  ’’ بیٹا !  تم کب سے یہاں   کھڑے ہو ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :  ’’ کافی دیر سے کھڑا ہوں   ۔  ‘‘

 آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :  ’’  ہم کسی خیال میں   تھے اور تم کسی اور خیال میں   تھے  ۔  ‘‘ پھر فرمایا :   ہمیں   حضرت سیِّدُنا  سلیمان بنمِہْرَانرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیِّدُنا سالم بن ابوالجَعْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے بیان فرمایاکہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکاارشادہے کہ ’’   بندے کو اس بات سے خوفزدہ رہنا چاہئے کہ کہیں   مسلمانوں   کے دلوں   میں   اس کی نفرت نہ ڈال دی جائے اور اسے پتا تک نہ چلے ۔  ‘‘ پھر فرمایا :  ’’ جانتے ہو ایسا کیونکرہوتاہے ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُنا سالم بن ابوالجَعْد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی :   ’’ مجھے نہیں   معلوم ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ بندہ تنہائی میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے جس کی وجہ سےاللہ عَزَّوَجَلَّ مسلمانوں   کے دلوں   میں   اس کی نفرت ڈال دیتا ہے اور اسے معلوم بھی نہیں   ہوتا ۔  ‘‘ ( [2] )

دوست اوردوستی کے آداب :  

 ( 705 ) …  حضرت سیِّدُنالقمان بن عامرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِرسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تیرادوست تجھ پر عتاب کرے یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ تجھ سے دور رہے ۔ تیرے دوست سے بڑھ کرکون تیراخیرخواہ ہوگا ۔ اپنے دوست کے سوال کوپوراکر اور اس کے معاملے میں   نرمی اختیارکر اور اس کے بارے میں   کسی حاسد کی بات پہ یقین نہ کرورنہ تو بھی اسی کی مثل اپنے دوست سے حسد کرنے لگے گا ۔ پھر کل جب تیری موت آئے گی تو وہ تجھ سے منہ پھیر لے گااور تم اس کی موت کے بعد کیوں   روتے ہو جبکہ زندگی میں   اس سے ملنا بھی گوار ا نہیں   کرتے تھے ۔  ‘‘    ( [3] )

قبروحشرکاخوف :  

 



[1]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۶۱ ، ص۱۶۵۔

[2]    الزہدلابی داؤد ،  باب من خبر الی الدرداء ،  الحدیث : ۲۲۰ ، ج۱ ، ص۲۳۶ ، مختصرًا۔

[3]    الزہدلابی داؤد ،  باب من خبر الی الدرداء ،  الحدیث : ۲۵۱ ، ص۲۶۷ ، بتغیرٍ۔



Total Pages: 273

Go To