Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

صدقہ قبول نہیں   کریں   گے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناسلمان فارِسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  اتنا کہہ کر وہ شخص بھی انتقال کرگیا اور میں   وہیں   ٹھہرا رہا اور ہر گزرنے والے قافلے کے بارے میں   معلومات لیتا رہا یہاں  تک کہ مکۂ مکرّمہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّ تَعْظِیْمًاکے کچھ لوگ میرے پاس سے گزرے،   میں   نے ان سے ان کا وطن پوچھاتوانہوں   نے بتایاکہ ’’  ہم حجاز سے آئے ہیں   ۔  ‘‘ میں   نے دریافت کیا :  ’’ کیاتمہارے ہاں  کسی شخص نے نبوّت کا دعوی کیا ہے ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا :  ’’  ہاں   ۔  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’ تم میں   سے کوئی مجھے اپنا غلام بنالے اورمکۂ مکرّمہزَادَہَا اللہ  شَرَفًاوَّ  تَعْظِیْمًا پہنچنے تک مجھے سواری اور کھانے کی سہولت فراہم کردے ۔  پھروہاں   پہنچ کر چاہے توبیچ دے اورچاہے تو خدمت لیتا رہے ۔  ‘‘  چنانچہ،   ان میں   سے ایک شخص نے مجھے اپنا غلام بنا لیا اور سواری پر جگہ بھی دی ۔ مکۂ مکرّمہزَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا پہنچ کر اس نے مجھے دو حبشیوں   کے ساتھ ایک باغ میں   کام پر لگا دیا ۔  ایک دن میں   باغ سے نکل کرمکۂ مکرّمہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّ تَعْظِیْمًا میں   گھوم رہا تھاکہ اپنے علاقے کی ایک عورت سے میری ملاقات ہوگئی ۔ میں   نے کچھ دیر اس سے گفتگو کی تو اس نے مجھے بتایا کہ ’’   اس کے آقااور گھر والے سب نے اسلام قبول کر لیا ہے ۔  ‘‘ پھرمیں   نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں   دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ ’’   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات اپنے اصحاب کے ساتھ حجر اَسود کے پاس تشریف فرما ہوتے ہیں   اور صبح کو تشریف لے جاتے ہیں    ۔  ‘‘

             حضرت سیِّدُنا سلمان فارِسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   رات اس غوروفکرمیں   بیٹھا ہوا تھا کہ کہیں   میرے ساتھ کام کرنے والے مجھے کھو نہ دیں   اتنے میں   کچھ لوگوں   نے مجھ سے پوچھا :  ’’ کیا ہوا ؟  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’ پیٹ میں   درد ہے ۔  ‘‘ پھر جب حجرِ اسود کے پاس سرکارِاَبدقرار ،   بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شمار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آمد کاوقت ہوا تومیں   وہاں   جاپہنچا ۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحجراَسودکے پاس تشریف فرما تھے اورصحابۂ کرام  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پشت مبارَک کی طرف ہواتو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے دل کی بات جان گئے اور اپنی چادر مبارَک کمرسے سِرکادی ۔ میں   کندھوں   کے درمیان مہر نبوت کی زیارت سے مشرف ہواتودل میں   کہا :   ’’ اللہ اَکْبَر ایک نشانی تودیکھ لی ۔  ‘‘ پھر اگلی رات بھی میں   نے اسی طرح کیا اور میرے ساتھ کام کرنے والوں   نے کچھ ناراضی کا اظہار نہ کیا ۔ میں  کچھ کھجوریں   جمع کرکے انتظار کرنے لگا ۔  جیسے ہی مصطفی جانِ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی  تشریف آوری کا وقت ہواتومیں   نے کھجوریں   لیں   اورحاضرہوکر خدمت میں   پیش کردیں   ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِستفسار فرمایا :   ’’ یہ کیا ہے ؟  ‘‘ میں   نے عرض کی :   ’’ صدقہ ہے ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ کھجوریں   اپنے صحابہ  ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  کوتنا و ُل کرنے کاحکم دیااورخود ان میں   سے کچھ بھی تناو ُل نہ فرمایا ۔  ‘‘ میں   نے دل میں   کہا :   ’’ اللہ اَکْبَریہ دوسری نشانی ہے  ۔  ‘‘

