Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

قیام پزیر ہوئے اور اس سے پوچھا :   ’’ کیا یہاں   نماز پڑھنے کے لئے کوئی پاک جگہ ہے ؟  ‘‘  اس نے کہا :  ’’  پہلے اپنے دل کو پاک کرو ۔  ‘‘  پھر دونوں  میں   سے ایک نے دوسرے سے کہا :  ’’ کافرکے دل سے نکلی ہوئی حکمت کی بات لے لو ۔  ‘‘    ( [1] )

نماز کے لئے انفرادی کوشش :  

 ( 660 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حصہ میں   ایک لونڈی آئی،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے فارسی زبان میں   فرمایا :   ’’ نماز اداکرو ۔  ‘‘  اس نے انکار کیا ۔ پھرفرمایا :   ’’ اے خاتون !  ایک سجدہ ہی کر لے ۔  ‘‘  اس نے اس سے بھی انکار کر دیا ۔  توکسی نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے دریافت کیا کہ ’’ اے ابوعبداللہ !  ایک سجدے سے اس کو کیا فائدہ پہنچناتھا ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ اگر یہ ایک سجدہ ہی کر لیتی تواس کو پانچوں   نمازوں   کی توفیق مل جاتی اورجس کا اسلام میں   کچھ حصہ ہو وہ اس سے بہتر ہے جس کا اسلام میں   کوئی حصہ نہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

مومن وکافرکی آزمائش میں  فرق :  

 ( 661 ) … حضرت سیِّدُناسعید بن وَہْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے ایک دوست کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جو ’’  کِنْدَہ  ‘‘ سے تعلق رکھتاتھا ۔ میں   بھی ان  کے ساتھ تھا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس سے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے مومن بندے کومصیبت وآزمائش میں   مبتلا فرماتا ہے ۔  پھراسے اس سے نجات عطافرماتاہے تویہ اس کے گذشتہ گناہوں   کا کفارہ ہوجاتا ہے اوروہ مومن بندہ آئندہ کے لئے محتاط ہو جاتا  ( یعنی نافرمانیوں   سے باز آجاتا ) ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کافر کو بھی آزمائش میں   مبتلا کرتا اور پھراسے عافیت بخشتا ہے لیکن وہ اس اُونٹ کی طرح ہوتا ہے جسے باندھا اور کھولا جاتاہے جبکہ وہ نہیں   جانتا کہ اسے باندھا کیوں  گیا اور کھولاکیوں   گیا ۔  ‘‘    ( [3] )

مومن کی مثال :  

 ( 662 ) … حضرت سیِّدُناابوسعید وَہْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   مومن کی مثال دنیامیں   اس مریض کی طرح ہے جس کا طبیب ہروقت اس کے ساتھ رہتا ہے ۔  اس کی بیماری کو بھی جانتا اور اس کے علاج سے بھی باخبرہوتاہے ۔ جب وہ مریض کسی نقصان دِہ چیز کی خواہش کرتا ہے تو اسے روک دیتا اور کہتا ہے :  ’’ اس چیزکے قریب نہ جانا،   اگر تم اس تک گئے تووہ تمہیں   ہلاک کردے گی ۔  ‘‘ وہ طبیب اس مریض کو مسلسل نقصان دِہ اشیاء سے بچنے کی تلقین کرتارہتاہے یہاں   تک کہ وہ ان چیزوں   سے پرہیزکرنے کی وجہ سے صحت یاب ہوجاتاہے ۔ اسی طرح مومن کُفَّار کو عیش کرتا دیکھ کر بہت سی چیزوں  کی خواہش کرتا ہے لیکناللہ عَزَّوَجَلَّ اسے ان چیزوں   سے بازرہنے کاحکم فرماتا اوراسے ان چیزوں   سے روک دیتا ہے یہاں   تک کہ اسے موت دے کر جنت میں   داخل فرما دیتا ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

3 چیزیں   رُلاتی اور3ہنساتی ہیں :

 ( 663 ) … حضرت سیِّدُناجَعْفَربن بُرْقَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  مجھے 3 چیزیں   ہنساتی اور3رُلاتی ہیں   ۔ ہنسانے والی 3چیزیں   یہ ہیں : تعجب ہے اس شخص پرجو دنیاسے امیدیں   باندھتاہے حالانکہ موت اس کی تلاش میں   ہے،  اور حیرت ہے اس غافل انسان پرجو غفلت سے بیدار نہیں   ہوتا اور اس پربھی تعجب ہے جومنہ کھول کرہنستاہے حالانکہ اسے نہیں  معلوم کہ اس کا رب عَزَّوَجَلَّ اس سے راضی ہے یاناراض اوررُلانے والی 3 چیزیں   یہ ہیں :  حضور نبی ٔ رحمت،  شفیع اُمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورصحابۂ کرام رِضوان اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی جدائی،   نزع کی تکالیف کا پیش آنا اوربارگاہِ الٰہی میں   حاضرہونا جبکہ مجھے معلوم نہیں   کہ میں   جہنم کی طرف ہانکا جاؤں   گایاجنت میں   جگہ پاؤں   گا ۔  ‘‘    ( [5] )

وسوسوں   سے چھٹکارے کی انوکھی ترکیب:

 ( 664 ) … حضرت سیِّدُنازَیدبن صُوْحَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکے آزادکردہ غلام حضرت سیِّدُناسالم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں   اپنے آقا حضرت سیِّدُنا زَیدبن صُوحَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ساتھ بازار میں   تھا کہ ہمارے قریب سے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گزرے ۔  آپ نے ایک وَسْق ( ساٹھ صاع یعنی 1440 تولے،  بعض کے نزدیک ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر )  کھاناخریداتومیرے آقانے عرض کی :   ’’ اے ابوعبد اللہ !  آپ صحابی ٔرسول ہوکراتناکھاناخریدرہے ہیں   ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جب بندہ اپنا رزق جمع کر لیتا ہے تواس کا دل مطمئن ہوکر عبادت میں   لگ جاتا ہے اورشیطان اس سے مایوس ہوجاتاہے  ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 665 ) … حضرت سیِّدُناابن غَنِیَّہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ بندہ جب اپنارزق حاصل کرلیتاہے تودل مطمئن



[1]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب زہدسلمان الفارسی ،  الحدیث : ۸۱۸ ، ص۱۷۳۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۰۵۴ ، ج۶ ، ص۲۱۸۔

[3]    الزہدلہنادبن السری ،  باب حط الخطایا ،  الحدیث : ۴۱۴ ، ج۱ ، ص۲۴۲۔

[4]    صفۃ الصفوۃ ،  الرقم۵۹سلمان الفارسی ،  ذکرنبذۃ منالخ ،  ج۱ ، ص۲۸۰۔

[5]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب فی فضل ابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۸۳۷ ، ص۱۷۶۔

[6]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۰۵۷ ، ج۶ ، ص۲۱۹۔



Total Pages: 273

Go To