Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !  میرے علاوہ تم میں   سے ہر ایک کسی نہ کسی دنیاوی چیزسے وابستہ ہے ۔    ( [1] )

مجھے امیربننے کی خواہش نہیں :

 ( 529 ) … حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں  :  کسی نے مجھ سے کہا :   ’’  آپ فلاں   فلاں   کی طرح جائیداد کیوں   نہیں   بناتے ؟  ‘‘  میں   نے کہا :   ’’ مجھے امیربننے کی خواہش ہی نہیں  ہے بلکہ میرے لئے ہردن پانی یا دودھ کا ایک گھونٹ اور ہفتہ بھر میں   گندم کا صرف ایک قَفِیْز ( ایک پیمانے کانام ہے )  ہی کافی ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 530 ) … حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ حضورنبی ٔ پاک،   صاحبِ لَولاک،   سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے عہدِمبارَک میں   میری خوراک صرف ایک صاع  ( [3] )تھی اور اب میں   ساری زندگی اس مقدار پر اضافہ نہیں   کروں   گا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 531 ) … حضرت سیِّدُنا ابو ذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ایک دن میں   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر تھاکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’  اے ابو ذَر !  تم نیک انسان ہو،  عنقریب میرے بعد تمہیں   آزمائش آئے گی ۔  ‘‘  میں   نے عرض کی: ’’ کیایہ آزمائش راہِ خدامیں   آئے گی ؟   ‘‘  ارشادفرمایا :   ’’ ہاں    !  ‘‘  تو میں   نے عرض کیـ :   ’’ میں   رضائے اِلٰہی میں   آنے والی ہر آزمائش کو مرحبا کہتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [5] )

( 532 ) … حضرت سیِّدُنا ابو ذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ قبیلۂ بنو اُمَیَّہ نے مجھے قتل اور فقر کی دھمکیاں  دیں  حالانکہ مجھے زمین کا پیٹ اس کی پشت سے اور ناداری مالداری سے زیادہ پسند ہے ۔  ‘‘ اس پر کسی نے کہا :   ’’ اے ابوذَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ! کیا بات ہے جب بھی آپ کسی قوم کے پاس بیٹھتے ہیں   تو وہ آپ کو چھوڑ کر اُٹھ جاتے ہیں   ؟  ‘‘  فرمایا:  ’’  اس کی وجہ یہ ہے کہ میں   ان کو مال جمع کرنے سے منع کرتا ہوں   ۔  ‘‘    ( [6] )

آگ کاانگارہ :  

 ( 533 ) … حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  میرے خلیل ،   محبوب رب جلیلصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے عہد لیا کہ جو بھی سوناچاندی جمع کرے گایہ اس کے لئے آگ کا انگارہ ہوگا مگر یہ کہ اسے راہِ خدا میں   خرچ کر دیا جائے ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 534 ) … حضرت سیِّدُناثابِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک روز حضرت سیِّدُناابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حضرت سیِّدُنا ابودَرْدَاء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس سے گزرے جو اپنا گھر تعمیر کروا رہے تھے  ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’  تم پتھروں   کو لوگوں   کی پشتوں   پر اُٹھوا رہے ہو ؟  ‘‘ انہوں   نے کہا :   ’’ میں   اپنے لئے گھر بنوارہا ہوں   ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے پھروہی بات کہی ۔  ‘‘  انہوں   نے جواب دیا :   ’’  اے میرے بھائی !  شاید آپ اس کام کو اچھا نہیں   سمجھتے  ۔  ‘‘  فرمایا: ’’  تمہارا اپنے گھر والوں   کی گندگی میں   ہو نا مجھے تمہاری اس حالت سے زیادہ پسند ہے جس میں  ،   میں   تمہیں   دیکھ رہا ہوں   ۔  ‘‘    ( [8] )

 ( 535 ) … حضرت سیِّدُناابو ذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’  لوگ مرنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں  ،   ویران کرنے کے لئے مکان تعمیر کرواتے ہیں  ،  فنا ہونے والی چیزکی حرص رکھتے ہیں   اور باقی رہنے والی  ( یعنی آخرت ) کو بھلادیتے ہیں   ۔  سنو !  موت اور غربت کتنی اچھی ہیں  حالانکہ لوگ انہیں   ناپسندجانتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [9] )

ہرمال میں  3 حصے دار ہیں :

 ( 536 ) … حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ مال میں   3 حصے دار ہوتے ہیں :  ( ۱ ) تقدیر  ،   یہ وہ حصے دار ہے جسے بھلائی اور برائی  ( یعنی مال یاتجھے ہلاک کرنے ) میں   تیری اجازت کی حاجت نہیں   ۔  ( ۲ ) دوسرا حصے دارتیرا وارث،  اسے اس بات کا انتظار ہے کہ تو مرے اور یہ تیرے مال پر قبضہ کرلے اور ( ۳ ) تیسرا حصے دار توُخودہے مذمت کیا ہوا،   یقیناتم ان دونوں   حصے داروں   کو عاجز نہیں   کرسکتے لہٰذا اپنا مال راہِ خدا میں   خرچ کردو ۔  

        بے شکاللہعَزَّوَجَلَّ  کا فرمان عالیشان ہے :   

لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  ( پ۴،  ال عمران :  ۹۲ )

 ترجمۂ کنزالایمان: تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہ خدا میں   اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو ۔

            اس آیت کریمہ کی تلاوت کرنے کے بعدآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے اونٹوں   کی طرف اشارہ کرکے فرمانے لگے مجھے میرے مال میں   یہ اونٹ سب سے بڑھ کر پسند ہیں   اس لئے میں   



[1]    الزہد للامام احمد حنبل  ،   زہد ابی ذر ،   الحدیث : ۷۹۵ ، ص۱۷۰۔

[2]    الزہد للامام احمد حنبل ،   زہد ابی ذر ،   الحدیث : ۸۰۰ ، ص۱۷۰۔

[3]    صاع عرب کے پیمانوں   میں   ایک پیمانہ ہے اور ایک صاع ہمارے ۸۰ تولہ والے سیر سے قریباً ساڑھے چار سیر ہوتا ہے ۔ ( مرأۃ المناجیح ، ج۳ ، ص۲۴ )

[4]    الاِسْتِیْعاب فی مَعْرِفَۃالاصحاب  ،  الرقم۳۴۳جُنْدُب بن جُنَادۃ ابوذَر الغِفَاری ،  ج۱ ، ص۳۲۳۔

[5]    البحرالزخارالمعروف بمسند البزار  ،   مسند ابی ذر الغِفَاری  ،  الحدیث : ۳۸۹۴ ،  ج۹ ، ص۳۳۹۔

[6]    مصنف ابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد  ،