Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

انفرادی کوشش کادلنشین انداز :  

 ( 605 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قبیلۂ ’’   بنی عَبس  ‘‘ کے ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت اختیار کی  ۔  اس نے دریائے دِجلہ سے ایک چلو پانی پیاتوآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے مزید پینے کا کہا ۔  اس نے عرض کی :  ’’  میں   سیر اب ہو گیا ہوں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تیرا خیال ہے کہ تیرے پینے سے اس سے پانی کم ہوا ہے ؟  ‘‘  اس نے عرض کی :  ’’  میرے ایک گھونٹ پی لینے سے کیا کم ہوگا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ اسی طرح علم بھی حاصل کرنے سے کم نہیں   ہوتا لہٰذا تم وہ علم ضرور حاصل کرو جو تمہیں   نفع دے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 606 ) … حضرت سیِّدُناحَفْص بن عُمرسَعْدِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُنا حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا :  ’’  اے عَبسی بھائی !   ( یعنی اے قبیلۂ بنو عَبس سے تعلق رکھنے والے  )  بے شک علم بہت زیادہ اور عمربہت تھوڑی ہے لہٰذا دین کا ضروری علم حاصل کرو اور اس کے ماسوا کو چھوڑ دو کیونکہ اس پر تمہاری مدد نہیں   کی جائے گی  ۔  ‘‘  ( [2] )

کفار سے جنگ میں   سنت طریقہ :  

 ( 607 ) … حضرت سیِّدُنااَبوبَخْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ مجاہدینِ اسلام کے ایک لشکر نے ایران کے ایک قلعے کا محاصرہ کر لیا ۔ اس لشکر کے امیر حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تھے ۔  اہلِ لشکرنے عرض کی :  ’’ اے ابوعبداللہکیاہم ان پر حملہ نہ کر دیں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ مجھے جانے دومیں   انہیں   اسلام کی دعوت دیتا ہوں   جس طرح میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کو مشرکین کو دعوت دیتے ہوئے سُناہے ۔  ‘‘ چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اہلِ قلعہ سے فرمایا :  ’’ میں   تم لوگوں   میں  سے ہی ایک فارسی ہوں   ۔  تم دیکھتے نہیں   کہ عرب کس طرح میری اِطاعت کرتے ہیں   ؟ اگر تم اِسلام قبول کرلوتوتمہارے لئے بھی وہی احکام ہوں   گے جو ہمارے لئے ہیں   اور تم پر بھی وہی چیز لازم ہو گی جو ہم پر لازم ہے اور اگر تم نے اِسلام قبول نہ کیا توہم تمہیں   تمہارے ہی دین پر چھوڑ دیں   گے لیکن پھر تمہیں   ذلّت کے ساتھ جزیہ دینا پڑے گا ۔  ‘‘

            پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فارسی میں   گفتگوکرتے ہوئے فرمایا :   ’’ تم قابلِ تعریف نہیں   ہو اگر تم نے ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا تو ہم تم سے اعلانِ جنگ کریں   گے ۔  ‘‘ اہلِ قلعہ نے کہا :  ’’ ہم نہ ایمان لائیں   گے اورنہ ہی جزیہ دیں   گے بلکہ تم سے جنگ کریں   گے ۔  ‘‘ مجاہدین اسلام نے عرض کی :   ’’  اے ابوعبداللہ ! کیاہم ان پر حملہ نہ کر دیں   ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’  نہیں   !   ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ انہیں   تین دن تک اسی طرح اسلام کی دعوت دیتے رہے پھر فرمایا :   ’’ اے اہلِ لشکر !  ان پر حملہ کر دو !  ‘‘ لشکرِ اسلام نے ان پر حملہ کر دیا اور قلعہ فتح کر لیا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 608 ) … حضرت سیِّدُنا ابولَیْلٰی کِنْدِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ 12 یا 13 صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن پرمشتمل ایک قافلے میں   تشریف لائے  ۔ جب نماز کا وقت ہوا توصحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے انہیں   امامت کروانے کا کہاتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  میں   نہ توتمہارا امام بنوں   گااور نہ ہی تمہاری عورتوں   سے شادی کروں   گا کیونکہاللہعَزَّوَجَلَّ نے ہمیں   تمہارے ذریعے ہدایت عطا فرمائی ہے ۔  ‘‘ راوی کہتے ہیں : ’’  پھر ایک صحابی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  آگے بڑھے اور جب 4 رکعت نماز پڑھاکر سلام پھیراتوحضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ ہمیں   4 رکعتیں   پڑھنے کی ضرورت نہیں   تھی دو ہی کافی تھی کیونکہ ہم رخصت کے زیادہ محتاج ہیں   ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناعبد الرّزَّاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاق فرماتے ہیں : ’’ اس سے مراد سفر ( میں   رخصت  ) ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

