Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سے کچھ زیادہ تھی ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 620 ) … حضرت سیِّدُنااَنس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں   حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی عیادت کرنے کی غرض سے ان کے پاس گیاتوانہیں   روتاپاکرسبب گریہ دریافت کیاتوانہوں   نے فرمایا :   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھ سے عہد لیا تھاکہ ’’   میرے پاس ایک مسافر کے زادِراہ سے بڑھ کر سازوسامان نہیں   ہونا چاہئے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 621 ) … حضرت سیِّدُنا علی بن بَزِیْمَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں   کہ ’’ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ( کے وصال کے بعد جب ان )  کا ترکہ بیچا گیاتواس کی قیمت صرف 14درہم حاصل ہوئی تھی ۔  ‘‘    ( [3] )

ٹوکریاں   بنانے والاحاکم:

 ( 622 ) … حضرت سیِّدُناسَلامَہ عِجْلِیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ گاؤں  سے میرے بھانجے قُدَا مَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ آئے اور مجھ سے کہاکہ ’’  میں   حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زیارت کر کے انہیں   سلام پیش کرنا چاہتاہوں    ۔  ‘‘ اس وقت حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ’’  مَدَائِن ‘‘  میں   20 ہزار مسلمانوں   پر امیر مقرر تھے ۔ چنانچہ،   ہم وہاں   پہنچے تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ چار پائی پربیٹھے کھجور کے پتوں  سے ٹوکریاں  بنا رہے ہیں   ۔  ‘‘ میں   نے سلام کے بعد عرض کی :   ’’ اے ابوعبداللہ ! یہ میرابھانجاہے جو گاؤں   سے آیا ہے اورآپ کو سلام پیش کرنا چاہتا ہے ۔  ‘‘  ( اس نے سلام کیا تو ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس کے سلام کا جواب ارشاد فرمایا ۔  پھر میں   نے عرض کی :   ’’ یہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے محبت کرتاہے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ اسے اپنی محبت عطا فرمائے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 623 ) … حضرت سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ 30 ہزار مسلمانوں   پر امیر تھے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا وظیفہ 5ہزار درہم تھا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ایک چادر تھی جسے اوڑھ کر لوگوں   کو خطبہ دیتے اورسوتے وقت وہی چادر آدھی اوپر لیتے اور آدھی نیچے بچھا لیتے ۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس وظیفہ آتا تو اسے مسلمانوں   پر خرچ کر دیتے اورخود اپنے ہاتھوں   سے کھجور کے پتوں   کی ٹوکریاں   بنا کر گزارہ کرلیتے ۔  ‘‘    ( [5] )

لونڈی سے نکاح :  

 ( 624 ) … حضرت سیِّدُنا عَمروبن اَبی قُرَّہ کِنْدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیبیان کرتے ہیں : میرے والدنے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی ہمشیرہ ( میری پھوپھی )  سے نکاح کاپیغام دیاتوانہوں   نے انکار کر دیا اورپھربُقَیْرَہ نامی ایک لونڈی سے نکاح کر لیا ۔ میرے والد کوخبر ہوئی کہ حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے اچھے تعلقات ہیں   تو وہ انہیں   تلاش کرنے لگے ۔ کسی نے بتایاکہ وہ سبزی کے کھیت میں   ہیں   ۔ ابَّاحضوران کے پاس پہنچے توانہیں   کندھوں   پر سبزی سے بھری ایک ٹوکری اُٹھائے دیکھا ۔ پھر انہیں   ساتھ لے کرحضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر پہنچے ۔  حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے گھر میں   داخل ہوکر سلام کیااور پھر میرے والد کو اندر آنے کاکہا ۔ اس وقت حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک چٹائی پر آرام فرما رہے تھے اوران کے سر کی جانب کچھ اینٹیں   اور بعض معمولی چیزیں   رکھی تھیں   ۔  حضرت سیِّدُنا سلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اس باندی کی چٹائی پر بیٹھوجو اس نے اپنے لئے تیار کی ہے ( اس سے وہ سمجھ گئے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نکاح کرچکے ہیں   لہٰذا انہوں   نے پھر اس موضوع پر کوئی گفتگونہ کی )  ۔  ‘‘    ( [6] )

محبت اورنفرت کاراز :  

 ( 625 ) … حضرت سیِّدُناحَارِث بن عُمَیْرَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں :  میں   ’’ مَدا ئِن ‘‘ گیا تووہاں   بوسیدہ لباس میں  ملبوس ایک آدمی دیکھا  ۔ اس کے پاس پکا ہوا سرخ چمڑا تھا جسے وہ حرکت دے رہا تھا ۔ میں   نے اسے متوجہ کیاتو اس نے میری طرف دیکھااورہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  ’’ اےاللہعَزَّوَجَلَّ کے بندے ! اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو ۔  ‘‘ میں   رُک ہو گیا اور اپنے ساتھ والوں   سے دریافت کیاکہ ’’  یہ کون ہے ؟   ‘‘ انہوں   نے بتایاکہ ’’ یہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہیں   ۔  ‘‘ کچھ دیربعد آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے گھر میں   داخل ہوئے اور سفیدلباس زیب تن کئے باہر تشریف لائے،  پھر میرا ہاتھ پکڑ کرمجھ سے مصافحہ کیااور حال دریافت فرمایا ۔ میں   نے کہا :   ’’ اے اللہعَزَّوَجَلَّ کے بندے !  اس سے پہلے نہ تو میں   نے کبھی آپ کو دیکھا ہے اور نہ ہی آپ نے مجھے کہیں   دیکھاہے ،   نہ میں   آپ کو جانتاہوں  اور نہ ہی آپ مجھے پہچانتے ہیں   ؟  ‘‘  توانہوں   نے فرمایا :   ’’ کیوں   نہیں   ! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے ! تجھے دیکھتے ہی میری روح نے تیری روح کو پہچان لیا ۔ بتاؤ ! کیا تم حَارِث بن عُمَیْرَہ نہیں   ہو ؟  ‘‘ میں   نے کہا :  ’’ بے شک میں   حَارِث بن عُمَیْرَہہی ہوں   ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان سنا ہے کہ ’’ اَروَاح مخلوط لشکرہیں  ،   توان میں   سے جو  (



[1]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب الرقائق ،  باب الفقراء والزہدوالقناعۃ ،  الحدیث : ۷۰۴ ، ج۲ ، ص۴۵۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۰۶۹ج۶ ، ص۲۲۷ ، بتغیرٍ۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۰۴۲ ، ج۶ ، ص۲۱۴۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۱۱۰ ،  ج۶ ،  ص۲۴۱۔

[5]    الزہد للامام احمدبن حنبل ،  باب زہدسلمان الفارسی ،  الحدیث : ۸۱۵ ، ص۱۷۳۔

[6]

Total Pages: 273

Go To