Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کسی کا وصال ہوتا ہے تو اللہعَزَّوَجَلَّ500 میں   سے ایک کو اس کے مقام و مرتبے پر فائز فرمادیتا ہے اوریوں   40 کی کمی پوری فرما دیتا ہے  ۔  ‘‘  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :  ’’  یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ہمیں   ان کے اعمال ارشاد فرمائیے !  ‘‘ فرمایا :   ’’ جوان پر ظلم کرے وہ اسے معاف کر دیتے ہیں   ،   جو ان سے برائی کرے وہ اس سے بھلائی کرتے ہیں   اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے جو کچھ انہیں   عطا فرمایا  اس سے لوگو ں   کی غم خواری کرتے ہیں   ۔  ‘‘   ( [1] )

 (  16 )  … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ کریم،   رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ مخلوق میں   سے اللہ عَزَّوَجَلَّکے 30 بندے ایسے ہیں   جن کے دل حضرت آدم صفی اللہ ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) کے دل پر ہیں   ۔  40کے دل حضرت موسیٰ  کلیم اللہ ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )  کے دل پر ۔ 7 کے دل حضرت ابراہیم  خلیل اللہ  ( عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ) کے دل پر ۔ 5 کے دل حضرت جبرائیل  ( عَلَیْہِ السَّلَام )  کے دل پراور3 افراد کے دل حضرت میکائیل ( عَلَیْہِ السَّلَام ) کے دل پرہیں   اور اللہ عَزَّوَجَلَّکی مخلوق میں   سے ایک بندۂ خاص کا دل حضرت اسرافیل  ( عَلَیْہِ السَّلَام ) کے دل پر ہے ۔  جب اس بندۂ خاص کاانتقال ہوتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّان 3 میں   سے ایک کو اس کی جگہ مقرر فرمادیتاہے اورجب ان 3میں   سےکسی کاانتقال ہوتاہے تو اس کی جگہ ان 5 میں   سے ایک کو مقرر فرما دیتا ہے جب 5 میں   سے کسی کاوصال ہوتا ہے تو7 میں   سے کسی ایک کو اس کی جگہ مقررکردیتاہے ۔  جب ان 7 میں   سے کسی کا انتقال ہوتاہے تو اللہعَزَّوَجَلَّ40 میں   سے ایک کو اس کی جگہ دے دیتا ہے ۔  جب ان 40 میں   سے کوئی اس دنیاسے رخصت ہوتاہے تو300 میں   سے کسی کے ذریعے اس خلا کو پُر فرمادیتا ہے ۔  جب ان 300 میں   سے کسی کاوصال ہوتاہے تو اللہعَزَّوَجَلَّعام لوگوں   میں   سے کسی کو اس کی جگہ مقرر فرمادیتا ہے  ۔ پس انہی اولیا کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ  لوگو ں   کو زندگی اور موت عطا فرماتا،  انہی کے طفیل بارش ہوتی،  فصلیں   اُگتی اور انہیں   کی بدولت مصیبتیں   دور ہوتی ہیں   ۔   ‘‘

             حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھا گیا :  ’’  ان کے سبب لوگوں   کو زندگی اور موت کیسے ملتی ہے  ؟  ‘‘  فرمایا اس لئے کہ ’’   وہ اللہ عَزَّوَجَلَّسے کثرتِ اُمت کا سوال کرتے ہیں   تو اس میں   اضافہ کردیاجاتا ہے اور ظالموں   کے خلاف دعاکرتے ہیں   تو ان کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے ۔ بارش طلب کرتے ہیں   تو بارش بر سا دی جاتی ہے  ۔  نباتات کے اُگنے کا سوال کرتے ہیں   توان کے لئے زمین فصلیں   اُگادیتی ہے ۔  وہ دعا کرتے ہیں   تو مختلف قسم کے مصائب ان کی دعا کی وجہ سے دور کردیئے جاتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

  ( 17 ) … حضرت سیِّدُناحذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’ اے حذیفہ !  میری اُمت کے ہر گر وہ میں   سے چند لوگ ایسے ہوں   گے جوپر اگندہ حال اور گر د آلود ہوں   گے وہ میری اتباع اور میرا ہی ارادہ کریں   گے اوراَحکامِ خداوندی کی پابندی کریں   گے وہ مجھ سے ہیں   اورمیں   ان سے ہوں   اگر چہ انہوں   نے مجھے نہ دیکھا ہو ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 18 ) … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ حضور نبی ٔمُکَرَّم،  نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ جو شخص میرے متعلق سوال کرے یا مجھے دیکھنا چاہے تو وہ پر اگندہ حال،   لا غر اور محنتی شخص کو دیکھ لے جس نے نہ تو اینٹ پر اینٹ رکھی ہو اور نہ ہی بانس پربانس رکھا  ( یعنی کوئی عمارت نہ بنائی )  ہو جب اس کے لئے جہادکا عَلم ( جھنڈا )  بلند کیا جائے تو وہ اس کی طر ف چلا جائے ۔  آج تیاری کادن ہے اور کل سبقت لے جانے کا دن اور انتہاء جنت ہے یا جہنم ۔  ‘‘    ( [4] )