عشا کے بعدلوگ تین قسم کے ہوجاتے ہیں :

 ( 609 ) … حضرت سیِّدُنا طارِق بن شِہَاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَھَّاب  فرماتے ہیں :  میں   نے حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس رات گزاری تاکہ ان کی عبادت کو ملاحظہ کرسکوں    ۔ چنانچہ،   جب رات کا پچھلا پہر ہوا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اُٹھ کر نماز ادا کی گویا کہ میں  جوسمجھتاتھا  ( کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ساری رات عبادت کرتے ہیں   )  ویسا دیکھنے میں   نہ آیا ۔  میں   نے یہ بات آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے بیان کی توفرمایا :  ’’  ان پانچ فرض نمازوں   کی پابندی کرو تویہ درمیان میں   ہونے والے گناہوں   کاکفارہ بن جاتی ہیں   جب تک گناہِ کبیرہ کاارتکاب نہ کیا جائے ۔  ‘‘ مزید فرمایاکہ ’’  لوگ جب عشاء کی نمازادا کر لیتے ہیں   تو تین قسم کے ہوجاتے ہیں :  ( ۱ ) وہ لوگ جن کے لئے یہ رات وبال بن جاتی ہے اور وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں   اٹھاپاتے ( ۲ ) بعض خوش نصیبوں   کے لئے بھلائی کاسبب بن کر آتی ہے اور  انہیں   وبال سے بچاتی ہے اور ( ۳ )  بعض نادانوں   کے لئے یہ رات نہ توفائدہ مندثابت ہوتی ہے اورنہ ہی وبال بنتی ہے ۔  جن کے لئے وبال بنتی ہے اور فائدے سے خالی ہوتی ہے یہ وہ ہیں   جو رات کی تاریکی اور لوگوں   کی غفلت کو غنیمت جان کردلیری سے گناہوں  میں   رات بسر کرتے ہیں   اورجورات کی تاریکی اور لوگوں   کی غفلت کو غنیمت سمجھ کر رات میں   اٹھ کرعبادت کرتے ہیں   ان کے لئے یہ رات فائدہ مند ہے و بال نہیں   اورجونماز پڑھ کر سو جاتے ہیں   ان کے لئے نہ فائدہ مند ہے اور نہ ہی وبال  ۔ لہٰذاتم غفلت سے بچو،  اللہعَزَّوَجَلَّ کی عبادت کا قصدکرواور اس پر ہمیشگی اختیار کرو ۔  ‘‘    ( [5] )

 



[1]    الزہدلابن المبارک ،   باب ماجاء فی قبض العلم ،   الحدیث : ۸۲۲ ، ص۲۸۳ ، بتغیرٍ۔

[2]    صفۃ الصفوۃ ،   الرقم۵۹ سلمان الفارسی رضی اللہ عنہ  ،   ذکرنبذ ۃ من کلامہ ومواعظہ ، ج۱ ، ص۲۸۰۔

[3]    جامع الترمذی ،  ابواب السیر ،  باب ماجاء فی الدعوۃ قبل القتال ،  الحدیث : ۱۵۴۸ ، ص۱۸۱۰۔

[4]    المصنف لعبدالرزاق ،  کتاب الصلاۃ ،  باب الصلاۃ فی السفر ،  الحدیث : ۴۲۹۴ ، ج۲ ، ص۳۴۳۔

                المصنف لعبد الرزاق ،   کتاب النکاح ،  باب الاکفاء ،  الحدیث : ۱۰۳۶۷ ، ج۶ ، ص۱۲۴۔

[5]    المصنف لعبد الرزاق ،  کتاب الصلاۃ ،  باب الصلا ۃ فی السفر ،  الحدیث : ۴۷۴۹ ، ج۲ ، ص۴۱۶۔



Total Pages: 273

Go To