Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

محبت خداوندی کی بشارت :  

 ( 610 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبُرَیْدَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :  ’’ جبریل امین ( عَلَیْہِ السَّلَام )  میرے پا س آئے اور بتایا کہاللہعَزَّوَجَلَّ میرے 4 صحابہ سے محبت فرماتا ہے ۔  ‘‘ حاضرین میں   سے ایک نے عرض کی :   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   !  وہ 4صحابہ کون ہیں    ؟   ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ علی ،  سلمان،   ابوذَر اور مِقْدَاد ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )   ۔  ‘‘    ( [1] )

 جنت بھی مشتاق ہے :  

 ( 611 ) … حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبی ٔ اکرم،   نُورِمُجَسَّم،   شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :  ’’ جنت 4 افراد کی مشتاق ہے :    ( ۱ ) علی ( ۲ )  سلمان  ( ۳ )  عمّار اور  ( ۴ ) مِقْدَاد  ۔  ‘‘    ( [2] )

مذہب ِحق کی تلاش :  

 ( 612 )  ( الف ) … حضرت سیِّدُناسلمان فارِسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں   ’’ اَصْبَہَان ‘‘  کے ایک علاقے میں   رہتا تھا،  وہاں   کے لوگ سنگِ مرمر سے بنے ہوئے ایک گھوڑانُما بت کی پوجا کیاکرتے تھے اور میں   ان کے اس عمل کوبراسمجھتا تھا  ۔  پھر کسی نے مجھے بتایاکہ تم جس دین کی تلاش میں   ہو اس کے پیروکار مغرب میں   پائے جاتے ہیں   ۔

چنانچہ،  میں   وہاں   سے چل دیا اور ’’ مَوْصَل ‘‘  کی سرزمین پر جا پہنچا ۔ وہاں   کے لوگوں   سے پوچھا کہ یہاں   سب سے بڑا عالم کون ہے  ؟  ‘‘ انہوں   نے مجھے ایک ایسے آدمی کا پتہ بتایا جو گرجا میں   بیٹھاتھا ۔  میں  اس کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ ’’ میں   مشرق میں   رہتاہوں   ۔ نیکی وبھلائی کی تلاش میں   یہاں   آیاہوں   ۔ اگرآپ مناسب سمجھیں   تو میں   آپ کے پاس رَہ کر آپ کی خدمت کروں   اور اللہعَزَّوَجَلَّنے آپ کو جو علم عطافرمایا ہے اس میں   سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں   ۔  ‘‘  فرماتے ہیں : ’’ اس نے اجازت دیتے ہوئے کہاٹھیک ہے ۔  ‘‘  یوں  میں   اس کے پاس اس شخص کی طرح رہنے لگا جس کے ذمہ گندم،   سرکہ،   اور زیتون کا حساب ہوتا ہے اور جب تک اللہعَزَّوَجَلَّنے چاہامیں   اس کی صحبت میں   رہابالآخر اس کی موت کا وقت آپہنچا ۔ میں   اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا ۔  اس نے رونے کا سبب دریافت کیا ؟ تومیں   نے کہا :   ’’ میں   نے بھلائی کی جستجو میں   اپنا وطن چھوڑا اللہعَزَّوَجَلَّنے مجھے آپ کی اچھی صحبت سے نوازا اور آپ نے مجھیاللہعَزَّوَجَلَّ کے عطا کردہ علوم سکھائے ۔ اب آپ وفات پا رہے ہیں   ۔ میں   آپ کے بعدکہاں  جاؤں  گا ؟  ‘‘ اس نے کہا :   ’’ فلاں   جگہ میرا ایک بھائی رہتا ہے ۔  وہ حق پر ہے ۔  جب میں   مر جاؤں   تو تم اس کے پاس جانااسے میرا سلام کہنا اور بتانا کہ میں   نے تمہیں  اس کی صحبت اختیارکرنے کی وصیت کی ہے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ جب اس کا انتقال ہو گیاتو میں   وہاں   سے اُٹھا اور اس کے بتائے ہوئے آدمی کے پاس پہنچ کر اسے بتایا کہ آپ کے فلاں   بھائی نے آپ کو سلام کہا ہے  ۔  ‘‘  اُس نے سلام کا جواب دیا پھرپوچھا :  ’’ اسے کیا ہوا ؟  ‘‘  میں   نے کہا :   ’’ اس کا انتقال ہو چکا ہے ۔  ‘‘  پھر میں   نے اسے اپنا سارا قصہ سنایااور کہاکہ ’’   انہوں   نے مجھے آپ کی صحبت میں   رہنے کی وصیت کی ہے ۔  ‘‘

