Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مُقَدَّسہ  تشریف لانے کی دعوت د ی تو انہوں   نے جواب لکھاکہ ’’   زمین کسی کو مُقَدَّس نہیں   بناتی بلکہ انسان کے اعمال اسے مُقَدَّس بناتے ہیں   اورمجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ طبیب  ( یعنی قاضی  ) بنادیئے گئے ہیں   ۔ اگرآپ لوگوں   کوشفادیتے ہیں   ( یعنی درست فیصلہ کرتے ہیں   )  پھر تو یہ آپ کے حق میں   بہتر ہے اوراگر آپ اس سے ناواقف ہیں   تو پھرکسی انسان کا قتل کرکے دوزخ میں   جانے سے خود کو بچائیے ۔  ‘‘  اس کے بعد حضرت سیِّدُنا ابو دَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب دو آدمیوں   کے درمیان فیصلہ فرماتے تو انہیں   واپس جاتادیکھ کرفرماتے:   ’’ میری طرف آؤاور اپناواقعہ مجھے دوبارہ سناؤ ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! میں   ناواقف طبیب ہوں    ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 653 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوخط لکھاکہ ’’  مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ طبیب  ( یعنی قاضی  )  بنادیئے گئے ہیں   کہ لوگوں   کاعلاج کریں  لیکن خیال رکھنا کہ کسی مسلمان کو قتل کر کے جہنم کے مستحق نہ بن جانا ۔  ‘‘    ( [2] )

دِل اورجسم کی مثال :  

 ( 654 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  دل اورجسم کی مثال اس نابینا اور اَپاہَج شخص  جیسی ہے کہ اپاہج ،   نابیناسے کہے: ’’ میں   ایک پھل دار درخت دیکھ رہا ہوں   لیکن اُٹھ کراس سے پھل نہیں   توڑ سکتالہٰذا تم مجھے اُٹھاؤ تاکہ میں   پھل اتاروں   ۔  ‘‘ تونابینااسے اُوپر اُٹھالے اوروہ پھل توڑکرخودبھی کھائے اورنابینا کوبھی کھلائے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 655 ) … حضرت سیِّدُنامُغِیْرَہ بن عبدالرحمنعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن سَلَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ملے اور فرمایا :  ’’  اگر تم مجھ سے پہلے انتقال کرجاؤ تو پیش آنے والے حالات سے مجھے آگاہ کرنا اوراگر میں   تم سے پہلے فوت ہو گیا تومیں   تمہیں   آگاہ کروں   گا ۔  ‘‘   ( [4] )چنانچہ،  حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کاانتقال پہلے ہو گیا توحضرت سیِّدُناعبداللہبن سَلَام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں   خواب میں   دیکھ کر پوچھا :   ’’ اے ابوعبداللہ !  کیسے ہیں   ؟  ‘‘ انہوں   نے جواب دیا :   ’’ میں   خیریت سے ہوں   ۔  ‘‘ پھرپوچھا :   ’’ آپ نے کون سا عمل افضل پایا ؟  ‘‘ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ میں   نے تَوَکُّل ( [5] )کو بہت عمدہ پایا ۔  ‘‘   ( [6] )

            حضرت سیِّدُنا سعید بن مُسَیَّب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی روایت میں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے تین بار فرمایا :  ’’ تم توکّل کواپنے اوپرلازم کرلو ۔ یہ کتناعمدہ عمل ہے ۔  ‘‘    ( [7] )

فرشتے پروں   سے ڈھانپ لیتے:

 ( 656 ) … حضرت سیِّدُنا ابو عثمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  فرعون کی بیوی ( حضرت سَیِّدَتُناآسیہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا ) کوستایا جاتا تھا اورجب تکالیف دینے والے ہٹتے توفرشتے اپنے پروں   سے انہیں   ڈھانپ لیاکرتے اور جب انہیں   تکلیفیں   دی جارہی ہوتیں   تویہ جنت میں   اپنا ٹھکانہ دیکھ رہی ہوتیں   ۔  ‘‘    ( [8] )

شیرسجدہ کرتے :  

 ( 657 ) … حضرت سیِّدُنا ابو عثمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے لئے دو شیر بھوکے رکھے جاتے پھر انہیں   آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر چھوڑدیاجاتاتووہ بھوکے ہونے کے باوجود آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنی زبان سے چاٹتے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے آگے سجدے میں   گر جاتے ۔  ‘‘    ( [9] )

حکمت کی بات:

 ( 658 ) … حضرت سیِّدُنانافع بن جُبَیْر بن مُطْعِمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نماز پڑھنے کے لئے جگہ تلاش کر رہے تھے کہ ’’  عِلْجَہ ‘‘   نامی ایک عورت نے دیکھ کر کہا: ’’ پہلے پاکیزہ دل تلاش کرلو پھر جہاں   چاہو نماز پڑھو ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   اس کی بات سمجھ گیاہوں   ۔  ‘‘    ( [10] )

 ( 659 ) … حضرت سیِّدُنامَیْمُوْن بن مِہْرَانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ اور حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ایک ’’  نَبَطِیَّہ ‘‘  عورت کے پاس



[1]    المؤطاللامام مالک ،  کتاب الوصیۃ ،  باب جامع القضاء وکراہیۃ ،  الحدیث : ۱۵۲۴ ، ج۲ ، ص۲۸۵۔

[2]    الزہدللامام احمدبن حنبل ،  باب فی فضل ابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۸۳۹ ، ص۱۷۷۔

[3]    القصاص والمذکرین ،  ص۲۱۸۔

[4]    ایک روایت میں   اتنازائد ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے