Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

سنت ِ نکاح میں   شریعت کی پاسداری:

 ( 599 ) … حضرت سیِّدُناابوعبدالرحمن سُلَمِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیحضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں   کہ آپ کانکاح قبیلۂبنی کِنْدَہ کی ایک عورت سے ہوااور شبِ عروسی کاانتظام ان کے سسرال کے ہاں   ہوا،   رخصتی کی رات آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے دوست احباب بھی دُلہن کے گھرچلے ،   گھر پہنچے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ لوگوں   کوجزائے خیر عطا فرمائے اب آپ لوگ لوٹ جائیں    ۔  ‘‘  اور گھر کے اندر نہ جانے دیاجس طرح کہ بیوقوف لوگ اپنے دوستوں   کو زوجہ کے گھرداخل کرلیتے ہیں   ۔ جب آپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی دلہن کا گھرخوب سجا دھجا دیکھاتو فرمانے لگے کہ ’’   تمہارے گھر کو بخار آگیا ہے یا کعبہ شریف کِنْدَہ منتقل ہو گیا ہے  ؟   ‘‘  اہل خانہ نے کہا :  ’’ نہ توہمارے گھر کو بخار ہے اورنہ ہی کعبہ شریفکِنْدَہ منتقل ہوا ہے ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدروازے پرلٹکے پردے کے سواسارے پردے اُترواکراندرداخل ہوئے اوروہاں  بہت سارا سامان دیکھاتو پوچھا :   ’’  اتنا سامان کس کے لئے ہے ؟   ‘‘ گھرمیں   موجود لوگوں   نے کہا :  ’’ آپ اور آپ کی زوجہ کے لئے ۔  ‘‘  فرمایا :  مجھے میرے خلیل صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے زیادہ مال و دولت جمع کرنے کی نہیں   بلکہ اس بات کی نصیحت فرمائی تھی کہ ’’  تمہارے پاس دنیاوی مال صرف اتنا ہو جتنامسافر کا زادِ راہ ہوتا ہے ۔  ‘‘ پھروہاں   ایک خادم دیکھا تو دریافت فرمایا :  ’’ یہ کس کے لئے ہے ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا :   ’’ یہ آپ اور آپ کی اہلیہ کی خدمت کے لئے ہے ۔  ‘‘  فرمایا :   ’’ مجھے میرے خلیل صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خادم رکھنے کی نصیحت نہیں   فرمائی بلکہ صرف اسے روکنے کا فرمایا جس سے میں  نکاح کروں   اور فرمایاکہ اگر تم نے ( سسرال والوں   سے )  مزید کچھ لیاتوتمہاری عورتیں   تمہاری نافرمان ہو جائیں  گی اور اس کا گناہ ان کے خاوندپرہوگااور عورتوں   کے گناہ میں   بھی کوئی کمی نہ ہو گی  ۔   ‘‘ پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے وہاں   موجود دوسری عورتوں   سے فرمایا :   ’’  تم یہاں   سے جاؤ گی یایونہی میرے اور میری بیوی کے درمیان آڑ بنی رہو گی ؟   ‘‘  وہ بولیں :  ’’  ہم چلی جائیں   گی ۔  ‘‘ وہ چلی گئیں   ۔ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے دروازہ بند کر کے اس پرپردہ ڈال دیااورزوجہ کے پاس آکربیٹھ گئے،  اس کی پیشانی پرہاتھ رکھ کر برکت کی دعا کی اورفرمایا :   ’’ جومیں   کہوں  مانوگی ؟  ‘‘ اس نے عرض کی :  ’’ جی ہاں   ! میں   آپ کی اطاعت کروں   گی ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ مجھے میرے خلیل صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نصیحت فرمائی ہے کہ جب میں   اپنی بیوی کے پاس جاؤں   تو اس کے ساتھ مل کراللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کروں   ۔  ‘‘ پھردونوں   میاں   بیوی اُٹھے ،   مسجدمیں   گئے اور جب تک ہو سکااللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں   مصرو ف رہے،   اس کے بعدحق زوجیت ادا کیا ۔