دُنیا سےبےرغبتی اوراُمیدوں   کی کمی :   

             ( ۷ ) اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامنے دنیا کے با طن کی طر ف دیکھا تو اس کا اِنکار کردیا اور اس کی ظاہری چمک دمک کو دیکھا تو اسے اپنی نظر سے گرادیا ۔ چنانچہ ،   

 ( 19 ) … حضرت سیِّدُناوَہْب بن مُنَبِّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان فرماتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُناعیسیٰ روح اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے حواریوں   ( یعنی ساتھیوں   ) نے عرض کی :   ’’ اےعیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ! اللہ عَزَّوَجَلَّکے اولیا کو ن لوگ ہیں   جن پر نہ کچھ خوف ہوگااورنہ کچھ غم ؟   ‘‘  آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا :   ’’ یہ وہ لوگ ہیں   جنہوں   نے دنیا کے با طن کو دیکھاجب اور لوگوں   نے دنیاکے ظاہرکو دیکھا ۔  اوردنیا کے انجام کو دیکھا جب اور لوگوں   نے دنیاکی رنگینیوں   کودیکھا ۔  انہوں   نے ان چیزوں   کو چھوڑ دیا جن کے بارے میں   اندیشہ تھا کہ وہ عیب دار کریں   گی اور ان کو بھی ترک کر دیاجن کے متعلق یقین تھا کہ وہ بہت جلدان سے چھوٹ جائیں   گی ۔ انہیں   دنیاکی زیادتی کی خواہش نہیں   ہوتی  ۔ انہوں   نے دنیاکاذکرکیاتواس کافانی ہونابتایا ۔ دنیاکاغم ملاتوخوش ہوئے  ۔  دنیاکی جوچیزان کے سامنے آئی اسے ٹھکرادیا ۔ دنیاوی ناحق رفعت و عظمت کو حقیر جانا ۔  ان کے نزدیک دنیا پرانی ہوچکی ہے اب وہ اس کی تجدید نہیں   چاہتے ۔  ان کے گھر ویران ہوگئے لیکن انہوں   نے آباد نہ کئے ۔  خواہشوں   نے ان کے سینوں   میں   گھٹ گھٹ کر دم توڑ دیالیکن انہوں   نے دو بارہ انہیں   بیدار نہ کیابلکہ دنیاوی خواہشات کو تہس نہس کرکے اس کے بدلے اپنی آخرت کی تیاری کی اور دنیاکو بیچ کراس کے عوض وہ چیز ( یعنی آخرت )  خریدی جوان کے لئے ہمیشہ رہے گی ۔  انہوں   نے خوشی خوشی دنیاکو ٹھکرا دیا ۔  انہوں   نے دنیاداروں   کو دنیا پر اوندھے منہ گر ے دیکھا جس کی وجہ سے ان پر مصیبتیں   نازل ہوئیں   تو تذکرۂ موت کوجلا بخشی اورتذکرۂ حیات کومات دی  ۔ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّسے محبت کرتے  ۔ اس کے ذکر کو پسند کرتے اور اس کے نور سے روشن ہو کردنیا کو روشن کرتے ہیں   ۔ انہیں   حیرت انگیز خیر وبھلائی عطا کی گئی ۔  تعجب خیز علم عطا کیا گیا ۔  ان کی بدولت



[1]     فردوس الاخبار للدیلمی ،  باب الخاء  ،  الحدیث : ۲۶۹۳ ، ج۱ ، ص۳۶۴۔

[2]     تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر ،  باب ان بالشام یکون الابدال الذینالخ ، ج۱ ، ص۳۰۳۔

[3]     الفردوس بماثور الخطاب للدیلمی ،  باب الیاء ،  الحدیث : ۸۵۳۷ ، ج۵ ، ص۳۹۵۔

[4]    المعجم الاوسط  ،  الحدیث : ۳۲۴۱ ، ج۲ ، ص۲۶۶۔



Total Pages: 273

Go To