Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

نے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حصے کا دودھ بھی پی لیا ۔ لیکن پینے کے بعدمجھے شرمندگی ہونے لگی  ( اوراس طرح کے خیالات آنے لگے ) کہ یہ میں   نے کَیاکیا،  جب سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائیں   گے اوراپنے حصہ کا دودھ نہیں   پائیں   گے تو مجھے ہلاکت کی دعا دیں   گے اور میں   ہلاک ہوجاؤں   گا ۔  میرے دونوں   رفیق تو اپنے اپنے حصے کا دودھ پی کر سوچکے تھے لیکن مجھے نیند نہیں   آرہی تھی  ۔  میرے پاس ایک چادر تھی جسے میں   سر پر اوڑھتا تو پاؤں   سے ہٹ جاتی اور پاؤں   پر ڈالتا تو سرخالی رہ جاتا ۔  اتنے میں  حضور نبی ٔرحمت،  شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے معمول کے مطابق تشریف لے آئے پھر جب تکاللہعَزَّوَجَلَّنے چاہا نماز ادا فرمائی ۔ نماز سے فراغت کے بعد جب اپنے حصے کا دودھ تلاش فرمایا توکچھ نہ پایا ۔ پھردعا کے لئے ہاتھ اٹھا دئیے  ۔  میں   نے کہا :   اب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے لئے بد دعا فرمائیں   گے اور میں   ہلاکت میں   جا پڑوں   گا ۔  لیکن آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دعا فرمائی :   اَللّٰھُمَّ اَطْعِمْ مَنْ اَطْعَمَنِیْ وَاسْقِ مَنْ سَقَانِیْیعنی یااللہ عَزَّوَجَلَّ !  جس نے مجھے کھلایا اسے کھلا اور جس نے مجھے پلایا اسے پلا ۔  ‘‘

            حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  میں   نے چھُری ،   چادر اٹھائی اور ایک فربہ بکری کی تلاش میں   چل دیا تاکہ اسے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے ذبح کرلاؤں   لیکن دیکھا تو سب بکریاں   دودھ سے بھری تھیں   ۔ میں   نے اہل بیت کے کھانے کا برتن لیادودھ دوہ کر اس برتن میں   بھرلایا اور بارگاہِ رسالتعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   پیش کردیا ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں   سے کچھ دودھ نوش فرمایا ۔ پھر مجھے عطا کردیا ۔  میں   نے اس میں   سے پیا پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نوش فرمایا پھر مجھے عطا فرمایا میں   نے پھر پیا  ۔  اس قدر برکت دیکھ کر میں   ہنس پڑا اور بقیہ دودھ زمین پرڈال دیا ۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :   ’’ اے مِقْدَاد !  یہ بُری بات ہے  ۔  ‘‘ میں   نے ساری بات کہہ سنائی توارشاد فرمایا :  ’’ یہ تواللہعَزَّوَجَلَّکی رحمت ہے اگر تم اپنے دونوں   رفیقوں  کو اٹھا دیتے تووہ بھی سیر ہو جاتے ۔   ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمانے والے رب عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دودھ نوش فرما لیا اور میں   نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بچا ہو ا پی لیاتو مجھے اس کی پر واہ نہ رہی کہ کون رہ گیا ہے ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 563 ) … حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  جب ہم مدینہ منورہ زَادَہَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا پہنچے توحضور اَقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے 10 ،  10 کے حلقے بنادئیے یوں   ہر مکان میں   10 افراد تھے  اورمیں   اُن 10 افراد میں   تھا جوحضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے ۔ ہمارے پاس ایک ہی بکری تھی ہم اسی کا دودھ پی کر گزارا کیا کرتے تھے ۔ ‘‘  ( [2] )

 ( 564 ) … حضرت سیِّدُنامِقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ایک بار سرکارِ والا تبار ،   شہنشاہِ ابرارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے کسی کام کی ادائیگی کے لئے لوگوں   پر حاکم مقرر فرمایا جب میں   لوٹ کردربارِ رِسالت میں   حاضر ہواتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا :   ’’  تم نے امارت کو کیسا پایا ؟  ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! مجھے یوں   لگا جیسے سب لوگ میرے غلام ہیں   ۔ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم !  اب میں   پوری زندگی کسی کام پر امیر نہیں   بنوں   گا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 565 ) … حضرت سیِّدُنااَنَس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک بارحضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک سریہ پر امیر بنا کر بھیجا آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب واپس لوٹے تو حضور سراپانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا :   ’’ اے ابو مَعْبَد !  ( یہ حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت ہے ۔  )  امارت کو کیسا پایا ؟  ‘‘  عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میری خدمت وعزت کی جاتی تھی جس سے میں   سمجھا کہ مجھے لوگوں   پر فضیلت حاصل ہے ۔  ‘‘ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ یہ بات تو ہے !  اب تمہاری مرضی اسے قبول کر ویا چھوڑ دو ۔  ‘‘ انہوں   نے عرض کی :  ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا !  میں   آئندہ دو آدمیوں   پر بھی کبھی امیر نہیں   بنوں   گا ۔  ‘‘    ( [4] )

د ل بد لتا ر ہتا ہے :  

 ( 566 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن جُبَیْربن نُفَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کسی کام سے ہمارے پاس تشریف لائے ۔  ہم نے کہا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ آپ کو عافیت بخشے !  تشریف رکھئے ! ہم آپ کی حاجت پوری کئے دیتے ہیں   ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے :   تعجب ہے ان پر جن کے پاس سے گزرکر میں  آیا کہ وہ فتنے کی تمنا کرتے ہیں  اور سمجھتے ہیں   کہاللہعَزَّوَجَلَّ ان کو ان مصائب میں   مبتلا کرے گاجن میں   سرکارِ ابد ِقرار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنکومبتلا کیا  ۔ اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  میں   نے رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا :  ’’  خوش بخت ہے وہ جو فتنوں   سے محفوظ رہا ۔  ‘‘ یہ بات تین مرتبہ ارشادفرمائی پھر فرمایا :  ’’  اگر اسے مبتلا کر دیا جائے تو صبر سے کام لے ۔   ‘‘ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم ! میں   جب تک کسی کی موت کا حال نہ جان لوں   اس کے جنتی ہونے کی گواہی نہیں   دیتا کیونکہ حضورنبی ٔپاک ،   صاحبِ لولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   ’’  آدمی کا دل ہنڈیا کے جوش مارنے سے بھی جلدی بدلتا رہتا ہے ۔  ‘‘    ( [5] )

رفاقت مصطفی کی تڑپ :  

 



[1]    مسند داود الطیالسی  ،  المقداد بن الاسود  ،  الحدیث : ۱۱۶۰ ، ص۱۵۸۔

[2]    المعجم الکبیر  ،  الحدیث : ۵۶۹ ، ج۲۰ ، ص۲۴۰۔

[3]    الزہد الکبیر للبیہقی ،   فصل فی ترک الدنیا ومخالفۃ النفس والہوی  ،  الحدیث۳۰۶ ، ص۱۴۸۔

[4]    مجمع الزاوئد ،   کتاب الخلافۃ  ،  باب کراہۃ الولایۃالخ  ،  الحدیث : ۹۰۲۴ ، ج۵ ،  ص۳۶۴ ، بتغیرٍقَلِیْلٍ۔

[5]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۵۹۸ ، ج۲۰ص۲۵۲

Total Pages: 273

Go To