Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 587 ) … حضرت سیِّدُناثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ رحمت ،   شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ لوگوں   سے سوال نہیں   کرے گا میں   اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں   ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’ میں   ضمانت دیتا ہوں   ۔  ‘‘  پس آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کبھی کسی سے سوال نہیں   کیا ۔    ( [1] )

 ( 588 ) … حضرت سیِّدُناثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   مدینے کے تاجدارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  جو شخص بلاضرورت کسی چیزکاسوال کرے گاتوبروزِقیامت وہ چیز اس کے چہرے پر عیب بن کر ظاہرہوگی  ۔  ‘‘    ( [2] )

زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں   کا اَنجام :  

 ( 589 ) … حضرت سیِّدُناثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   جو شخص مال چھوڑ کر مرا ( جس کی زکوۃ نہ اداکی ہو )  توبروزِقیامت وہ مال اس کے لئے گنجے سانپ کی صورت میں   آئے گااس کی دونوں   آنکھوں   کے اوپر سیاہ نقطے ہوں   گے وہ اس شخص کا پیچھاکرے گا تو وہ کہے گا: ’’ تیراناس ہو !  توکون ہے ؟  ‘‘  سانپ کہے گا :   ’’ میں   تیرا وہ خزانہ ہوں   جو تو اپنے پیچھے چھوڑآیاتھا ۔  ‘‘ پھر وہ سانپ اس کاتعاقب کرے گایہاں   تک کہ اس کاہاتھ،   منہ چبالے گاپھر اس کا سارا جسم نگل جائے گا ۔    ( [3] )

 ( 590 ) … حضرت سیِّدُناثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ پاک،   صاحبِ لَولاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  جو شخص سونا یاچاندی  ( اس حال میں   ) چھوڑ کرمرا ( کہ اس کی زکاۃ ادانہ کی ہو )  تو اللہعَزَّوَجَلَّ ( بروزِقیامت ) اس کے لئے چوڑی تلواریں   بنائے گاجن کے ذریعے اسے قدموں   سے ٹھوڑی تک داغا جائے گا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابو عامررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ   فرماتے ہیں  کہ حضرتِ سیِّدُنا ثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے فرمایا :   ’’ اے ابو عامر !  اگر تمہارے پاس بکری ہو اور اس کا دودھ بچ جائے تو اس بچے ہوئے دودھ کو بھی تقسیم کر دو ۔  ‘‘    ( [4] )

دُنیا کی محبت کا وبال :  

 ( 591 ) … حضورنبی ٔمُکَرَّم،  نُورِمُجَسَّم،   رسولِ اَکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے آزاد کردہ غلام حضرت سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ دوجہاں   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ عنقریب تمام کُفّار تمہارے خلاف اس طرح متحدہو جائیں   گے جس طرح کھانے کے برتن پر کھانے والے متحد ہوتے ہیں   ۔  ‘‘  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :   ’’  یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   !  کیا ایسا ہماری قلت کی وجہ سے ہو گا  ؟  ‘‘  فرمایا :   ’’ نہیں    !  اس وقت تمہاری تعداد تو بہت ہوگی لیکن سیلاب کی جھاگ کی طرح تمہاری کوئی اہمیت و وقعت نہ ہو گی ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ  تمہارے دشمنوں   کے دلوں   سے تمہارا رعب ختم کر دے گا اور تمہارے دلوں   میں   ’’ وَھْن ‘‘ ڈال دے گا ۔  ‘‘  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  یہ ’’  وَھْن  ‘‘  کیا ہے  ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’  دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ۔  ‘‘    ( [5] )

کون سا مال بہتر ہے ؟

 ( 592 ) … حضرت سیِّدُناثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ ایک بارہم سرکارِ ا بد ِ قرار،   نبیوں   کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کسی سفر پر تھے کہ مہاجرین نے کہا:  ’’ سونے اور چاندی کے بارے میں   تو جو نازل ہونا تھا ہو چکا،  کاش !  ہمیں   پتہ چل جائے کہ اب کون سا مال بہتر ہے ؟  ‘‘ تو امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ اگر تم چاہو تو میں   حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے تمہارے لئے پوچھ لیتا ہوں   ؟  ‘‘ انہوں   نے کہا :  ’’ ٹھیک ہے  ! آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پوچھ لیں   ۔  ‘‘  چنانچہ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ یہ دریافت کرنے کے لئے بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف چل دیئے ۔ حضرت سیدنا ثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں   بھی پیچھے پیچھے چل دیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ



[1]    سنن ابی داؤد ،  کتاب الزکاۃ ،  باب کراہیۃ المسألۃ ،   الحدیث۱۶۴۳ ،  ص۱۳۴۶۔

[2]    البحر الزخارالمعروف بمسند البزار  ،  مسند ثَوْبان  ،  الحدیث : ۴۱۵۵ ، ج۱۰ ، ص۹۱۔

[3]    صحیح ابن خزیمۃ ،  کتاب الزکاۃ ،   باب ذکر اخبار رویت عن النبی فی الکنزالخ ،  الحدیث : ۲۲۵۵ ، ج۴ ، ص۱۱۔

[4]    فردوس الاخبار للدیلمی ،  باب المیم  ،  الحدیث : ۶۵۰۴ ، ج۲ ، ص۳۲۱ ، اختصارًا۔

[5]    سنن ابی داؤد ،  کتاب الملاحم ،   باب فی تداعی الامم علی الاسلام ،   الحدیث : ۴۲۹۷ ،  ص۱۵۳۶۔

                 المسند للامام احمد حنبل ،  حدیث ثَوْبان  ،   الحدیث۲۲۴۶۰ ، ج۸ ،  ص۳۲۷۔



Total Pages: 273

Go To