Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

ترجمۂ کنزالایمان:  اور پورب و پچھم سب اللہہی کا ہے تو تم جدھر منہ کر و ادھر وجہ اللہ ( خداکی رحمت تمہاری طرف متوجہ ) ہے ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 582 ) … حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی ٔکریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے ایک شخص کونماز میں   چھینک آگئی اس نے نماز ہی میں   کہا ( [2] ):   اَلْحَمْدُلِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًاطَیِّبًامُبَارَکًافِیْہِ کَمَایَرْضٰی رَبُّنَاعَزَّوَجَلَّوَبَعْدَالرِّضٰی وَالْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی کُلِّ حَالٍیعنی:  تمام تعریفیں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں   جوکثرت سے ہیں   ۔ پاکیزہ و مبارَک ہیں    ۔ ایسی تعریف جیسی ہمارارب عَزَّوَجَلَّ پسندفرماتا ہے اور اس کی رضا کے بعد ہر حال میں   اس کا شکر ہے ۔ سلام کے بعدحضور نبی ٔ اکرم ،  نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا :   ’’ یہ کلمات کس نے کہے تھے ؟  ‘‘  ایک شخص نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  میں   نے کہے اور صرف بھلائی کے لئے کہے ۔  ‘‘ توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’  میں   نے 12 فرشتوں   کودیکھاجو ان کلمات کو لکھنے کے لئے جلدی جلدی ان کی طرف بڑھ رہے تھے ۔  ‘‘   ( [3] )

درود شریف کے فضائل :  

 ( 583 ) … حضرت سیِّدُنا عَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سرکارِمدینہ،  راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’ جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُوْدِ پاک پڑھتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر10 رحمتیں   نازل فرماتا ہے،   اب تمہاری مرضی کم پڑھو یا زیادہ ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 584 ) … حضرت سیِّدُناعَامِر بن رَبِیْعَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :  ’’  بندہ جب تک مجھ پر دُرُوْدِپاک پڑھتا رہتا ہے فرشتے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں  ،  اب بندے کی مرضی کم پڑھے یا زیادہ ۔  ‘‘    ( [5] )

حضرت سیِّدُنا ثوْبَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضورنبی ٔ رحمت،  شفیعِ اُمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خادم حضرت سیِّدُنا ابو عبداللہثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ قناعت پسند،   نیک وپارسا اورخوش طبع تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پیارے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیر کفالت زندگی بسر کی ۔ بلاضرورت کسی سے سوال نہ کرنے اور بادشاہوں   کے دربار میں   حاضری سے کترانے کی وجہ سے جنت میں   قیام کے حق دارقرار پائے ۔

 ( 585 ) … حضرت سیِّدُنا یوسف بن عَبْدُ الْحَمِیدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے میری ملاقات ہوئی توانہوں   نے میری انگوٹھی ا ور کپڑے ملاحظہ کئے تو فرمایا :  ’’  ان کپڑوں   اور انگوٹھی کا کیا کرو گے ؟ انگوٹھی تو بادشاہوں   کے لئے ہوتی ہے  ۔  ‘‘ راوی فرماتے ہیں :  ’’ اس کے بعد میں   نے کبھی انگوٹھی نہیں   پہنی ۔  ‘‘ مزیدفرماتے ہیں :  حضرت سیِّدُنا ثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمیں   بتایا کہ ایک مرتبہ حضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہلِ بیت کے لئے دعا فرمائی اور دعا میں  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ و حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃالزہراء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاو غیرہ کا ذکر کیا ۔ حضرت سیِّدُنا ثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے عرض کی :  ’’  یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  کیا میں   بھی اہلِ بیت میں   ہوں   ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’  ہاں   !  جب تک تم کسی سردار کے دروازے پریا کسی امیر سے سوال کرنے نہ جاؤ ۔  ‘‘    ( [6] )

بلاضرورت سوال کرنا :  

 ( 586 ) … حضرت سیِّدُنا ثَوْبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  جو مجھے ایک چیز کی ضمانت دے میں   اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں   ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی: ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  میں   ضمانت دیتا ہوں    ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ کبھی کسی سے سوال نہ کرنا ۔  ‘‘  راوی فرماتے ہیں : ’’ بعض اوقات حضرت سیِّدُنا ثَوبان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اُونٹ پر سوار ہوتے او ر کَوڑا گر جاتا تواس کے لئے بھی کسی سے سوال نہ کرتے بلکہ خود اُتر کر اُٹھالیتے ( [7] ) ۔  ‘‘   ( [8] )

 



[1]    المعجم الاوسط  ،  الحدیث : ۴۶۰ ، ج۱ ، ص۱۴۳بتغیرٍ۔

[2]    دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب  ،  ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 605پر ہے :  ’’نمازمیں   چھینک آئے تو سکوت کرے اورالحمدللّٰہ کہہ لیا تو بھی حرج نہیں   اوراگراس وقت حمدنہ کی توفارغ ہو کر کہے ۔ ‘ ‘

 ( الفتاوی الہندیۃ ،  کتاب الصلاۃ ،   الباب السابع فیمایفسدالصلاۃومایکرہ فیہا ،  الفصل الاول ،  ج۱ ، ص۹۸ )

[3]    سنن ابی داؤد ،  کتاب الصلاۃ ،  باب ما یستفتح بہ الصلاۃ من الدعاء ،  الحدیث : ۷۷۴ ، ص۱۲۸۰۔

                البحرالزخارالمعروف بمسندالبزار ،  مسندعامر بن ربیعۃ  ،   الحدیث : ۳۸۱۹ ، ج۹ ، ص۲۷۲۔

[4]    المصنف لعبد الرزاق ،   کتاب الصلاۃ  ،  باب الصلاۃ علی النبی ،  الحدیث : ۳۱۲۰ ، ج۲ ، ص۱۴۰۔

[5]    مسندابی داود الطیالسی ،   حدیث عامر بن ربیعۃ  ،   الحدیث : ۱۱۴۲ ،  ص۱۵۶۔