Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 567 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن نُفَیْررَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک دن ہم حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص وہاں   سے گزرا اس نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دیکھاتو کہا :  ’’  خوش بخت ہیں  وہ آنکھیں  جنہوں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دیدارکیا ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم !  ہم بھی خواہش رکھتے ہیں   کہ کاش !  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی طرح ہم بھی رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سے مشرف ہوتے،   مختلف جنگوں   میں   شریک ہوتے اورحضورنبی ٔرحمت ،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری باتیں   سنتے ۔  ‘‘

            راوی کہتے ہیں :  مجھے اس کی باتوں   پربڑا تعجب ہوا کہ یہ کتنی اچھی باتیں   کر رہا ہے  ۔ حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا :  ’’  تم میں   سے کسی شخص کو اس بات کی تمنا نہیں   کرنی چا ہئے جس سیاللہعَزَّوَجَلَّ نے اسے دور رکھا کیونکہ اسے کیا پتا کہ اگر اس دور میں   ہوتا تو اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ۔  اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! کتنے لوگ ایسے ہیں   جنہوں   نے پیارے مصطفی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کامبارَک زمانہ پایامگراللہعَزَّوَجَلَّ انہیں   اوندھے منہ جہنم میں   گرادے گا کیونکہ انہوں   نے نہ توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دعوت قبول کی اورنہ ہی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کی  ۔ توکیا تم اس بات پراللہعَزَّوَجَلَّ  کا شکرادا نہیں   کرتے کہ تماللہعَزَّوَجَلَّ ہی کو معبودمانتے ہو اور اس کے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لائے ہوئے احکامات کی تصدیق کرتے ہو اور تمہیں   بچا کر دوسرے لوگوں   کو آزمائش میں   مبتلا کیا گیا ۔ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انبیائے کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں  سے سب سے سخت حالات میں   مبعوث کیا گیا ۔ یہ جہالت اوردین سے دوری کا دور تھا ۔ اس دور میں   مشرکین سب سے افضل دین،   بتوں   کی عبادت کو سمجھتے تھے  ۔

            چنانچہ،   ہادیٔ برحقصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایسے دلائل لے کر آئے جنہوں   نے حق وباطل کے درمیان امتیاز کردیا ۔  ایمان وکفر کی بنیادپرباپ بیٹے کے درمیان جدائی ہو گئی یہاں   تک کہ بعض ایسے لوگ بھی ہوئے کہ جن کا والد،   بیٹااور بھائی کافرلیکن اس کے باوجود وہ خود مسلمان کیونکہاللہعَزَّوَجَلَّ نے ان کا دل ایمان کے لئے کھول دیا تھا ۔  انہیں   اس بات کا یقین تھاکہ جہنم میں   جانے والا تباہ و برباد ہے لیکن جہنم سے بچنے کے باوجود ان کی آنکھیں   ٹھنڈی نہ ہوتی تھیں   کیونکہ ان کا بھائی،  بیٹااور والدبسببِ کفرجہنم کے حقدار ہوتے تھے ۔ یہی وہ بات ہے جس کے بارے میں  اللہ عَزَّوَجَلَّ  نے ہمیں   دعاکرنے کا حکم ارشاد فرمایا :   

رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ ( پ۱۹،  الفرقان :  ۷۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اے ہمارے رب !  ہمیں   دے ہماری بیبیوں   اورہماری اولاد سے آنکھوں  کی ٹھنڈک ۔  ‘‘

 ( صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب   صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد )

امیرلشکرسے معافی منگوائی :  

 ( 568 ) … حضرت سیِّدُناحارِث بن سُوَیْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک بار حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ایک ’’ سریہ ‘‘  میں   تھے  ۔  دشمنوں   نے اس لشکر کا محاصرہ کر لیا ۔ لشکرکے امیرنے اعلان کیا :  ’’  کوئی شخص اپنی سواری کو کھڑا نہ کرے ۔  ‘‘  ایک شخص نے جسے اس اعلان کا پتا نہ چلا اپنی سواری کوکھڑا کر دیا ۔  امیر لشکرنے اس پر اسے سزا دی تو وہ یہ کہتے ہوئے چل دیا :  ’’ آج جیساسلوک میرے ساتھ کیا گیاایسا کبھی نہیں   دیکھاگیا ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس کے پاس گئے اور پوچھا :  ’’  کیا ہوا ؟  ‘‘  اس نے سارا قصہ بیان کر دیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰیعَنْہ نے تلوار سونتی اور اسے لے کر امیر لشکر کے پاس پہنچے اور امیرسے کہا :  ’’ اس شخص سے معافی مانگو !  ‘‘ معافی مانگنے پر اس شخص نے امیر لشکر کومعاف کر دیا ۔  جب حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ واپس لوٹے تو وہ شخص کہہ رہا تھا :   ’’ میں   اسلام کی محبت میں   مروں   گا ( یعنی اسلام کی خاطر اپنی جان بھی قربان کردوں   گا )  ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 569 ) … حضرت سیِّدُناابو راشدحُبْرَانِیعَلَیْہِرَحْمَۃُ اللہ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’  میں   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جان نثارصحابی حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ملا اس وقت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حمص میں   ایک تابوت پرسوارجہاد کے ارادے سے تشریف لے جارہے تھے ۔ جس تابوت پرآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سوار تھے وہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے شایانِ شان نہ تھا میں   نے عرض کی :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو معذور قرار دیا ہے ۔  ‘‘ فرمایا :  اللہعَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت کریمہ بھی تو نازل فرمائی ہے:

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا ( پ۱۰،   التوبۃ :  ۴۱ )

 ترجمۂ کنزالایمان :  کو چ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے ۔  ( [2] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سیِّدُناسَالِم مَولٰی ابی حُذَیْفَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا

            حضرت سیِّدُنا سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابو حُذَیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے آزاد کردہ غلام ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حافظ بھی تھے اور قاری بھی ۔  امام بھی اور محبِ اسلام بھی  ۔  



[1]    تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر  ،   الرقم۷۶۱۸م مِقْدَاد بن عمرو بن ثعلبۃ ،  ج۶۰ ، ص۱۷۲۔

[2]    المستدرک ،  کتاب الجہاد ،  باب ذکر سورۃ التوبۃ ،  الحدیث : ۲۵۹۷ ، ج۲ ، ص۴۵۰۔

                المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۵۵۶ ،  ج۲۰ ، ص۲۳۶۔



Total Pages: 273

Go To