Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 681 ) … حضرت سیِّدُنامِسْعَررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناقاسم بن محمدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَدنے فرمایا :  ’’ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شمار ان لوگوں   میں   ہوتا ہے جنہیں   علم عطا کیا گیا ۔  ‘‘    ( [1] )

دشمن سے درگزر :  

 ( 682 ) … حضرت سیِّدُناشُرَیْح بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو مخاطب کر کے کہا :  ’’  اے قراء کے گروہ !  کیا بات ہے تم ہم سے بھی زیادہ بزدل ہو،   جب تم سے کسی چیزکا سوال کیاجاتاہے تواس وقت بخیل بن جاتے ہو اور کھانے کے دوران بڑے بڑے لقمے منہ میں  ڈالتے ہو ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی اورنہ ہی کوئی جواب دیا ۔ یہ خبرجب  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو پہنچی تو انہوں   نے حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے اس کے متعلق دریافت فرمایاتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس شخص کے لئے دعائے مغفرت کی،   پھر کہا :  ’’ اے عمر ! کیا ہم لوگوں   سے جوکچھ بھی سنیں   اس پر ان سے جھگڑاکریں   ؟  ‘‘ اس کے بعدامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس شخص کے پاس گئے اوراسے گریبان سے پکڑکرحضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   لے آئے ،   اس شخص نے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی :   ’’ میں   نے تو مذاق کے طور پر ایسا کہا تھا ۔  ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے محبوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف وحی فرمائی :  

وَ لَىٕنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُؕ- ( پ۱۰،  التوبۃ: ۶۵ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور اے محبوب اگر تم ان سے پوچھو تو کہیں   گے کہ ہم تو یونہی ہنسی کھیل میں   تھے ۔  ( [2] )

جاہل وبے عمل کے لئے ہلاکت :  

 ( 683 ) … حضرت سیِّدُنا مَیْمُون بن مِہْرَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ ہلاکت ہے اس جاہل کے لئے جو علم حاصل نہیں   کرتااور اگراللہ عَزَّوَجَلَّچاہتا تو اسے علم عطا فرما تا اورہلاکت ہے اس عالِم کے لئے جواپنے علم پر عمل نہیں   کرتا ۔  ‘‘ یہ بات آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے سات مرتبہ ارشاد فرمائی ۔    ( [3] )

 ( 684 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو قِلَابَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم اس وقت تک کامل فقیہ نہیں   بن سکتے جب تک قرآن مجیدکومختلف وجوہ سے سمجھ نہ لو اور تم اس وقت تک کامل فقیہ نہیں   بن سکتے حتی کہ لوگوں  کواللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے براسمجھو ۔ پھراپنے نفس کودیکھوتواسے لوگوں   سے بڑھ کربرا سمجھو ۔  ‘‘    ( [4] )

عالم کی نشانی :  

 ( 685 ) … حضرت سیِّدُنا لقمان بن عامر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَافِر سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  زندگی میں   نرمی وآسانی آدمی کے عالِم ہونے کی علامت ہے ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 686 ) … حضرت سیِّدُنا شَرِیک بن نَہِیک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اہلِ علم حضرات کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا،   چلناپھرنااوران کی مجالس میں   شریک ہونا آدمی کے عالِم ہونے کی علامت ہے  ۔  ‘‘    ( [6] )

عالم وجاہل کی عبادت میں   فرق :  

 ( 687 ) … حضرت سیِّدُناابوسَعِیدکِنْدِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  عقلمندوں   ( یعنی علم والوں   )  کے کھانے پینے اورسونے کی بھی کیابات ہے کہ بے وقوفوں   ( یعنی جاہلوں   ) کی شب بیداری اور روزے بھی ان کے سامنے عیب دارہوجاتے ( یعنی ناقص رہ جاتے )  ہیں  اور صاحبِ تقویٰ و یقین کی ذرا سی نیکی جاہلوں   کی پہاڑوں   جیسی عبادت سے افضل اوربہترہے ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 688 ) … حضرت سیِّدُنا ابوہَیْثَمرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم لوگوں   کو ان باتوں   کا مکلف نہ بناؤ جن کاانہیں   مکلف نہیں   بنایا گیااور حساب و کتاب کا معاملہاللہ عَزَّوَجَلَّ پرچھوڑ دو ۔  اے ابن آدم ! تم پر اپنے نفس کا محاسبہ لازم ہے کیونکہ جوکسی کی ٹوہ میں   رہتا ہے اس کاغم طویل ہو جاتا  ہے اور اس کاغصہ ٹھنڈا



[1]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الفضائل ،  باب ما ذکر فی ابی الدرداء ،  الحدیث : ۱ ، ج۷ ، ص۵۳۵۔

[2]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ، ج۴۷ ، ص۱۱۹۔

[3]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہد ابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۶۴ ، ص۱۶۶ ، مختصرًا۔

[4]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۱۳ ، ص۱۵۹۔

[5]    المسندللامام احمدبن حنبل ،  حدیث ابی الدرداء ،  الحدیث : ۲۱۷۵۴ ، ج۸ ، ص۱۶۳۔

[6]    التاریخ الکبیرللبخاری ،  باب الشین ،  باب شریک ،  الحدیث : ۲۶۵۳ ، ج۴ ، ص۲۰۰ ، بتغیرٍ۔