            صبح جب دوستوں   سے ملاقات ہوئی تووہ رات کے اَحوال پوچھنے لگے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے اعراض کیا،   انہوں   نے پھرپوچھا،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے پھر کوئی جواب نہ دیا،   تیسری بارپوچھنے پرآپرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے اعراض کرتے ہوئے فرمایا :  اللہ عَزَّوَجَلَّنے گھروں   کے پرد ے اور دروازے اس لئے بنائے ہیں   تاکہ اندر کی بات اندر ہی رہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ مجھ سے باہر کی باتوں   کے بارے میں   دریافت کرواور جو چیز انسان سے غائب ہو اس کے بارے میں   ہر گز سوال نہیں   کرنا چاہئے کیونکہ میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِرشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’   اس بارے میں   گفتگو کرنے والے راستے میں   جفتی کرنے والے گدھوں   کی طرح ہیں    ۔  ‘‘    ( [1] )

نکاح نیک عورت سے کیاجائے :   

 ( 600 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سفرسے واپسی پر حضرت سیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ملاقات امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوئی تو انہوں   نے فرمایا:  ’’ میں   تجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہونے پر خوش ہوں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناسلمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ اگرایساہے توپھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ میرانکاح کروادیجئے ۔  ‘‘  امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ خاموش رہے اورکوئی جواب نہ دیا ۔ حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا :  ’’  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مجھ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہونے پر توخوش ہیں   لیکن اس بات پرراضی کیوں   نہیں   ؟  ‘‘ صبح ان کے پاس امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قبیلے کے لوگ آئے،   حضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ان سے پوچھا :  ’’  کوئی کام ہے ؟  ‘‘  بولے:  ’’ جی ہاں   !  ‘‘  آپ نے فرمایا :  ’’  جب بات ختم ہو گئی تو اب کیاکام ہے ؟  ‘‘  انہوں   نے کہا :  ’’  آپ نے امیرالمؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوجوکہاہے اس کا اِرادہ ملتوی کر دیں   ۔  ‘‘ فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  مجھے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی حکومت یا سلطنت نے اس پر آمادہ نہیں   کیا بلکہ میری نیت تو یہ تھی کہ ایک نیک آدمی کے خاندان میں   نکاح کر وں   گا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطاسے نیک اولاد پاؤں   گا ۔  ‘‘

             راوی بیان کرتے ہیں   کہ پھرحضرت سیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کِنْدَہکی رہنے والی ایک عورت سے نکاح کر لیا،  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  گھر میں   داخل ہوئے توگھر کو مزیّن اور اس میں   کچھ عورتوں   کوموجودپایاتو فرمایا :  ’’ کیا کعبہ شریفکِنْدَہمنتقل ہوگیایااس گھر کوبخارآگیاہے ؟  ‘‘ پھرفرمایا :  میرے خلیل حضرت سیِّدُنا ابوالقاسم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں   فرمایاتھاکہ ’’ جب ہم میں   سے کوئی نکاح کرے توصرف اتنا سامان بنائے جتنا مسافر کے لئے زادِ راہ ہوتاہے اور عورتوں   میں  سے صرف اپنی بیوی سے تعلُّق رکھے ۔  ‘‘ اس کے بعدسب عورتیں   گھر سے چلی گئیں   اور تمام پردے اتار دئیے گئے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنی زوجہ کے پاس گئے اور فرمایا :   ’’ تم میری فرمانبرداری کروگی یا نافرمانی  ؟  ‘‘  زوجہ نے عرض کی :  ’’  میں   آپ کی فرمانبرداری کروں   گی آپ جو چاہیں   حکم فرمائیں    ۔   ‘‘

             آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میرے خلیل حضرت سیِّدُنا ابوالقاسمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   فرمایاتھاکہ جب کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو نمازادا کرے ۔  ‘‘ پھرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی بیوی کو اپنے پیچھے نماز پڑھنے کاکہا پھردعا مانگی اوراسے آمین کہنے کا فرمایا ۔  چنانچہ،   اس نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے کہنے کے مطابق کیا ۔  صبح کو آپ رَضِیَ اللہ



[1]    المصنف لعبد الرزاق ،   کتاب النکاح ،  باب ما یبداالرجلالخ ،  الحدیث۱۰۵۰۳ ،  ج۶ ،  ص۱۵۴ مفہومًا۔



Total Pages: 273

Go To