Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

تَعَالٰی عَنْہ نے بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   پہنچ کر عرض کی :  یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سونے چاندی کے بارے میں   جوحکم نازل ہونا تھا  ہوا،  مہاجرین کہتے ہیں : ’’ کاش ! ہمیں   پتہ چل جائے کہ سونے،   چاندی کے بعداب کون سا مال ہمارے لئے بہتر ہے  ؟  ‘‘  حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ’’  ذکر کرنے والی زبان،   شکر کرنے والادل اور ایمان دار بیوی جوایمان پر تمہاری مدد کرے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 593 ) … حضرت سیِّدُناثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : جب سونے چاندی کو حرام کردیاگیا  ( [2] )تو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کہنے لگے کہ ’’   پھرہم کون سا مال اختیار کریں   ؟  ‘‘ توامیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ میں   تمہیں   بتاتا ہوں   ۔  ‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اونٹ پر سوار ہوئے اور بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہوگئے ۔  حضرت سیِّدُنا ثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی پیچھے پیچھے چل دیئے  ۔ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم کون سا مال اختیار کریں   ؟   ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’  شکرکرنے والادل،  ذکر کرنے والی زبان اور ایماندار بیوی جو آخرت کے معاملے میں   تمہاری مدد کرے  ۔  ‘‘   ( [3] )

٭٭٭٭٭٭

 حضرت سیِّدُنارَافِع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

             سلطانِ دوجہان ،   سرورِ ذیشان ،   محبوب رحمانصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم،  حضرت سیِّدُنا اَبُوالْبَہِی رَافِعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ گھٹیاوناپائیدار دنیاسے نفرت اور بارونق وچمکدار آخرت سے محبت رکھتے  ۔

 ( 594 ) … حضرت سیِّدُنامحمد بن سعیدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَجِید بیان کرتے ہیں   کہ بنو سعید کا ایک مشترکہ غلام تھاجسے ایک شخص کے سواسب نے آزاد کر دیاتھا ۔  وہ غلام اپنے باقی حصے کی آزادی کی سفارش کروانے بارگاہِ رسالت عَلٰیصَاحِبِہَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضر ہوا،  حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مالک سے بات کی تو اس نے اپنا حصہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ہبہ کر دیاپھر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے آزاد فرما دیا ۔ وہ غلام کہا کرتا تھا :  ’’ میں   حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا غلام ہوں    ۔  ‘‘  اس خوش نصیب غلام کا نامِ نامی اسمِ گرامی حضرت سیِّدُنااَبوالْبَہِی رَافِعرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

مَخْمُوْمُ الْقَلْب کا مفہوم:

 ( 595 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   عرض کی گئی:  ’’ لوگوں   میں   سب سے افضل کون ہے ؟   ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’  سچا اور ’’  مَخْمُوْمُ الْقَلْب ‘‘    مسلمان  ۔   ‘‘  عرض کی گئی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ’’  مَخْمُوْمُ الْقَلْب ‘‘ سے کیا مراد ہے ؟   ‘‘ ارشاد فرمایا :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے والا،   ہر قسم کے گناہ ،   سرکشی ،   دھوکا دہی اور حسد سے بچنے والا ۔  ‘‘  صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْنے عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! ان صفات کو کون اپنا سکتا ہے ؟   ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ جو شخص دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت کرے ۔  ‘‘ صحا بۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ فرماتے ہیں : ’’  ہم اپنے درمیان صرف حضرت رَافع رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ان صفات کا حامل پاتے ہیں   ۔  ‘‘ پھر عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کون شخص ان صفات کو پانے میں   کامیاب ہو سکتا ہے ؟  ‘‘ ارشاد فرمایا :   ’’ اچھے اخلاق والا مسلمان  ۔  ‘‘    ( [5] )

  حضرت سیِّدُناابورَافِع اَسْلَمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            سلطانِ دوجہان ،   سرورِ ذیشان ،   محبوبِ رحمنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ویسے توغزوۂ بدر سے پہلے ہی اسلام قبول کر چکے تھے لیکن اظہارنہ کیا ( چونکہ حضرت سیِّدُناعباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے غلام تھے ) اس لئے ان کے ساتھ ہی رہتے تھے ۔ جب قریش کا خط لے کر تاجدار رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   مدینۂ منورہ



[1]    جامع الترمذی ،  ابواب تفسیرالقرآن ،  باب ومن سورۃ التوبۃ ،  الحدیث : ۳۰۹۴ ، ص۱۹۶۴۔

                سنن ابن ماجہ ،  ابواب النکاح ،  باب افضل النساء  ،   الحدیث : ۱۸۵۶ ، ص۲۵۸۸

[2]    سوناچاندی مرد و عورت دونوں   پر مطلقاً حرام نہیں   بلکہ اس میں   تفصیل ہے۔دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب  ،  ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 253پر صدرُ الشَّریعہ ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں   :  ’’مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے۔ صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے جو وزن میں   ایک مِثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہواور سونے کی انگوٹھی بھی حرام ہے۔‘‘کچھ آگے چل کر مزید فرمایا : ’’انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے۔ مثلاً لوہا ،  پیتل  ،  تانبا  ،  جَست وغیرہا ان دھاتوں   کی انگوٹھیاں  مرد و عورت دونوں   کے لئے ناجائز ہیں   ،  فرق اتنا ہے کہ عورت سونابھی پہن سکتی ہے اور مرد نہیں   پہن سکتا۔‘‘  ( بہارِشریعت ،  حصہ۱۶ ، ص۶۱۱ )

            مدنی مشورہ : مزید تفصیلات کے لئے بہارِ شریعت کو اسی مقام سے ملاحظہ فرمائیے۔     ( علمیہ )

[3]    سنن ابن ماجہ ،  ابواب النکاح ،   باب افضل النساء ،   الحدیث۱۸۵۶ ، ص۲۵۸۸۔

                المسند للامام احمد بن حبنل  ،  حدیث ثَوْبان ،   الحدیث۲۲۵۰۰