Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

جواپنے باطن کو سنوار لیتاہےاللہ عَزَّوَجَلَّاس کے ظاہر کو سنواردیتاہے اور جو اپنے باطن کو بگاڑ لیتاہےاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے ظاہر کوبھی بگاڑدیتا ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 بُت کی ادنیٰ سی تعظیم جہنم میں   لے گئی:

 ( 646 ) … حضرت سیِّدُنا امام زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  ایک شخص مکھی کی وجہ سے جنت میں   داخل ہوا اوردوسرا شخص مکھی کے سبب جہنم میں   جاگرا ۔  ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :  ’’ وہ کیسے ؟  ‘‘ فرمایا :  گذشتہ زمانے میں   دو شخص کچھ ایسے لوگوں   کے پاس سے گزرے جن کے پاس ان کا بت بھی تھااوروہاں   سے جوبھی گزرتاوہ ان کے بت کو کچھ نہ کچھ نذر ونیاز پیش کرتا تھا ۔ ان لوگوں   نے گزرنے والے ایک شخص سے کہاکہ ’’  ہمارے اس بت کو نذرانہ پیش کرو ۔  ‘‘  اس نے کہا :   ’’ میرے  پاس توکچھ بھی نہیں   ہے میں   کس چیز کا نذرانہ پیش کروں   ۔  ‘‘  بولے:  ’’ کچھ تو پیش کرو اگرچہ ایک مکھی ہی کیوں   نہ ہو ۔  ‘‘ چنانچہ،   اس نے ایک مکھی بطورِ نذرانہ پیش کردی ۔ جب اس شخص کا انتقال ہواتواسے جہنم میں   داخل کردیا گیا ۔  پھرانہوں   نے دوسرے سے کہاکہ ’’  بت کو نذرانہ پیش کرو ۔  ‘‘  اس نے کہا :  ’’ میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ کسی سے تعلق قائم نہیں   کروں   گا ۔  ‘‘ یہ سن کرانہوں   نے اس شخص کو شہید کردیاپس وہ جنت میں   داخل کردیا گیا ۔  ‘‘    ( [2] )

ذکراللہ کی فضیلت :  

 ( 647 ) … حضرت سیِّدُناابوعثمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اگرکوئی شخص غلاموں   اور لونڈیوں   پرصدقہ وخیرات کرتے ہوئے رات بسرکرے اور دوسرا شخص قرآن حکیم کی تلاوت اور اللہ  عَزَّوَجَلَّ کاذکرکرتے ہوئے رات گزارے تویہ دوسراشخص پہلے سے افضل ہے ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُناسلیمان تَیْمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی کی ایک روایت میں   ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ پوری رات نیزہ بازی کرنے والے سے ذکروتلاوت کرنے والاافضل ہے ۔  ‘‘    ( [3] )

بے حیائی کی آفات :  

 ( 648 ) … حضرت سیِّدُنازَاذَان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّجب کسی کوذلیل ورسوا یاہلاک کرنے کاارادہ فرماتاہے تواس سے حیاچھین لیتاہے ۔ پھرتم اس سے اس حال میں   ملوگے کہ وہ لوگوں  سے نفرت کرتا اورلوگ اس سے نفرت کرتے ہیں  اور جب وہ لوگوں   سے نفرت کرتاہے تواللہ عَزَّوَجَلَّاسے مہربانی وشفقت سے محروم کردیتا ہے ۔ پھر تم اسے اس حال میں   ملوگے کہ وہ سخت دل اوربدمزاج ہوجاتاہے ۔  جب وہ اس حالت کو پہنچتاہے تواللہ عَزَّوَجَلَّاس سے امانت داری سلب فرمالیتاہے ۔ اب جب تم اسے ملوگے تواس حالت میں   دیکھوگے کہ وہ لوگوں   سے خیانت کرتااور لوگ اس سے خیانت کرتے ہیں   ۔ جب وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّاس کاایمان بھی سلب فرما لیتا ہے جس کی وجہ سے وہ ملعون ہوجاتا ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 649 ) … حضرت سیِّدُنا سَلْم بن عَطِیَّہ اَسَد ِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے ۔ اس وقت وہ نزع کے عالم میں   تھا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا :   ’’ اے فرشتے !  اس کے ساتھ نرمی سے پیش آ ۔  ‘‘ وہ شخص کہنے لگا کہ ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام فرما رہے ہیں :  ’’ میں   ہرمومن کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

سلام عام کرو !

 ( 650 ) … حضرت سیِّدُنااَوْس بنضَمْعَجرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ہم نے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی :  ’’ ہمیں   کوئی ایسا کام بتائیں   جس پر ہم عمل کریں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   

 ’’  سلام کوعام کرو،  کھانا کھلاؤ اور رات کے وقت جب لوگ سو رہے ہوں   تو نماز ادا کرو ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 651 ) …  حضرت سیِّدُنا ابو عثمانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ جو مسلمان کسی جنگل بیابان میں   وضو یا تیمم کر کے اذان کہتا اورنمازقائم کرتاہے تو اس کی اقتدا میں   اس قدر فرشتے نمازاداکرتے ہیں   کہ ان کی صفوں   کے کنارے نظر نہیں   آتے ۔  ‘‘    ( [7] )

خط کے ذریعے انفرادی کوشش :  

 ( 652 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن سَعِیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِیْدسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابو دَرْ دَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو خط کے ذریعے ارضِ



[1]    الزہد لابن المبارک ،  مارواہ نعیم بن حمادفی نسختہ زائدا ،  باب حسن السریرۃ ،  الحدیث : ۷۲ ، ص۱۷۔

[2]    سیر اعلام النبلاء ،  الرقم۹۶ ، سلمان الفارسی ، ج۳ ، ص۳۴۸ ، مختصرًا۔

[3]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب فضائل القرآن ،  باب من قال قراء ۃالخ ،  الحدیث : ۲ ، ج۷ ، ص۱۷۸ ، بتغیرٍ۔

[4]    مکارم الاخلا ق لابن ابی الدنیا ،  باب ذکرالحیاء وماجاء فیہ ،  الحدیث : ۱۱۳ ، ص۹۴۔

[5]    کرامات الاولیاء ،  الحدیث : ۱۰۲ ، ص۱۴۶ ، مفہومًا۔

[6]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  باب کلام سلمان ،  الحدیث : ۲۲ ، ج۸ ، ص۱۸۲ ، بتغیرٍ۔