Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

وقت یادر کھے گا اور جب کوئی دنیاوی چیز تمہیں   اچھی لگے تواسے اختیار کرنے سے پہلے اس کا انجام سوچ لینا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 673 ) … حضرت سیِّدُنا سالم بن ابُوالْجَعْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ کھیتی باڑی میں   مصروف دو بیل حضرت سیِّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے سامنے سے گزرے  ۔  ان میں   سے ایک ٹھہراتودوسرا بھی رُک گیا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اس میں   بھی انسان کے لئے عبرت ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

جذبۂ عبادت وترکِ تجارت :  

 ( 674 ) … حضرت سیِّدُناعَمروبن مُرَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو در داء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جب حضورنبی ٔکریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت ہوئی اس وقت میں   تجارت کیا کرتا تھا ۔ میں   نے کوشش کی کہ میری تجارت بھی باقی رہے اور میں   عبادت بھی کرتارہوں   لیکن ایسانہ ہوسکا ۔ بالآخر میں   تجارت کوچھوڑ کر عبادت میں   مشغول ہوگیا ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   ابودَرْدَاء کی جان ہے ! اگر مسجد کے دروازہ پر میری دکان ہو اورمیں   یومیہ اس سے40 دینار کما کر راہِ خدا میں   صدقہ کروں   اور میری نمازوں   میں   بھی اس سے خلل واقع نہ ہو پھر بھی میں   تجارت کرنا پسند نہیں   کروں   گا ۔   ‘‘ کسی نے عرض کی: ’’ اے ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ! آپ تجارت کو اس قدر ناپسند کیوں   جانتے ہیں   ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’  حساب کی شدّت کے خوف کی وجہ سے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 675 ) … حضرت سیِّدُناخَیْثَمَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بعثت سے پہلے میں   تجارت کیاکرتا تھا ۔ جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اعلان نبوت فرمایا تو میں   نے عبادت و تجارت کو جمع کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ۔ پھرمیں    تجارت ترک کرکے عبادت میں   مشغول ہو گیا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 676 ) … حضرت سیِّدُنا ابو عبد ِرَبّ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مجھے یہ پسند نہیں   کہ مسجد کے دروازے پر میری دکان ہواورمیں   یومیہ اس سے 300 دینا رکماؤں   اور تمام نمازیں   بھی مسجد میں   باجماعت ادا کروں   ۔ میں  یہ نہیں   کہتا کہاللہ عَزَّوَجَلَّنے خریدو فروخت کو حلال اور سود کوحرام قرار نہیں   دیابلکہ میں   یہ پسند کرتا ہوں   کہ میراشمار ان لوگوں   میں   ہو جنہیں   بیع و تجارت ذکرالٰہی سے غافل نہیں   کرتی ۔  ‘‘    ( [5] )

بے مثال جنتی نعمتیں :

 ( 677 ) … حضرت سیِّدُنا عَوْف بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  : ’’ میں   نے خواب میں   ایک گندمی رنگ کاقبہ  ( یعنی گنبد ) اور سبز چراگاہ دیکھی اور اس قبہ کے اِردگرد بکریوں   کو چَرتے دیکھاتوپوچھا :  ’’  یہ کس کے لئے ہے ؟  ‘‘  جواب ملا :  ’’  یہ عبدالرحمن بن عَوف کے لئے ہے ۔  ‘‘  راوی کہتے ہیں :  ’’ کچھ دیر بعدحضرتِ سیِّدُنا عبد الرحمنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خود اس قبہ سے نکلے اور مجھ سے کہا :   ’’ اے عَوْف ! اللہ عَزَّوَجَلَّنے یہ ہمیں   قرآنِ مجید کی تلاوت کے اجرمیں   عطا فرمایا ہے اور اگر تم اس ٹیلے پرچڑھ کردیکھو تو وہاں  ایسی ایسی نعمتیں  پاؤگے کہ ان کی مثل نہ تمہاری آنکھوں   نے کبھی دیکھیں  ،  نہ تمہارے کانوں   نے کبھی ان کا تذکرہ سنااور نہ ہی تمہارے دِ ل پرکبھی ان کا خیال گزرا ہے اور یہ سباللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سیِّدُناابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے لئے تیارکی ہیں   کیونکہ انہوں   نے دنیا کو ان راحتوں   کے لئے چھوڑ دیا ۔  ‘‘    ( [6] )

عمل میں   سستی کاایک سبب :  

 ( 678 ) … حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جو کھانے پینے کی نعمت کے علاوہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی نعمتوں  کونہیں   پہچانتااس کاعمل تھوڑا ہوجاتاہے اور اُسے تکالیف کا سامنارہتا ہے ( [7] )اور جو دنیاکے پیچھے بھاگتا ہے دنیا اس کے ہاتھ نہیں   آتی ۔  ‘‘    ( [8] )

 ( 679 ) … حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی کتنی ہی نعمتیں   ایک ساکن  ( یعنی ٹھہری ہوئی )  رَگ میں   پوشیدہ ہوتی ہیں   ۔  ‘‘    ( [9] )

 ( 680 ) … حضرت سیِّدُناحسان بن عَطِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  جب تک تم نیک لوگوں   سے محبت رکھوگے بھلائی پر رہو گے اور تمہارے بارے میں   جب کوئی حق بات بیان کی جائے تواسے مان لیاکروکہ حق کو پہنچاننے والا اس پر عمل کرنے والے کی طرح ہوتا ہے ۔  ‘‘    ( [10] )

 



[1]    سیراعلام النبلاء ،  الرقم ۱۶۴ ، ابو الدرداء ، ج۴ ، ص۲۲۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  باب کلام ابی الدرداء ،  الحدیث : ۲۰ ، ج۸ ، ص۱۶۹۔

[3]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ، ج۴۷ ، ص۱۰۸۔

[4]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  باب کلام ابی الدرداء ،  الحدیث : ۳۰ ، ج۸ ، ص۱۷۲۔

[5]    الزہد للامام احمد بن حنبل ،  باب زہد ابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۳۵ ، ص۱۶۲۔

[6]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۱۴ ، ص۱۵۹