Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

صرف ہو رہی ہے ۔  میں   تمہارے علماکودنیا سے رخصت ہوتے دیکھ رہا ہوں   اوریہ بھی دیکھ رہاہوں   کہ تمہارے بے علم ،  علم حاصل نہیں  کرتے ۔ تم رزق کی تلاش میں   اپنی آخرت بھولے بیٹھے ہو ۔ سنو !  ایک قوم نے مضبوط محلات تعمیر کئے ۔  کثیر مال اکٹھا کیا اور لمبی لمبی امیدیں   باندھیں   مگر وہی محلات ان کی قبروں  میں   تبدیل ہو گئے ۔ ان کی امیدوں   نے انہیں   دھوکے میں   ڈالا اور ان کا مال ضائع ہوگیا ۔  خبردار !  علم حاصل کرو کیونکہ علم سکھانے اورسیکھنے والا اجر میں   برابرہیں   اوران دونوں   کے علاوہ کسی شخص میں   بھلائی نہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 696 ) … حضرت سیِّدُناقُرَّہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اے لوگو !  علم حاصل کرلواس سے پہلے کہ علم اٹھ جائے ۔  بے شک علما کے جانے سے علم اٹھ جاتا ہے اور علم سیکھنے اورسکھانے والادونوں   اجرمیں   برابرہیں   ۔ بے شک سمجھدارلوگ دو قسم کے ہیں :  ( ۱ )  علم سکھانے والے  ( ۲ )  علم سیکھنے والے،   ان کے علاوہ کسی میں   بھلائی نہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 697 ) … حضرت سیِّدُنا ابو وَا ئِل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اے لوگو !  میں   تمہیں   کبھی ایسی بات کا حکم دیتا ہوں   جس پر خود عمل نہیں   کرتا لیکن امید ہے کہ میں   اس پر اجر پاؤں   گا ( یعنی میرے بتانے سے تم عمل کروگے تومجھے بھی ثواب ملے گا )  ۔  ‘‘    ( [3] )

تقویٰ بغیرعِلم اورعِلم بغیرعمل کے کامل نہیں  :

 ( 698 ) … حضرت سیِّدُناضَمْرَہ بن حَبِیبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کوئی اس وقت تک متقی نہیں   بن سکتا جب تک عالم نہ بن جائے اوراس وقت تک علم سے آراستہ نہیں   ہوسکتا جب تک اپنے علم پر عمل نہ کرے ۔  ‘‘    ( [4] )

سب سے زیادہ خوف زدہ کرنے والی بات :  

 ( 699 ) … حضرت سیِّدُنا حُمَیْد بن ہِلَال رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرمایاکرتے تھے :   مجھے سب سے زیادہ اس بات سے خوف آتاہے کہ قیامت کے دن جب میں   حساب کے لئے کھڑا ہوں   تو مجھ سے کہا جائے: ’’ تم نے علم توحاصل کیا لیکن علم پرکیوں   عمل نہ کیا ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 700 ) … حضرت سیِّدُنا حَوْشَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  مجھے سب سے زیادہ اس بات کا خوف ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے فرمایا جائے :  ’’  اےعُوَیْمِر !  تم نے علم حاصل کیا یا جاہل رہے ؟  ‘‘  اگر میں   نے عرض کی کہ علم حاصل کیا ہے ۔ تو پھرمجھ سے حکم اور ممانعت والی ہرآیت ِ قرآنی کے متعلق پوچھ گَچھ کی جائے گی کہ ’’   کیاتونے حکم اور ممانعت والی آیت پر عمل کیا ؟  ‘‘  میں  اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگتا ہوں   ایسے علم سے جو نفع نہ دے،   ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعاسے جو مقبول نہ ہو ۔  ‘‘  ( [6] )

 ( 701 ) … حضرت سیِّدُنالقمان بن عامرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِرسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  مجھے سب سے زیادہ اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں   بروزِ قیامت تمام مخلوق کے سامنے مجھ سے یہ سوال نہ کرلیا جائے کہ ’’   اے عُوَیْمِر !  کیا تونے علم حاصل کیا ؟  ‘‘ مَیں  ہاں  میں   جواب دوں   توپھر پوچھا جائے کہ ’’   اپنے علم پر کہاں   تک عمل کیا؟  ‘‘   ( [7] )

خط کے ذریعے نیکی کی دعوت :  

 ( 702 ) … حضرت سیِّدُنامَعْمَررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے ایک دوست سے راویت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوایک خط لکھاکہ اے میرے بھائی !  اپنی صحت و فراغت کوغنیمت جانواس سے پہلے کہ تم پر ایسی مصیبت نازل ہو جس کو مخلوق دور نہ کرسکے اور مصیبت زدہ کی دعا کو غنیمت سمجھو ۔  ( [8] )اے میرے بھائی !  مسجد کو  ( عبادت کے لئے  ) اپنا گھر بنالوکیونکہ میں   نے رسولِ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’  مسجد ہر متقی کا گھر ہے ۔  ‘‘ اور جو لوگ مساجد کو اپنا گھربنالیتے ہیں   اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان سے راحت وآرام اور پل صراط سے سلامتی کے ساتھ گزار کر اپنی رضا تک پہنچانے کا وعدہ فرمایا ہے ۔  اے میرے بھائی !  یتیم پر رحم کرو،   اسے اپنے قریب کرو اور اپنے کھانے میں   سے اسے کھلاؤکیونکہ ایک بارکسی شخص نے بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   قَسَاوَتِ قلبی ( یعنی دل کی سختی ) کی شکایت کی تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’  کیا تم اپنے دل کونرم کرنا چاہتے ہو ؟  ‘‘ عرض کی :  ’’ جی ہاں   ۔  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ یتیم کو اپنے قریب کرو،  اس کے سرپرہاتھ پھیرواوراپنے کھانے میں   سے اسے کھلاؤکہ یہ چیزیں   دل کو نرم کرتی اور حاجات کے پورا ہونے کابھی ذریعہ ہیں   ۔  ‘‘

          اے میرے بھائی ! اتنامال اکٹھانہ کروجس کاشکر ادانہ کرسکو ۔ بے شک میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’   قیامت کے دن ایک ایسے



[1]    القصاص والمذکرین ، ص۲۲۲۔

[2]    سنن الدارمی ،  باب فی فضل العلم والعالم ،  الحدیث : ۲۴۶ / ۲۴۵ج۱ ، ص۹۰۔الحدیث۳۲۷ ،  ص۱۰۷۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  باب کلام ابی الدرداء ،  الحدیث : ۱۲ ، ج۸ ، ص۱۶۸۔

[4]    سنن الدارمی ،  باب من قال العلم الخشیۃ وتقوی اللہ ،   الحدیث : ۲۹۳ ، ج۱ ، ص۱۰۰ ، مفہومًا

[5]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  باب کلام ابی الدرداء ،  الحدیث : ۱۹ ، ج۸ ، ص۱۶۹۔

[6]    الزہدلابی داؤد ،   باب من خبر ابی الدرداء ،  الحدیث : ۲۱۵ ، ج۱ ، ص۲۳۱ ، مفہومًا۔

[7]

Total Pages: 273

Go To