Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے چچا  ( ابوطالب )  کے ذریعے کروائی اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی حفاظت ان کی قوم سے کروائی اور ان کے علاوہ دوسرے مبلِّغین کو مشرکین لوہے کے لباس پہنا کر تپتی دھوپ میں   ڈال دیاکرتے تھے ۔  ‘‘    ( [1] )

آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیار ے :  

 ( 559 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن بُرَیدَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَااپنے والدماجدسے روایت کرتے ہیں   کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  اللہعَزَّوَجَلَّ نے مجھے چار بندوں   سے محبت کرنے کا حکم دیا اورفرمایا :  ’’ میں   بھی ان سے محبت کرتاہوں    ۔  ‘‘  اے علی !  تم ان میں   سے ہواور مِقْدَاد،  ابوذَر اور سلمان  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم ) بھی ان میں   سے ہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 560 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  مجھے حضرت سیِّدُنا مِقْدَادرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی صحبت میں   بیٹھناروئے زمین کی ہر چیزسے زیادہ پسندہے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ میدان جنگ کے شہسوار تھے  ۔ ایک بار سرکارِ نامدار،   مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ ٔ نوربار جلال کی وجہ سے سرخ تھا اس وقت حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حاضر ہو کر عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  بشارت ہواللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم ! ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس طرح نہیں   کہیں   گے جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَ السَّلَام سے کہا تھاکہ :

فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(۲۴) ( پ۶،  المائدۃ :  ۲۴ )

ترجمۂ  کنزالایمان :  توآپ جائیے اور آپ کارب تم دونوں   لڑو ہم یہاں   بیٹھے ہیں   ۔

            بلکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دائیں   بائیں   آگے پیچھے ہر طرف سے لڑیں   گے یہاں   تک اللہعَزَّوَجَلَّ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فتح عطا فرما دے ۔  ‘‘   ( [3] )

جاں  نثار انِ مصطفٰی :  

 ( 561 ) … حضرت سیِّدُنامحمد بن اِسحاق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضورنبی ٔ رحمت ،   شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بدرتشریف لے جانے لگے تو اپنے جاں   نثارصحابۂ کرام  رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  سے مشورہ کیا ۔ حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن عمرو رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر عرض کی :  ’’  یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اللہعَزَّوَجَلَّ نے جو حکم دیا ہے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس پر عمل فرمائیں   ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ہیں    ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم ! ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے وہ نہ کہیں   گے جو بنی اسرائیل نے حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَ السَّلَام سے کہا تھا کہ :  

فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ(۲۴) ( پ۶،  المائدۃ :  ۲۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان: توآپ جائیے اور آپ کارب تم دونوں   لڑو ہم یہاں   بیٹھے ہیں   ۔

            بلکہ ہماللہعَزَّوَجَلَّکی مدد سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ مل کرکفار سے جنگ کریں   گے ۔ اللہعَزَّوَجَلَّکی قسم جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! اگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   بَرْکُ الْغِمَادْ ( یعنی حبشہ و یمن کے شہروں   میں   ) لے چلیں   تو ہم وہاں  جاکربھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جہاد میں   شریک ہونے کو تیارہیں   ۔  ‘‘ اس پر جانِ کائنات ،   شاہِ موجودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی تعریف فرمائی اور ان کے لئے دعائے خیر کی ۔    ( [4] )

سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مہمان :  

 ( 562 ) … حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد بن اَسود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ’’ ایک مرتبہ میں   نے اور میرے دو رَفیقوں   نے اس قدر مشقت اٹھائی کہ ہماری آنکھیں   اور کان ضائع ہونے کے قریب ہوگئے ۔  ہم مختلف صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے ملتے رہے لیکن کسی نے بھی ہم پرتوجہ نہ دی ۔ بالآخر رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   اپنی رہائش گاہ پرلے گئے اس وقت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت کے پاس تین بکریاں   تھیں   جن کا دودھ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان تقسیم فرماتے اور ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حصہ الگ کر دیا کرتے  ۔  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  جب رات کو تشریف لاتے تو اتنی آواز میں   سلام فرماتے کہ سونے والوں   کی نیند میں   خلل نہ آتااوربیدار بآسانی سن لیتا ۔  ‘‘

            مزیدفرماتے ہیں   کہ ’’   ایک دن شیطان نے میرے دل میں   وسوسہ ڈالا کہ انصارحضورنبی ٔاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت کرتے ہی رہتے ہیں   ۔  اس لئے آج اگرحضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حصے کا دودھ بھی تُوپی لے گا تو اس میں   کوئی حرج نہیں   ہے ۔  ‘‘ فرماتے ہیں : ’’ شیطان کی طرف سے اس طرح کے خیالات آتے رہے یہاں   تک کہ میں   



[1]    سنن ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ  ،  باب فی فضائل اصحاب رسول اﷲالخ ،   الحدیث۱۵۰ ،   ص۲۴۸۶۔

[2]    سنن ابن ماجہ ،  کتاب السنۃ  ،  باب فی فضائل اصحاب رسول اﷲالخ ،   الحدیث۱۵۰ ،   ص۲۴۸۶۔

[3]    المسند للامام احمد حنبل ،  مسند عبد اﷲ بن مسعود ،  الحدیث : ۴۳۷۶ ، ج۲ ، ص۱۸۰۔

                البحرالزخارالمعروف بمسند البزار