            اس نے مجھے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی اورمیرے ساتھ اچھا برتاؤ کیا اور اب میں   پہلے ہی کی طرح اس کے یہاں  رہنے لگا ۔ جب اس کی موت کاوقت قریب آیاتو میں   اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا ۔ اس نے رونے کی وجہ پوچھی تو میں   نے کہا :  ’’  میں   نے اپنا وطن چھوڑاپس اللہعَزَّوَجَلَّنے مجھے فلاں   کی صحبت عطا فرمائی انہوں   نے اچھا ساتھ نبھایا اوراللہعَزَّوَجَلَّ کے عطا کردہ علوم سے فیضیاب کیا اور جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں   نے مجھے آپ کا پتہ بتایا آپ نے بھی میرے ساتھ اچھا سلوک کیا اوراللہعَزَّوَجَلَّکے عطا کردہ علوم میں   سے مجھے سکھایااور اب آپ بھی دنیا سے جارہے ہیں   تومیں   کہاں   جاؤں   گا ؟  ‘‘  اس نے کہا :   ’’ ملکِ رُوم میں   میرا ایک بھائی رہتا ہے وہ حق پر ہے اس کے پاس جا کر میرا سلام کہنا اوربتانا کہ میں   نے تمہیں   اس کے پاس رہنے کا حکم دیا ہے ۔  ‘‘

            جب وہ شخص فوت ہوگیا تو میں   وہاں   سے نکل کر سفر کرتے ہوئے اس کے بتائے ہوئے شخص کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہاکہ ’’  آپ کے فلاں   بھائی نے آپ کو سلام کہا ہے اور مجھے آپ کے پاس رہنے کاحکم دیاہے ۔  ‘‘  اس نے سلام کا جواب دیااور پوچھا :  ’’  وہ کیسے ہیں   ؟  ‘‘  میں   نے کہا :   ’’ وہ فوت ہوگئے ہیں   ۔  ‘‘ پھر میں   نے اسے اپنا قصہ بتایااور کہا کہ ’’  انہوں   نے مجھے آپ کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔  ‘‘  اس نے مجھے قبول کر کے اچھی صحبت سے نوازا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عطا کردہ علوم سے سکھایا جب اس کا وقت وصال قریب آیا تو میں   اس کے سرہانے بیٹھ کر رونے لگا ۔  اس نے رونے کاسبب دریافت کیاتو میں   نے کہا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے آپ کی صحبت عطا فرمائی اب آپ وفات پارہے ہیں  ،   میں  کہاں   جاؤں   گا ؟  ‘‘ اس نے کہا :  ’’ تم کہیں   بھی نہ جا ؤ کیونکہ میں   کسی ایسے شخص کو نہیں   جانتاجو حضرت سیِّدُنا عیسیٰ ( عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام )  کے دین کا پیروکار ہو لیکن اب وہ وقت قریب آ چکا ہے کہ ارضِ تِہَامَہ میں   ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کا ظہور ہونے والاہے یا ہو چکا ہے لہٰذا تم میری وفات کے بعد اِسی گرجا میں   ٹھہرے رہنا اور یہاں   سے گزرنے والے تاجروں   کے ہر قافلے کے بارے میں   پوچھتے رہناکیونکہ رُوم میں   داخل ہونے کے لئے اہلِ حجاز کے تجارتی قافلے یہیں   سے گزرتے ہیں   ۔ لہٰذاجب حجازکے تاجروں   کاکوئی قافلہ روم میں   آئے توان سے پوچھنا کہ ’’ کیا تمہارے ہاں   کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ۔  ‘‘ جب تجھے کسی شخص کے بارے میں   بتادیا جائے کہ اس نے نبوت کا دعوی کیا ہے،   توتم ان کے پاس چلے جانا کیونکہ یہ وہی ہوں   گے جن کی بشارت حضرت سیِّدُنا عیسیٰ  ( عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام )  نے دی ہے اور ان کی نشانی یہ ہے کہ ان کے دونوں   کندھوں   کے درمیان مہرنبوت درخشاں  ہو گی،   وہ ہدیہ تناول فرمائیں   گے لیکن



[1]    سنن ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ ،  باب فضل سلمان وابی ذروالمقداد ،  الحدیث : ۱۴۹ ، ص۲۴۸۶ ، مختصرًا۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۶۰۴۵ ، ج۶ ، ص۲۱۵ ، بتغیرٍ۔



Total Pages: 273

Go To