Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنپربھی رحمت وسلامتی ہو ۔

 ( اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )

کتاب لکھنے کی وجہ !

          اے میرے اسلامی بھائی  !  اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے نیکی کی تو فیق عطا فرمائے  ۔  ( آمین  ) میں   نے اللہ عَزَّوَجَلَّسے مدد طلب کرتے ہوئے تیری اس خواہش کو قبول کر لیا کہ میں   ایک ایسی کتاب لکھوں   جو صوفیائے کرام اور اَئمہ عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامکے احوال واقوال پر مشتمل ہو اور ان کے طبقات کی تر تیب زُہد وتقویٰ کے اعتبار سے ہو ۔  پہلے صحابۂ کرام پھر تابعین ،   پھرتبع تا بعینرِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن پھر ان کے بعد آنے والی بر گز یدہ ہستیوں   کا ذکر خیر ہو ۔  ان بر گز یدہ ہستیوں   نے دلائل وحقائق کو پہچانا،   حالات کا مقابلہ کیا اورراہ حق پرگامزن رہے اورجنت کے باغات کے حقدار قرار پائے،   دنیویجھنجھٹوں   اور تعلُّقات سے جدارہے ،   طعن کرنے والوں  ،   بلند و بانگ دعوے کرنے والوں  ،   کاہلوں  ،   حوصلہ شکنوں  ،   صرف لباس وکلام میں   مشابہت اختیارکرنے اور عقیدہ و عمل میں   مخالفت کرنے والوں   سے بیزار ہوئے ۔  

            اس کتاب ’’  حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء ‘‘ کی تالیف کا سبب یہ ہے کہ جب فا سق وفاجر اور بے دین وکافراپنے فاسد خیالات کو ان بر گز یدہ ہستیوں   کی طر ف منسو ب کرنے لگے اگرچہ وہ جھوٹ وباطل کے ذریعے ان نیک لوگو ں   کی شان میں   کوئی عیب نہیں   لگاسکتے اورنہ ہی ان کے درجات میں   کمی کرسکتے ہیں   ۔  لہٰذا ان جھوٹو ں   اور بد با طنوں   سے اظہارِ بر ا ء ت کر کے صادقین اور محققین کی شان کو بلند کیا جائے اگر چہ ہم اہلِ باطل لوگو ں   کی غلطیوں   کو پوری طرح ظاہر نہیں   کرسکتے لیکن اپنی کو شش کے مطابق حفاظت کے لئے ان کو ظاہر کرنا اور ان کی اِشاعت کرنا ضروری ہے کیونکہ ہمارے اَسلاف تصوُّف میں   نمایاں   درجہ اور شہرت کے حامل ہیں   ۔  میرے ناناحضرت سیِّدُنامحمد بن یوسف بنا رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہبھی  انہی برگزیدہ ہستیوں   میں   سے ایک ہیں   جنہوں   نے رضائے الٰہی کے لئے ہر چیز سے جدائی اختیارکی اور بہت سے لوگوں   کے احوال کی اصلاح کا سبب بنے ۔

اولیائے کرام کی دُشمنی سے بچو !

             ہم اولیاء اللہ رَحْمَۃُ اللہ تَعاَلٰی عَلَیْہِم  کی تنقیص ( یعنی شان گھٹانا )  کیسے گواراکریں   جبکہ ان کو ایذا دینے والے ،  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ اعلان جنگ کرتے ہیں   جیسا احادیث مبارکہ میں   آیا ہے ۔  چنانچہ ، 

 ( 1 ) … حضرت سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دو جہاں   کے تاجْوَر،   سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہاللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ’’ جس نے کسی ولی کو اذیت دی میں   اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں   اوربندہ میراقرب سب سے زیادہ فرائض کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور نوافل کے ذریعے مسلسل قرب حاصل کرتارہتاہے یہاں   تک کہ میں   اس سے محبت کرنے لگتا ہوں   ۔  جب میں   بندے کو محبوب بنا لیتا ہوں   تومیں   اس کے کان بن جاتا ہوں   جس سے وہ سنتا ہے ۔  اس کی آنکھ بن جاتا ہوں   جس سے وہ دیکھتاہے ۔  اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں   جس سے وہ پکڑتاہے اور اس کے پاؤں  بن جاتا ہوں   جس سے وہ چلتا ہے  ۔  پھروہ مجھ سے سوال کرے تو میں   اسے عطا کرتا ہوں   ۔ میری پناہ چاہے توپناہ دیتا ہوں   او ر میں   کسی کام کے کرنے میں   کبھی اس طرح تردد نہیں   کرتا جس طرح جانِ مومن قبض کرتے وقت تردد کرتا ہوں  کہ وہ موت کو نا پسند کرتا ہے اور میں   اس کے مکروہ سمجھنے کو برا جانتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 2 ) … اُم المؤمنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہاللہعَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے :  ’’  جس نے میرے کسی ولی کو ا ذیت دی اس نے اپنے لئے میری جنگ حلال ٹھہرالی ۔  ‘‘     ( [2] )

 ( 3 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے معاذبن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوحضورنبی ٔ مُکَرَّم،  نُورِمُجسَّم،  شاہ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضۂ انور کے پاس بیٹھ کر روتے ہوئے دیکھ کر سبب دریافت فرمایاتوحضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بتایا کہ مجھے اس بات نے رُلایاہے جو میں   نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی ہے کہ ’’ تھوڑی سی ریا کاری بھی شرک ہے اور جس نےاللہ عَزَّوَجَلَّ کے کسی ولی سے دشمنی کی اس نےاللہ عَزَّوَجَلَّ سے اعلان جنگ کیا ۔  ‘‘    ( [3] )

اولیائے کرام کی صفات و علامات

          حضرت سیِّدُنا امام حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہاَصْفَہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ جان لو !  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دوستو ں   کی کچھ ظاہر ی صفات اور مشہور علامات ہیں   ۔  ‘‘

انبیاء وشُہَدا بھی رشک کریں   گے:

             ( ۱ ) …  عقلمند اورنیک لوگ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَامکی دوستی کے سبب ان کے مطیع و فرمانبردار ہوتے ہیں    ( قیامت کے دن ) انبیائے کرام و شُہَدائے عظام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی ان کے مرتبہ پر رشک کریں   گے  ۔  جیسا کہ حدیث شریف میں   ہے ۔ چنانچہ ، 

 



[1]     صحیح البخاری  ،  کتاب الرقاق  ،  باب التواضع  ،  الحدیث : ۶۵۰۲ ، ص۵۴۵۔

[2]     الزھدالکبیرللبیھقی ،  فصل فی قصرالامل والمبادرۃ بالعمل ،  الحدیث : ۶۹۹ ، ص۲۷۰۔

[3]     سنن ابن ماجہ  ،  ابواب الفتن ،  باب من ترجی لہ السلامۃ من الفتن  ،  الحدیث : ۳۹۸۹ ، ص۲۷۱۶۔



Total Pages: 273

Go To