Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

عَزَّوَجَلَّپر  قسم کھاؤتو اللہ عَزَّوَجَلَّضرورتمہاری قسم کو پورا فرمائے گا پس آپ  ( مشرکین کے خلاف )  اللہ عَزَّوَجَلَّپر قسم کھالیجئے  !  ‘‘ حضرت سیِّدُنابراء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بارگاہِ خداوندی میں  عرض کی :   ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !  میں   تجھے قسم دیتا ہوں   کہ ہمیں   مشرکین پر غلبہ عطا فرما ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی یہ دعا قبول ہوئی اور اللہ عَزَّوَجَلَّنے مسلمانوں   کو مشرکین پر غلبہ عطا فرمادیا ۔  پھر ایک مرتبہ ’’ سوس ‘‘ کے پل پر مسلمانوں   کا کفار سے آمنا سامنا ہوا توکفارنے مسلمانوں   کو سخت نقصان پہنچایا مسلمانوں   نے کہا :  ’’  اے براء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اپنے رب عَزَّوَجَلَّپر قسم کھائیے  !  ‘‘  انہوں   نے عرض کی :   ’’ یااللہ عَزَّوَجَلَّ  !  میں   تجھے قسم دیتا ہوں   کہ ہمیں   کفار پر غلبہ عطا فرما اور مجھے اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ملادے ( یعنی شہادت عطا فرما )  ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنابراء بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی یہ دعا بھی قبول ہوئی اور مسلمانوں   کو فتح نصیب ہوئی اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہشہید ہو گئے  ۔    ( [1] )

 ( 10 ) … حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضور نبی ٔکریم،   رَءُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  بہت سے پرا گندہ حال ،   بوسیدہ لباس والے ایسے ہوتے ہیں   کہ لوگ ان سے نظر یں   پھیر لیتے ہیں    ( لیکن ان کی شان یہ ہوتی ہے کہ )  اگر وہاللہ عَزَّوَجَلَّ پر قسم کھالیں   تو اللہ عَزَّوَجَلَّان کی قسم کوضرور پورا فرمادیتا ہے ۔  ‘‘   ( [2] )

اَولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامکے تَصَرُّفَات :  

             ( ۵ ) … اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام کے یقین کی طاقت سے چٹا نیں   شق ہوجاتی ہیں   اور ان کے اشارے سے سمند ر پھٹ جاتے  ( یعنی راستہ دے دیتے )  ہیں    ۔  چنانچہ ، 

 ( 11 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اُنہوں   نے تکلیف میں   مبتلاایک شخص کے کا ن میں   کچھ پڑھا تو وہ ٹھیک ہوگیا ۔ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ،  باعث نزول سکینہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے دریافت فرمایا :  ’’ تم نے اس کے کان میں   کیا پڑھاہے  ؟  ‘‘  انہوں   نے عر ض کی :  میں   نے یہ آیاتِ مبارَکہ تلاوت کی ہیں :  اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ(۱۱۵)فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَۚ-رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ(۱۱۶)وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَۙ-لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖۙ-فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ(۱۱۷)وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠(۱۱۸) ( پ۱۸،  الؤمنون :  ۱۱۵تا۱۱۸ )

ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں   بیکاربنایا اورتمہیں   ہماری طر ف پھرنا نہیں   تو بہت بلندی والا ہے اللہ سچا بادشاہ کوئی معبو د نہیں   سوا اس کے عزت والے عرش کا مالک اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے خدا کو پوجے جس کی اس کے پاس کوئی سند نہیں   تو اس کا حساب اس کے رب کے یہاں   ہے بے شک کافروں   کا چھٹکارا نہیں   اور تم عرض کرو  اے میرے رب بخش دے اور رحم فرما اور توسب سے برتررحم کرنے والا ۔

            سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  ’’  اگر کوئی شخص ان آیات کو یقین کے ساتھ پہاڑ پر پڑھے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہٹ جائے ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 12 ) … حضرت سیِّدُناسَہْم بن مِنْجَاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے فرماتے ہیں : ’’ ہم نے حضرت سیِّدُناعلاء بن حضرمی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ جہاد میں   شرکت کی  ۔ جب ہم چلتے چلتے ’’ دارین ‘‘  کے مقام پر پہنچے جہاں   ہمارے اور دشمن کے درمیان سمند ر حائل تھا تو حضرت سیِّدُناعلاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ دعامانگی: یَاعَلِیْمُ یَاحَلِیْمُ یَا عَلِیُّ یَاعَظِیْمُ اِنَّاعَبِیْدُکَ وَفِیْ سَبِیْلِکَ نُقَاتِلُعَدُوَّکَ،   اللہمَّ فَاجْعَلْ لَنَااِلَیْہِمْ سَبِیْلًافَتَقْحَمَ بِنَاالْبَحَر ۔ ترجمہ :   اے علم والے ،   اے حلم والے ،   اے بلندو بر تر ،   اے عظمت والے مالک و مولا عَزَّوَجَلَّ !  ہم تیرے بندے ہیں   اور تیری راہ میں   تیرے دشمن سے جہاد کرنے نکلے ہیں   ۔  یااللہ عَزَّوَجَلَّ !  ہمارے لئے ان تک پہنچنے کاراستہ بنا،  ہمیں   سمندرکے اس پارلگا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناسَہْم بن مِنْجَاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’  پھر ہم گھوڑوں   پر سوارسمندر میں   کود گئے اور پانی ہمارے گھوڑوں   کی زین تک بھی نہ پہنچا کہ ہم دشمنوں   تک پہنچ گئے ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 13 ) … حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں   نے حضرت سیِّدُنا علاء بن حضر می رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمیں   تین عا دتیں   دیکھی ہیں    ۔  ان میں   سے ہر عادت دو سری سے عجیب تر تھی ایک دفعہ ہم کسی سفرپرروانہ ہوئے اور ’’   بحرین ‘‘  تک جا پہنچے  ۔ پھرسفر جاری رکھا یہاں   تک کہ ہم سمند ر کے کنارے پہنچ گئے  ۔ حضرت سیِّدُناعلاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ چلتے رہو ۔  یہ کہہ کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنی سواری سمیت سمندر میں   اُتر گئے اور چل دیئے ہم بھی ان کے پیچھے سمندر میں   اُترے اور چلنے لگے ۔  اور سمندر کا پانی ہماری سواریوں   کے گھٹنوں   تک بھی نہ پہنچ سکا  ۔ جب ’’ کسریٰ  ‘‘  کے ایک گو رنر ابنمُکَعْبَر نے ہمیں   دیکھا تو اس نے کہا :  ’’ خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  ہم ان کا مقابلہ نہیں   کرسکتے پھر وہ اپنی کشتی میں   بیٹھ کر فا رس  ( ایران )  چلا گیا ۔  ‘‘

             ( ۶ ) اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامہر زمانے میں   دوسرے تمام لوگوں   سے ( نیکیوں   کے معاملے میں   )  آگے ہوتے ہیں   انہی کے اخلاص کے سبب بارش برستی اورلوگوں   کی مدد کی جاتی ہے ۔ چنانچہ ،   

 ( 14 )  … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر و رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نبوت،   مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ ہردور میں   میری امت کے کچھ لوگ سابقین  ( یعنی نیکیوں   میں  سبقت لے جانے والے )  ہوں   گے ۔  ‘‘   ( [5] )

 ( 15 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دوجہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :   ’’ 40 ابدال اور 500 بہترین لوگ میری اُمت میں   ہمیشہ رہتے ہیں   ۔  نہ 500 میں   کمی آتی ہے نہ 40 میں   ۔ جب بھی ان 40میں   سے



[1]     المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب ذکرشہادۃ البراء بن مالک ،  الحدیث : ۵۳۲۵ ، ج۴ ، ص۳۴۰۔

[2]     المستدرک ،  کتاب الرقاق ،  باب قلب الشیخ شابالخ ،  الحدیث : ۸۰۰۲ ، ج۵ ، ص۴۶۷۔