Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

میں   ان سے خالی ہوں   ۔  میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکواُ وپراوڑھی ہوئی چادر اور ان دو کپڑوں   میں   کفن دوں   گا جو میری والدہ نے میرے لئے سوت سے تیار کئے ہیں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  تم ہی مجھے کفن دینا ۔  ‘‘ لہٰذاانصاری نو جوان نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو کفن دیاحالانکہ اس قافلہ میں   حضرت سیِّدُنا حُجْربن اَدْبَراور حضرت سیِّدُنا مَالِک اَشْتَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی موجودتھے اور یہ سارے کے سارے یمنی تھے ۔  ‘‘    ( [1] )

حضرت سیِّدُنا عُتْبَہ بن غَزْوَان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا عُتْبَہ بن غَزْوَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ساتویں   نمبر پر اسلام قبول کیا ۔  حکومت و سلطنت سے بالکل دل نہ لگاتے تھے ۔  شہروں   اور ملکوں   کی امارت کو بھی ٹھکرا دیتے تھے ۔ چنانچہ ،  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بصرہ میں   مسجد و منبر کی تعمیر کروانے کے بعد امارت سے مستعفی ہوگئے،   رَبْذَہ میں  وفات پائی،   دنیا کی ناپائیداری وبے ثباتی اور حوادثِ زمانہ پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا خطبہ مشہو رہے ۔

حقیقت ِ دُنیا کوبے نقاب کرنے والابیان :  

 ( 556 ) … حضرت سیِّدُناخالد بن عمیر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سیِّدُنا عُتْبَہ بن غَزْوَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہمیں   خطبہ دیتے ہوئے فرمایا :  ’’  اے لوگو ! بلاشبہ دنیا اپنے فنا ہوجانے کا اعلان کرچکی ہے اورپیٹھ پھیر ے جارہی ہے اس میں   سے صرف اتنا باقی ہے جتناکہ تلچھٹ  ( یعنی برتن کی تہہ میں   رہ جانے والی چیز )  ۔  سنو !  تم اس گھر میں   مقیم ہوجہاں   سے ایک دن ضرور تمہیں   نکلناہے ۔  اس لئے جہاں   تک ہوسکے نیک اعمال لے کر اس گھرسے جاؤ ۔  میں   اس بات سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں   کہ اپنے آپ کو بڑا سمجھوں   جبکہ میں  اللہ  عَزَّوَجَلَّکے ہاں   چھوٹا ہوں   ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم  !  میرے بعد حکمرانوں   کو آزمائشوں   کا سامنا کرنا پڑے گا  ۔ بخدا ! خلافتِ نبوت  ( یعنی خلافت راشدہ  ) ختم ہوچکی ہے اوراب صرف امارت و حکومت رہ گئی ہے ۔ میں   ان سات صحابہ میں   سے ساتواں   ہوں   جو رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ہوتے تھے ،   ہمارے پاس کھانے کو صرف درختوں   کے پتے ہوا کرتے تھے جنہیں   کھاکر ہم گزارہ کیا کرتے اور انہیں   کھانے کی وجہ سے ہمارے جبڑے زخمی ہوجایا کرتے تھے ۔  ایک بار مجھے ایک چادر ملی میں   نے اس کے دو ٹکڑے کر کے آدھی حضرت سَعْد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دی اور آدھی خوداوڑھ لی ۔  یہ اس وقت کے حالات تھے جبکہ آج ان افراد میں   سے جوبھی زندہ ہے وہ کسی نہ کسی علاقے کا حاکم ہے ۔ ہائے افسوس !  جہنم اس قدرگہرا ہے کہ اگراس کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جائے تو70سال میں   اس کی نچلی سطح تک پہنچے ۔  اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  جہنم کو ضرور بھرا جائے گا اورکیا تم اس بات پر خوش نہیں   کہ ہر جنتی  دروازے کے دوکواڑوں   کے درمیان چالیس سال کا سفر ہے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ اس کا ہر دروازہ رش کی وجہ سے چر چرا اٹھے گا ۔  ‘‘    ( [2] )

درختوں   کے پتے کھاکرگزارہ کرلیتے :  

 ( 557 ) … حضرت سیِّدُناعُتْبَہ بن غَزْوَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  میں   ان سات صحابۂ کرام ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  میں   سے ساتواں   ہوں  جو حضورنبی ٔپاک ،   صاحبِ لولاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تھے ۔  اس زمانے میں    ہمارے پاس کھانے کیلئے درختوں   کے پتوں   کے سوا کچھ نہیں   ہوتاتھا یہاں   تک کہ ہم اس طرح قضائے حاجت کرتے تھے جس طرح بکری مینگنیاں   کرتی ہیں   اور اس میں   کوئی چیز ملی ہوئی نہیں   ہوتی ۔  ‘‘    ( [3] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سیِّدُنا مقْدَاد بن اَسْوَد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا مِقْدَادبن اَسْوَد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا پورا نام مِقْدَاد بن عمرو بن ثَعْلَبَہ ہے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدنااَسْوَد بن عبد یَغُوث رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے آزاد کردہ غلام ہیں   ۔ اسلام قبول کرنے میں   سبقت کرنے والے اورمیدانِ جنگ وجدال کے عظیم شہسواروں   میں   سے ہیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  نے حضور پرنور،   شافعِ یومُ النُّشورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پانی پلانے اور کھانا کھلانے کا عزم کیاتو حاکمین سے تعلق ختم کردئیے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پردلائل روشن ہوئے اور علامتیں   کھل گئیں   ۔ پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  جہادو عبادت کو دیگر امور پر ترجیح دیا کرتے تھے ۔

لوہے کا لباس اور تپتی زمین :  

 ( 558 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ ’’ سب سے پہلے جنہوں   نے دین اسلام کی ترویج واِشاعت کی وہ سات شخصیات ہیں :   ( ۱ ) نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ( ۲ ) امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ( ۳ ) حضرت سیِّدُنا عَمَّاررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ( ۴ ) اُمِّ عَمَّار حضرت سیِّدَتُناسُمَیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا ( ۵ ) حضرت سیِّدُنا صُہَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( ۶ ) حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ( ۷ ) حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ۔ اللہعَزَّوَجَلَّنے اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ



[1]    الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،  کتاب التاریخ ،  باب اخبارہ عمایکون فی امتہ من الفتن والحوادث ،  

                الحدیث : ۶۶۳۵ / ۶۶۳۶ ، ج۸ ، ص۲۳۴۔

[2]    صحیح مسلم ،  کتاب الزہد ،  باب الدنیا سجن للمؤمن وجنۃ للکافر ،  الحدیث : ۷۴۳۵ ، ص۱۱۹۲ ، بتغیر۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحد یث : ۲۸۵ ، ج۱۵۔۱۷ ، ص۱۱۶۔

                المسند للامام احمد بن حنبل ،   مسند ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص ،  الحدیث : ۱۴۹۸ ، ج۱ ، ص۳۶۸۔



Total Pages: 273

Go To