Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ہوجاتاہے ۔  ‘‘    ( [1] )

وصال پُرملال :  

 ( 666 ) … حضرت سیِّدُناسعید بن مَعْرُوف اورحضرت سیِّدُناسعیدبن سُوْقَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَافرماتے ہیں :  ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پیٹ کی تکلیف میں   مبتلا ہوئے تو ہم ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے اور کافی دیر تک ان کے پاس بیٹھے رہے ۔ یہ بات ان پرشاق گزری تواپنی زوجہ سے فرمایا:  ’’ وہ خوشبو کہاں   ہے جومیں   ( روم کے شہر )  ’’ بَلَنْجَر ‘‘  سے لایا تھا ؟   ‘‘ زوجہ نے وہ خوشبو حاضر کی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اسے پانی میں   ملا کر میرے بستر کے اِردگرد چھڑک دوکیونکہ اب میرے پاس وہ قوم آنے والی ہے جو نہ جن ہے نہ انسان ( بلکہ فرشتے ہیں   )  ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ نے ایسا ہی کیااور ہم وہاں   سے چلے آئے  ۔ جب دوبارہ وہاں   گئے تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر چکی ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 667 ) … حضرت سیِّدُنا امامشَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہبُقَیْرَہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا   فرماتی ہیں :  ’’ جب حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی وفات کاوقت قریب آیا تو اس وقت وہ چار دروازوں   والے کمرہ میں   تھے مجھے بلاکرفرمایا :  ’’  ایبُقَیْرَہ !  دروازے کھول دو کیونکہ آج ملاقاتی آنے والے ہیں   اور مجھے نہیں   معلوم کہ وہ کس دروازے سے اندر داخل ہوں   گے ۔  ‘‘  پھر خوشبو منگوائی اور فرمایا :  ’’  اسے پانی میں   ملا کر میرے بستر کے اِردگرد چھڑک دو ۔  ‘‘ میں   نے ایسا ہی کیاپھرفرمایا :  ’’  اب میرے پاس سے چلی جاؤکچھ دیر بعد آنا ۔  ‘‘ پھر میں   نے تھوڑی دیر کے بعد جا کر دیکھا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر چکی تھی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بستر پر یوں   لیٹے ہوئے تھے جیسے سو رہے ہوں   ۔  ‘‘    ( [3] )

حضرت سَیِّدُناابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

             ہجرت میں   سبقت لے جانے والوں   میں   حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ غور وفکرِ کرنے والے ،  عارِف،  وعظ و نصیحت کرنے والے عالِم،   نعمتیں   عطافرمانے والے رب ذوالجلال عَزَّوَجَلَّ اور اس کی نعمتوں    ( کے حق )  کوپہچاننے والے،  خوشی ورنج میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تخلیق کردہ اشیاء میں   غورو فکر کرنے والے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو عبادت سے اس قدر محبت تھی کہ عبادت کے شوق اور حساب کی شدت کے خوف سے تجارت کو ترک فرما دیا ۔ عمل پر ہمیشگی اختیار کرنے والے،  قرب الٰہی کے مشتاق،   دنیاوی غموں   کی پرواہ نہ کرنے والے تھے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّنے ان کے لئے فہم کے دروازے کھول دئیے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ علم و حکمت کو جاننے والے تھے ۔

            اَہلِ تَصَوُّف فرماتے ہیں : ’’ بلندیاں  عطافرمانے والے کے شوقِ دیدار ومحبت میں   مشقتیں   برداشت کرنے کا نام تَصَوُّف ہے ۔  ‘‘

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی فکرِآخرت :  

 ( 668 ) … حضرت سیِّدُناعَوْن بن عبداللہبن عُتْبَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ’’ میں   نے حضرت سیِّدَتُنا اُم دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے پوچھاکہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا کون سا عمل افضل تھا ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا :  ’’  فکرِ آخرت کرنا اور عبرت حاصل کرنا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 669 ) … حضرت سیِّدُناعَوْن بن عبداللہبن عُتْبَہ  رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدَتُنا اُم دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا گیاکہ ’’ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کون سا عمل کثرت سے کرتے تھے ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا :  ’’ عبرت حاصل کرنا ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 670 ) … حضرت سیِّدُنا سالم بن ابُوالْجَعْد رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنا ام دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا گیاکہ ’’   حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا کون سا عمل افضل تھا ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا :   ’’  ( آخرت کے معاملے میں   ) غوروفکر کرنا ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 671 ) … حضرت سیِّدُنامَعْدَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  ( آخرت کے معاملات میں   )  لمحہ بھر غور و فکر کرنا ساری رات کی  ( نفلی ) عبادت سے بہتر ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  کی نصیحت :  

 ( 672 ) … حضرت سیِّدُناحَبِیب بن عبد اللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ ایک شخص جنگ میں   روانگی سے قبل حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا اور عرض کی :  ’’ اے ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  مجھے وصیت فرمائیے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’  تم خوشی کی حالت میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کو یادرکھو وہ تمہیں   تمہاری مصیبت وتنگی کے



[1]    شعب الایمان للبیہقی ،  باب التوکل والتسلیم ،  الحدیث : ۱۲۲۰ ، ج۲ ، ص۸۳۔

[2]    تاریخ مدینۃ د مشق لابن عساکر ،  الرقم ۲۵۹۹سلمان بن الاسلام ابوعبداللہ الفاری ، ج۲۱ ، ص۴۵۷۔

[3]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد ،  الرقم۳۵۹سلمان الفارسی ، ج۴ ، ص۶۹۔

[4]    الزہد للامام احمد بن حنبل ،   زہدابی الدرداء ،  الحدیث : ۷۲۰ ، ص۱۶۰۔