Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کتاب اللہ کی بقا ہے تو کتاب اللہکے سبب ان کی بقا  ۔ کتاب اللہ نے ان کا ذکر کیا توانہوں   نے کتاب اللہ کو عام کیا ۔ انہیں   سے کتاب اللہ کو سیکھا جاتا ہے اور وہ کتاب اللہ کے مطابق عمل کرتے ہیں   ۔  انہیں   جو عطا  کردیا جائے اسی پر اِکتفا کرتے اور مزید عطیے کی خواہش نہیں   کرتے  ۔ وہ کسی کی امان پر بھر وسا نہیں   کرتے بلکہاللہ عَزَّوَجَلَّسے امید رکھتے ہیں   ۔ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے سواکسی اورسے نہیں   ڈرتے ۔  ‘‘    ( [1] )

اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام کی نرالی زیب وزینت:

             ( ۸ ) اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام دھوکا دینے والی آنکھ سے دنیا کودیکھتے رہنے سے پرہیز کرتے اور اپنے محبوب کی بنائی ہوئی چیز وں   کونگاہِ فکروعبرت سے دیکھتے ہیں    ۔ چنانچہ،   

 ( 20 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان فرماتے ہیں   کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت سیِّدُناموسیٰ وحضرت سیِّدُناہارونعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو فر عون کی طرف بھیجا توارشاد فرمایا :  ’’ جو لباس میں   نے اسے پہنایا ہے وہ تمہیں   دھوکے میں   نہ ڈال دے کیونکہ اس کی پیشانی میرے قبضۂ قدرت میں   ہے  ۔ وہ میری اجازت کے بغیر نہ بول سکتاہے اور نہ ہی پلک جھپک سکتاہے ۔  اور تمہیں   اس کی دنیاوی ناجائز زیب وزینت بھی دھوکے میں   مبتلا نہ کر دے اس لئے کہ اگرمیں   دنیاوی زینت کے ساتھ تمہیں   مزین کرنا چاہتا توفرعون جان لیتاکہ وہ ایسی زینت اختیار کرنے سے عاجز ہے اور تمہاری یہ حالت اس وجہ سے نہیں   کہ تمہاری میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں   لیکن میں   تمہیں   بزرگی کا لباس پہنانا چاہتا ہوں  جو تمہارا نصیب ہے تاکہ دنیا تمہارے آخرت کے حصہ میں   کچھ کمی نہ کرسکے ۔  میں   اپنے اولیا کو دنیاسے اس طر ح بچاتا ہو ں  جس طر ح چرواہا اپنے تندرست او نٹو ں   کو خارشی اونٹوں   کے باڑے میں   جانے سے بچاتاہے او رانہیں   دنیا کی تر وتا زگی سے اسی طر ح دور رکھتا ہوں   جس طرح چرواہا اپنے اونٹوں   کو ہلاک کر دینے والی چراگاہ سے دوررکھتاہے اورمیں   اس کے ذریعے ان کے مراتب کو منور کرنے  ( بڑھانے )  اور ان کے دلوں  کودنیاسے پاک رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں   ۔ انہی نشانیوں   کے ذریعے وہ پہنچا نے جاتے اور اسی چیز کے سبب فخر کرتے ہیں   ۔ اے موسیٰ  ( عَلَیْہِ السَّلَام ) جان لو !  جس نے میرے کسی ولی کو ڈرایا اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا اور بروزِ قیامت میں  اپنے اولیا کا انتقام لینے والا ہوں    ۔   ‘‘    ( [2] )

 ( 21 ) … حضرت سیِّدُناعبدالصَّمَدبن معقل رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ میں   نےحضرت سیِّدُناوَہب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوفرماتے ہوئے سنا :  جب اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضرت سیِّدُناموسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ا ور ان کے بھائی حضرت سیِّدُناہارو نعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّـلَامکو فرعون کی طرف بھیجا توارشادفرمایا :   ’’ تمہیں   اس کی دنیاوی زیب و زینت اور لطف اندوز ہونے کی چیز یں   تعجب میں   نہ ڈالیں   او ر نہ تم ان چیزوں   کی طر ف توجہ دیناکیونکہ وہ دنیا داروں   اورسرمایہ داروں   کی زینت ہے  ۔  اگر میں   دنیاوی زینت کے ساتھ تمہیں   مزین کرنا چاہتا تو فرعون اسے دیکھ کر جان لیتا کہ اس قسم کی زینت اس کے بس میں   نہیں   تومیں   ایساکرسکتاہوں  لیکن میں   تمہیں   دنیاسے بچانااوردنیاکوتم سے دوررکھنا چاہتا ہوں   ۔  اور میں   اپنے ولیوں   کے ساتھ ایساہی کرتا ہوں  اور پہلے بھی میں   نے ان کے لیے اسے پسند نہیں   کیا بلکہ انہیں   دنیا کی نعمتوں   اورآسائشوں   سے اس طر ح بچا تا ہوں   جس طر ح مہربان چرواہا اپنی بکریوں   کو ہلاک کر دینے والی چراگاہ سے بچاتا ہے اور میں   انہیں   دنیا کی رنگینیوں   اور عیش وعشرت سے اس طر ح دور رکھتا ہوں   جس طرح مہربان چرواہا اپنے اونٹوں   کو خارش زدہ اونٹو ں   سے دور رکھتا ہے اور یہ اس وجہ سے نہیں   کہ ان کی میرے نزدیک کوئی وقعت نہیں   بلکہ اس وجہ سے کرتاہوں   کہ وہ میری کرامت سے پورا پورا حصہ وصول کریں  اور اس میں   نہ دنیا کوئی کمی لاسکے اور نہ ہی خواہشات کوئی کمی کر سکے  ۔  اور جان لو  !  بندوں   کے لئے میرے نزدیک ترک دنیا سے بڑھ کر کوئی زینت نہیں   کیونکہ یہ  ( ترکِ دُنیا )  متقین کی زینت ہے اور ان پر ایسا لباس ہوتا ہے جس کے ساتھ ان کا سکون وخشوع پہچانا جاتا ہے ۔ ان کی علامت ان کے چہرو ں  میں   سجدو ں   کے نشان ہیں   ۔ یہی میرے سچے دوست ہیں   ۔ جب تم ان سے ملو تو ان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور دل و زبان کوان کے تابع بنادو ۔