            پھرتیسری رات بھی میں   نے کچھ کھجو ریں   جمع کیں   اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہو کر پیش کردیں   ۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے متعلق اِستفسار فرمایاتو میں   نے عرض کی :   ’’ ہدیہ ہے ۔  ‘‘  سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں   خود بھی تناوُل فرمائیں   اور صحابہ ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  نے بھی کھائیں  ،  یہ دیکھتے ہی میں   نے کہا :  ’’ میں   گواہی دیتاہوں   کہاللہ عَزَّوَجَلَّکے سواکوئی معبودنہیں   اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے رسول ہیں   ( [1] ) ۔  ‘‘ حضورنبی ٔ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے میرا حال دریافت فرمایاتو میں   نے سارا واقعہ کہہ سنایا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ جاؤ اور جاکر اپنے آپ کو خرید لو ۔  ‘‘  چنانچہ ،   میں   اپنے مالک کے پاس آیا اور کہا :  ’’ میرانفس مجھے بیچ دو ۔  ‘‘ مالک نے کہا :  ’’  میں   تجھے اس شرط پر بیچتا ہوں   کہ تم میرے لئے کھجورکے 100درخت لگاؤیہاں   تک کہ وہ تیارہوکر پھل دینے لگیں   اور اس کے ساتھ کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا بھی دو ۔  ‘‘

            چنانچہ،  میں   نے خدمت ِاقدس میں   حاضر ہوکرساری بات عرض کی تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :   ’’ جو اس نے مانگا ہے اسے دے دو اورجس کنوئیں   سے تم باغ کو سیراب کرتے ہواس سے ایک ڈول پانی بھر کر میرے پاس لاؤ  ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  ـ :  میں   اپنے مالک کے پاس گیا اور اس کی مطلوبہ شرائط پر اپنے آپ کو خرید لیا اور جس کنوئیں   سے باغ کو سیراب کیا جاتا تھا اس سے پانی کا ایک ڈول لے کر بارگاہِ رسالتعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہوگیا ۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرے لئے دُعا فرمائی پھرمیں   نے اس پانی سے کھجوروں   کے درخت لگادئیے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  ان میں   سے ایک بھی کھجورکا درخت نہیں   مُرجھایا،   جب اس کا پھل ظاہر ہو گیاتومیں   نے بارگاہِ رسالتعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہوکر عرض کی کہ ’’ پھل پک کرتیارہوچکا ہے ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کھجور کی گٹھلی کے برابرسونا منگوایا اور مجھے عطا فرمایامیں   وہ سونالے کرایک آدمی کے پاس گیااورترازو کے ایک پلڑے میں   سونااور دوسرے میں   کھجور کی گٹھلی رکھ دیا ۔  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! سونے والا پلڑا زمین سے نہ اُٹھا ۔ پھرمیں   بارگاہِ نبوتعَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہواتو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’ اگرتم اتنے اتنے وزن کی بھی شرط مان لیتے تو یہ سونے کا ٹکڑا اس سے بھاری ہوتا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ اس کے بعدمیں   حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِاقدس میں   حاضر ہوگیا اورہروقت  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت رہتا  ۔  ‘‘

 ( 612 )  ( ب ) … حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان فرماتے ہیں   کہ میں   شہرِ ’’  اَصْبَہَان ‘‘  کے ایک دیہات میں   رہتا تھا ۔ ایک دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے میرے دل میں   یہ بات القا فرمائی کہ آسمانوں   اورزمین کاخالق کون ہے ؟ پس میں  ایک ایسے آدمی کے پاس گیاجواپنی باتوں  سے لوگوں   کوپریشان نہیں   کرتاتھا میں   نے اس سے پوچھا :   ’’ کون سادین افضل ہے ؟  ‘‘ اس نے کہا :  ’’ تجھے یہ نئی بات کہاں   سے سوجھی،  تواپنے باپ کے دین کے سوا اوردین اختیارکرناچاہتا ہے ؟  ‘‘  میں   نے کہا :  ’’ نہیں   ! لیکن میں  یہ جانناچاہتاہوں  کہ آسمانوں   اورزمینوں   کامالک کون ہے ؟ سب سے افضل دین کون ساہے ؟  ‘‘ اس نے کہاکہ ’’  مَوْصَل ‘‘ میں   ایک راہب ہے اس سے بڑاکوئی عالم نہیں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   اس کی طرف چل دیا،  میں   اس کے پاس رہاتومیں   پوری دنیا میں   اس پربھروسا کرنے لگا ۔ وہ دن کوروزہ رکھتااوررات عبادت میں   بسر کرتا،  میں   بھی اس کی طرح عبادت



[1]    حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضور سیِّدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مدینہ منورہ زَادَھَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًامیں   تشریف آوری کے بعد اسلام لائے ۔جیساکہ بعد والی روایت سے ظاہرہے۔اوربعض نے کہاہجرت سے پہلے مکۂ مکرمہزَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًامیں   اسلام قبول کیا۔یہ قول ضعیف ہے۔ ( ماخوذ ازمعرفۃ الصحابۃ ،   الرقم۱۲۰۷ ، ج۲ ، ص۴۵۵ )



Total Pages: 273

Go To