Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سلام بھی ہدیہ ہے :  

 ( 637 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا اَشْعَث بن قَیس اور جَرِیربن عبداللہبَجَلِی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَا حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ملاقات کے لئے نکلے توانہیں   مدائِن کے گرد و نواح میں   ایک جھونپڑی میں  پایاحاضرہوکر سلام عرض کیا،   پھر پوچھا :  ’’ کیاسلمان فارسی آپ ہی ہیں   ؟  ‘‘ فرمایا :  ’’ جی ہاں   !  ‘‘ انہوں   نے پوچھا :  ’’ کیاآپ صحابی ٔ رسول ہیں   ؟   ‘‘  فرمایا :  ’’  میں   نہیں   جانتا کہ میں   صحابی ہوں   یا نہیں   ۔  ‘‘ یہ سن کردونوں   حضرات شک میں   مبتلاہوگئے اورکہنے لگے :   ’’ شایدہم جن سے ملناچاہتے ہیں   یہ وہ نہیں   ہیں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ تم جس سے ملناچاہتے ہومیں   وہی ہوں   ۔ میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت کا شرف پایاہے اوران کی صحبت بابرکت بھی مجھے حاصل رہی ہے اور ( حقیقت میں   )  صحابی تو وہ ہے جوحضورنبی ٔ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ جنت میں   داخل ہوگا ۔  ‘‘ پھراستفسار فرمایا :  ’’ تم کس کام سے آئے ہو ؟  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’ ہم ملکِ شام سے آپ کے بھائی کے پاس سے آئے ہیں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پھر پوچھا :  ’’ وہ کون ہے ؟  ‘‘ عرض کی :   ’’ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ انہوں   نے میرے لئے جو تحفہ بھیجاہے وہ کہاں   ہے ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ انہوں   نے آپ کے لئے کوئی تحفہ نہیں   بھیجا ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور امانت ادا کرو جو شخص بھی ان کے پاس سے آتا ہے وہ میرے لئے ان کا تحفہ لاتا ہے ۔  ‘‘  بولے :   ’’ آپ ہم پرتہمت نہ لگائیں   اگر آپ کو کوئی ضرورت ہے تو ہم اسے اپنے مال سے پورا کئے دیتے ہیں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ مجھے تمہارے مال کی کوئی ضرورت نہیں  ،  مجھے تووہ ہدیہ چاہئے جو انہوں   نے تمہارے ہاتھ بھیجا ہے ۔  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  انہوں   نے ہمیں   کوئی چیز دے کر نہیں   بھیجا سوائے اس کے کہ انہوں   نے فرمایا :  تم میں   ایک ایسا شخص موجود ہے کہ جب وہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ ہوتا تھا تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کسی دوسرے کی حاجت نہیں   ہوتی تھی ۔  لہٰذا جب تم اُن کے پاس جاؤ تو میرا سلام  کہنا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ یہی تو وہ ہدیہ ہے جس کا میں   تم سے مطالبہ کر رہا تھا اور ایک مسلمان کے لئے سلام سے افضل کون ساہدیہ ہوسکتاہے جواچھی دعاہے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس سے مبارَ ک و پاکیزہ ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

حکمت بھرافیصلہ :  

 ( 638 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن حَنْظَلہ اورابونَہِیکرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمَافرماتے ہیں : ہم حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ ایک لشکر میں   شریک تھے کہ ایک شخص نے سورۂ مریم کی تلاوت شروع کی تو وہاں   موجودایک شخص حضرت سَیِّدَتُنامریم اورحضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو برا بھلاکہنے لگا،  ہم نے اسے خوب مارایہاں   تک کہ وہ لہولہان ہو گیا،   اس نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوکر ہماری شکایت کی اورکہا :  ’’  جب انسان پرظلم ہوتا ہے تو وہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے شکایت کرتا ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہمارے پاس تشریف لائے اور اسے مارنے کی وجہ دریافت فرمائی ۔ ہم نے عرض کی کہ ’’ ہم سورۂ مریم کی تلاوت کررہے تھے تو اس نے حضرت سیِّدَتُنا مریم اور حضرت سیِّدُنا عیسیٰروح اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو گالی دی ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  تمہیں   اس کے سامنے یہ سورت تلاوت کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ کیا تم نے اللہ عَزَّوَجَلَّکا یہ فرمان نہیں   سنا:  وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍؕ-كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ۪-ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۰۸) ( پ۷،  الانعام :  ۱۰۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور انہیں   گالی نہ دو جن کو وہ اللہکے سِوا پوجتے ہیں   کہ وہاللہکی شان میں   بے ادبی کریں   گے زیادتی اور جہالت سے یونہی ہم نے ہر امت کی نگاہ میں   اس کے عمل بھلے کر دیئے ہیں   پھر انہیں   اپنے رب کی طرف پھرنا ہے وہ انہیں   بتادے گا جو کرتے تھے ۔

            پھرفرمایا :  ’’  اے گروہ عرب !   ( یاد کرو )  تم دین ودنیا میں  کس قدر بُرے اور گھٹیاتھے ۔ پھراللہعَزَّوَجَلَّنے تمہیں   عزت وغلبہ عطا فرمایاتوکیااب تماللہعَزَّوَجَلَّکی دی ہوئی عزت سے لوگوں   پر غلبہ چاہتے ہو ؟ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! تم اپنی ان حرکتوں   سے باز آجاؤ !  ورنہاللہعَزَّوَجَلَّ تمہاری یہ شان وشوکت جواس نے تمہیں   عطافرمائی ہے ،  چھین کر دوسروں   کو عطافرمادے گا ۔  ‘‘ پھرآپ نے ہمیں   درس دیتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا :  ’’  مغرب اور عشاکے درمیان کچھ نوافل ( یعنی صلوٰۃ الاوابین  )  اداکیاکرو ،   اس کی برکت سے تم سکون محسوس کروگے اور اس سے ابتدائی رات کا بوجھ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ ابتدائی رات کا بوجھ ہی آخری رات کو زائل کرتا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

دل کی بات :  

 ( 639 ) … حضرت سیِّدُناا مام اَعْمَشرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ہم نے لوگوں   سے سنا کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۰۵۸ ، ج۶ ، ص۲۱۹۔

[2]    الزہدلابی داؤد ،  باب من زہدسلمان ،  الحدیث : ۲۵۷ ، ج۱ ، ص۲۷۴۔



Total Pages: 273

Go To