Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کہا :   ’’ اے ابوعبداللہ !  کیا میں   آپ کے لئے ایک گھر بنوا دوں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے ناپسندجاناتوانہوں   نے کہا :  ’’ آپ انکار نہ کریں   ،   میں   آپ کے لئے ایسا گھر بنوانا چاہتا ہوں   کہ جب آپ اس میں   لیٹیں   تو ایک جانب آپ کا سر لگے اور دوسری جانب پاؤں   ،   جب آپ کھڑے ہوں   تو چھت آپ کے سر کو چھوئے،   حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ گویا آپ نے میرے دل کی بات کہی ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

قیامت کی تاریکیاں  :

 ( 640 ) … حضرت سیِّدُناجَرِیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے فرمایا: ’’ اے جَرِیْر ! اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجزی اختیار کرو،   جواللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجزی اختیار کرتا ہے بروزِقیامت اللہ عَزَّوَجَلَّاسے بلندی عطا فرمائے گا ۔  ‘‘ پھر فرمایا :  ’’ ایجَرِیْر !  کیا تم قیامت کی تاریکیوں   کے بارے میں   جانتے ہو ؟  ‘‘  حضرت سیِّدُناجَرِیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’  نہیں   ۔  ‘‘ توحضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ دنیا میں   لوگوں   کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا قیامت کی تاریکیوں  کاسبب ہے ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک باریک لکڑی ہاتھ میں   لی جو انگلیوں   میں   صحیح طرح دکھائی بھی نہیں   دے رہی تھی اور فرمایا :  ’’  اے جَرِیْر !  اگرتم جنت میں   اس قسم کی لکڑی ڈھونڈوگے تو نہ پاؤگے  ۔  ‘‘ انہوں   نے پوچھا :  ’’ اے ابوعبداللہ !  توپھرجنت میں   کھجورکے اوردیگردرخت کیسے ہوں   گے ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ جنت کے درختوں   کی جڑیں   موتیوں   اورسونے کی اور ان کا بالائی حصہ پھلوں   سے لدا ہوگا ۔  ‘‘    ( [2] )

سب سے بڑاگنہگار :  

 ( 641 ) … حضرت سیِّدُناشِمربن عَطِیَّہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اللہعَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی میں   زیادہ کلام کرنے والا بروزِ قیامت سب سے بڑا گنہگار ہوگا ۔  ‘‘    ( [3] )

بدگمانی سے اجتناب :  

 ( 642 ) … حضرت سیِّدُناحَارِثَہ بن مُضَرِّب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   خادم کے متعلق بد گمان ہونے کے خوف سے اپنا کھانا خود تیار کرتا ہوں    ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 643 ) … حضرت سیِّدُناعبید بن ابوجَعْدرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک اَشْجعِی شخص سے روایت کرتے ہیں   کہ لوگوں   کو پتا چلا کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  مدائِن کی ایک مسجد میں   ہیں   تو وہ ان کے پاس جمع ہونے لگے یہاں   تک کہ ہزار کے لگ بھگ افراد وہاں   جمع ہوگئے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر فرمایا :  بیٹھو بیٹھو  ! جب سب لوگ بیٹھ گئے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے سورۂ یوسف کی تلاوت شروع کر دی،   آہستہ آہستہ لوگ وہاں   سے نکلنے لگے یہاں   تک کہ 100کے قریب افراد باقی رہ گئے،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جلال میں   آکرفرمایا:  ’’  تم نے من گھڑت وفضول باتیں   سننا چاہیں   لیکن میں   نے تمہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلام سنایا تو اُٹھ کرچلے گئے ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا امام ثَوْرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا امام اَعْمَشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم جھوٹی باتیں   سننا چاہتے ہو اور میں   تمہیں   فلاں   فلاں   سورت کی آیتیں   سناتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

مہمان نوازی ایمان کاحصہ ہے :  

 ( 644 ) …  حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوکرعرض کی :   ’’ آج کے لوگوں  کی عادتیں   کتنی اچھی ہیں   ۔ میں   سفر میں   تھااللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   نے جب بھی کسی کے ہاں   قیام کیا تواس نے میرے ساتھ اتنا اچھابرتاؤکیاکہ مجھے یوں   لگا جیسے میں   نے اپنے بھائی کے پاس قیام کیاہے ۔  ‘‘

            راوی فرماتے ہیں : پھر اس شخص نے لوگوں   کی چند اوراچھی عادات اور لطف و مہربانی کے واقعات بتائے تو حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  اے بھتیجے ! یہ ایمان کی علامت ہے ۔ کیا تم نے نہیں   دیکھاکہ جب جانور پر بوجھ لاداجاتاہے تووہ ( ابتدا ء ً ) تیزی سے چلتاہے اورطویل سفر طے کرنے کے بعد سُست ہو جاتا ہے  ( غالباً یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مہمان اگرمیزبان کے ہاں   ایک ،  دو دن تک رُکے تو میزبان اس کی اچھی خاطر تواضع کرتا ہے اور اس پر بوجھ نہیں   پڑتا لیکن اگر وہ زیادہ دن تک رُکے گا تومیزبان اس سے اُکتا جائے گا )  ۔  ‘‘

ظاہری اصلاح کا راز :  

 ( 645 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  ہر شخص کاایک باطن ہوتا ہے اور ایک ظاہر، 



[1]    الزہد للامام احمد بن حنبل ،  باب فی فضل ابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۸۴۰ ، ص۱۷۷۔

[2]    المصنف لابن ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  باب کلام سلمان ،  الحدیث : ۹ ، ج۸ ، ص۱۷۹۔

[3]    الزہدللامام احمد بن حنبل ،  باب زہد سلمان الفارسی ،  الحدیث : ۸۱۴ ، ص۱۷۳۔

[4]    مسندابن الجعد ،  باب من حدیث ابی خثیمۃ زہیربن معاویۃ ،  الحدیث : ۲۵۵۱ ، ص۳۷۱۔

[5]    سیر اعلام النبلاء ،  الرقم۹۶ ، سلمان الفارسی ، ج۳ ، ص۳۴۸ ، مختصرًا۔



Total Pages: 273

Go To