Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مفسرِ قرآن بھی اور مخلص عبادت گزاربھی ۔

 ( 570 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  قرآن 4 اَشخاص سے سنا کرو ! پھران کے نام ذکرفرمائے :    ( ۱ )  حضرت عبداللہبن مسعود ( ۲ )  حضرت سالم ( ۳ )  حضرت اُبی بن کَعْب اور  ( ۴ )  حضرت مُعَاذبن جَبَل ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 571 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں :  ’’ جب مہاجرین اولین صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنحضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مدینہ شریف آمد سے پہلے ہجرت کرکے مقامِ قباء میں   پہنچے تو حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ان کی امامت فرماتے تھے کیونکہ یہ ان سب سے زیادہ قرآن پڑھاکرتے تھے ۔  ( [2] )ان کی اقتدامیں   امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق اور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی نماز پڑھتے تھے  ۔  ‘‘    ( [3] ) ( [4] )

محبت ِالٰہی سے سرشار :  

 ( 572 ) … امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے دیکھاکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو یاد کرتے ہوئے فرمارہے ہیں : ’’  بلاشبہ سالم،   اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بہت زیادہ محبت رکھتا ہے ۔   ‘‘   ( [5] )

 ( 573 ) … حضرت سیِّدُناعبد الرحمن بن غَنْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے مرض الموت میں   فرمایا :  میں   نے سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سناکہ ’’  سالم اللہعَزَّوَجَلَّ سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اگراسے خوفِ خدا نہ ہوتا تو اس کی نافرمانی کرتا ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 574 ) … حضرت سیِّدُنا شَہْر بن حَوْشَب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   اگر میں   حضرت سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو خلیفہ بنا دوں   اوراللہعَزَّوَجَلَّ مجھ سے اس کے متعلق فرمائے کہ ’’   اے عمر !  تجھے کس بات نے سالم کو خلیفہ بنانے پر آمادہ کیا ؟  ‘‘  تو میں   عرض کروں   گا :   اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ !  میں   نے تیرے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’  یہ اللہعَزَّوَجَلَّ  کو دل سے محبوب رکھتا ہے  ۔  ‘‘    ( [7] )

نمازی وروزہ دار بھی عذابِ نارمیں   گرفتار !

 ( 575 ) … حضرت سیِّدُناسالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سیِّدعالم ،  نُورِ مُجسَّم صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’ بروزِقیامتاللہعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں   کچھ ایسے لوگوں   کو لایا جائے گا جن کی نیکیاں   مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللہ شَرَّفًاوَّتَعْظِیْمًاکے پہاڑوں   کی مثل ہوں   گی جب وہ حاضر ہوں   گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّان کی نیکیوں   کو گرد و غبار کر کے انہیں   جہنم میں   ڈال دے گا ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میرے ماں   باپ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان !  ہمیں   ان کے بارے میں   بتائیں   تاکہ ہم انہیں   پہچان پائیں   ۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا !  مجھے خوف ہے کہ کہیں   میں   بھی ان کے زُمرے میں   نہ شامل ہو جاؤں   ۔  ‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :    ’’ سالم  !  یہ لوگ نماز و روزہ کے پابند ہوں   گے لیکن جب انہیں   کوئی حرام چیز میسر آئے گی تو ( بغیرتحقیق کئے )  اس پر ٹوٹ پڑیں   گے پساللہعَزَّوَجَلَّ ان کے اعمال برباد فرما دے گا ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا مالک بن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارنے فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم !  یہ نفاق ہے ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا معلی بن زِیادعَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْجَوَاد نے اپنی داڑھی پکڑ کر فرمایا :  اے ابو یحییٰ  ( یہ حضرت سیِّدُنا مالک بن دِینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْغَفَّارکی کنیت ہے )  ! اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! آپ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سچ فرمایا یہی نفاق ہے ۔  ‘‘    ( [8] )

 



[1]    صحیح مسلم ،  کتاب فضائل الصحابۃ ،  باب ،  من فضائل عبد اﷲ بن مسعود وامہ ،  الحدیث۶۳۳۸ ،  ص۱۱۱۰۔

[2]    صحیح البخاری ،  کتاب الاذان ،  باب امامۃ العبد والمولی ،   الحدیث : ۶۹۲ ، ص۵۵۔

[3]    صحیح البخاری کتاب الاحکام ،  باب استقضاء الموالی واستعمالہم  ،  الحدیث : ۷۱۷۵ ،  ص۵۹۸۔

[4]    اس حدیث پرایک اِشکال واردہوتاہے کہ ’ ’حضرتِ سیِّدُناسالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضورنبی ٔ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مدینۂ منورہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاتشریف لانے سے پہلے قباء میں   جن مہاجرین اولین صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی امامت کیاکرتے تھے ان میں   امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی شامل تھے ، حالانکہ انہوں   نے توحضورنبی ٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ہجرت کی تھی۔‘‘حضرتِ سیِّدُناامام بیہقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی نے اس کاجواب یہ دیا ہے کہ ’’مصطفی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مدینہ منورہ زَادَہَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا تشریف آوری کے بعدجبکہ مسجدنبوی عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ابھی تعمیرنہیں   ہوئی تھی اورآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرتِ سیِّدُناابوایوب انصاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے گھرقیام فرماتھے ،  اس وقت بھی حضرتِ سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

Total Pages: 273

Go To