            اورجان لو ! جس نے میرے کسی دوست کی اہانت کی یااسے خوفزدہ کیااس نے مجھ سے اعلان جنگ کیا ،  میرے ساتھ دشمنی کی،   اپنے آپ کو میرے مقابل پیش کیا اورمجھے لڑائی کی طر ف بلایا ۔ میں   اپنے دوستوں   کی مدد کرنے میں   جلدی کرتا ہوں   تو جس نے مجھے جنگ کے لئے بلایاکیا اس کاخیال ہے کہ وہ میرے سامنے ٹھہرسکے گا  ؟  جس نے مجھ سے دشمنی کی کیا وہ سمجھتا ہے کہ مجھے عا جز کر دے گا ؟  جس نے مجھ سے اعلان جنگ کیا وہ سمجھتاہے کہ مجھ سے بڑھ جائے گایابچ جائے گا ؟ یہ کیونکر ممکن ہوگاجبکہ میں   اپنے دوستوں  کا دنیاوآخرت میں   خود انتقام لیتاہوں   ۔ ا ن کی مددکسی کے سپرد نہیں   کرتا ۔  ‘‘    ( [3] )

            حضرت سیِّدُنااسماعیل بن عیسیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی روایت کردہ حدیث میں  اتنا زائد ہے کہ ’’  اے موسیٰ  ( عَلَیْہِ السَّلَام )   ! جان لو !  بے شک میرے اولیا وہ ہیں   جن کے دل میرے خوف سے کا نپتے ہیں   اور وہ خوف ان کے لباس میں   اورجسموں   پر عیاں   ہے  ۔  وہ ایسی کوشش کرتے ہیں   جس کے سبب وہ قیامت کے دن کامیاب ہوں   ۔  وہ لوگ اپنی موت کو یاد رکھتے او ر اپنی نشانیوں   سے پہچانے جاتے ہیں   پس جب تم ان سے ملو تو ان کے سامنے عاجزی اختیار کرو ۔  ‘‘

اَبدال کون ہیں   ؟

 ( 22 ) … حضرت سیِّدُنامحمدبن عبدالملک رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا عبدا لباری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِی نے فرمایا :   میں   نے حضرت سیِّدُناذوالنون مصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے عرض کی :  ’’  مجھے ابدال کی صفات بتائیے !  ‘‘ انہوں   نے فرمایا :   ’’ تم نے مجھ سے شدید تاریکیوں   کے بارے میں   پوچھاہے ۔  لیکن اے عبد الباری !  میں   تیرے سامنے ضروران سے پردہ ہٹاؤں   گا ۔  ( چنانچہ سنو !  )   ابدال وہ لوگ ہیں   جواللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت و جلال کی معرفت رکھتے،   دل سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی تعظیم اور اس کا ذکر کرتے ہیں   ۔ یہاللہعَزَّوَجَلَّ



[1]    موسوعۃ لابن ابی الدنیا  ،  کتاب الاولیاء  ،  الحدیث : ۱۸ ، ج۲ ، ص۳۹۱۔

[2]    الزھد للامام احمد بن حنبل ،  اخبار موسٰی ،  الحدیث  ۳۴۱ ، ص۹۹۔

[3]    موسوعۃ لابن ابی الدنیا  ،  کتاب الاولیاء ،  الحدیث : ۱۵۵ ، ج۲ ، ص۴۲۳۔

  الزھدللامام احمدبن حنبل ،  اخبارموسیٰ ،  الحدیث : ۳۴۲ ، ص۹۹۔تفصیلاً۔



Total Pages: 273

Go To