Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

پراٹھایااورفرمایا :  ’’ اے بَنِی اِسْرَائِیْلِیَّہ کے بیٹے !  تم اس مال کے مالک کو اجازت دے رہے ہو کہ بروزِ قیامت اس مال کے عوض بچھو اس کے دل پرڈسیں   ( [1] ) ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 524 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن خِرَاش رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں   نے رَبْذَہ میں   حضرت سیِّدُنا ابوذَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ایک سیاہ خیمے میں   بوری کے بنے ہوئے بسترپرتشریف فرمادیکھا ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ بھی وہاں   موجود تھیں   ۔ کسی نے ان سے کہا :  ’’  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی اولاد توزندہ نہیں   رہتی ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ تمام تعریفیں  اللہعَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں   جس نے ہماری اولاد کو دارِ فانی (  یعنی دنیا ) سے  ( ہمارے فائدے کے لئے )  دار بقا  ( یعنی آخرت )  کی طرف منتقل کر دیا ۔  ‘‘ لوگوں   نے عرض کی: ’’  اے ابوذَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اگر آپ دوسری شادی کر لیں   تو بہتر ہے ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ ایسی عورت سے شادی کرنا جو (  اولاد نہ ہونے کی وجہ سے )  میرا نام پست کرے مجھے اس عورت سے زیادہ پسند ہے جو  ( اولاد ہونے کی وجہ سے )  میرا نام بلند کرے ۔  ‘‘  لوگوں   نے پھر عرض کی :  ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس بوری کے بستر کے بجائے کوئی نرم بچھونا بنالیں    ؟   ‘‘  فرمایا :   ’’ اللہعَزَّوَجَلَّ  ! ہماری مغفرت فرمائے تم اپنے لئے جو چاہو کرو ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 525 ) … حضرت سیِّدُنااَبو اَسْمَاء رَحَبِیرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ وہ رَبْذَہ کے مقام پر حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس حاضر ہوئے  ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بیوی بھی پراگندہ حال وہاں   موجود تھیں   ۔ نہ توان کے پاس زعفران تھا اور نہ ہی انہوں   نے کوئی خوشبو لگائی ہوئی تھی ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:  ’’ تم دیکھتے ہو کہ میری بیوی مجھے ( اقتدار کے لئے ) عراق جانے کا مشورہ دیتی ہے کہ جب میں   وہاں   پہنچوں   گا تو اہلِ عراق دنیالے کر میرے پاس آئیں   گے ۔  جبکہ مجھ سے میرے خلیل،   محبوب رب جلیل صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے عہد لیا تھا کہ پل صراط کے علاوہ بھی ایک ایسا راستہ ہے جو بہت زیادہ پھسلن والا ہے  ۔  لہٰذا اس پر اقتدار کا بوجھ لے کر پہنچنے سے بہتر ہے کہ ہم اس سے آرام وسکون کے ساتھ نجات پا جائیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

بقدرِ کفایت اسباب پر قناعت:

 ( 526 ) … حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن مُنْکَدِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں   کہ ملکِ شام کے گورنرحضرتِ سیِّدُنا حَبِیب بن مَسْلَمَہرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس  300دینار ہدیہ بھیجے اور کہا :  ’’  ان سے اپنی ضروریات پوری فرما لیں   ۔  ‘‘ حضرت سیِّدُناابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ہدیہ لوٹا دیااور فرمایا :    ’’ کیااللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ دھوکہ کرنے کے لئے اسے ہمارے علاوہ کوئی اور نہیں   ملا ۔ ہمیں   تو سر چھپانے جتنی جگہ اور کچھ بکریاں  جو شام کولوٹ آیا کریں   اور ایک باندی ( یعنی نوکرانی  )  جو ہماری خدمت کر سکے ،   کافی ہے اور جواس سے زائد ہو ہم اس سے ڈرتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 527 ) … حضرت سیِّدُنا محمد بن سِیرِین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْمَتِین سے مروی ہے،  کہ قبیلۂ قریش کا ایک حارِث نامی شخص جو ملکِ شام میں  تھااسے پتاچلاکہ حضرت سیِّدُنا ابو ذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تنگدستی میں   مبتلا ہیں   تو اس نے 300 دینار آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   بھیج دئیے لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   اسے میرے علاوہ کوئی اورنظر نہیں   آیا ؟  میں   نے رسولِ اکرم،  نورِ مجسم،   شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سن رکھا ہے کہ ’’ جس کے پاس چالیس درہم ہوں   اور وہ اس کے باوجود سوال کرے تواس نے اصرار کے ساتھ مانگا ۔  ‘‘ جبکہ آلِ ابوذَر کے پاس چالیس درہم،   چالیس بکریاں   اور ماہنان  ( یعنی لونڈی  )  ہے ۔    ( [6] )

 ( 528 ) …  حضرت سیّدنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : بروزِ قیامت میں   تم سے زیادہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب ہوں   گا اس لئے کہ میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِرشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’’   قیامت کے دن میرے سب زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا سے اس طرح گیا جس طرح میں   اسے چھوڑ کر جارہا ہوں   ۔  ‘‘  



[1]    مُفَسِّرِشہیر ، حکیم الا ُمَّت حضرتِ مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں   : ’’ ( حضرتِ سیِّدُنا ) عثمان غنی  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  نے ( حضرتِ سیِّدُنا ) ابو ذر غفاری ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کی موجودگی میں   ( حضرتِ سیِّدُنا )  کعب الاحبار ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  سے مسئلہ پوچھا کہ  ( حضرت ) عبدالرحمن ابن عوف ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) بہت مال چھوڑ کر وفات پاگئے ہیں   تمہارا کیا خیال ہے آیا مال جمع کرنا اور بال بچوں   کے لیے چھوڑ جانا جائز ہے یا نہیں  ۔مرقات میں   ہے کہ حضرت عبدالرحمن ابن عوف ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  نے دو لاکھ دینار چھوڑے تھے۔ خیال رہے کہ حضرت ابوذر غفاری ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  زاہد ترین صحابہ ( میں   سے )  تھے زہد و ترکِ دنیا کی احادیث پر سختی سے عامل تھے اس لیے ان کی موجودگی میں   یہ سوال وجواب ہوئے  ،  تاکہ وہ حکم شرعی اور زہد میں   نیز تقویٰ و فتویٰ میں   فرق کرلیں  ۔ ( لہٰذا ) مال جمع رکھنا ،  بعد وفات چھوڑ جانا حلال ہے جب کہ اس سے زکوۃ  ،  فطرہ  ،  قربانی  ،  حقوق العباد ادا کیے جاتے رہے ہوں   یہ کنز میں   داخل نہیں   جس کی قرآن کریم میں   برائی آئی ہے۔  ( حضرتِ سیِّدُناابو ذر غفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ) یہ مارنا بحالت جذب تھا ،  آپ اپنے نفس پر قابو نہ پاسکے ،  چونکہ ( حضرتِ سیِّدُنا )  ابوذر ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  بزرگ ترین صحابی تھے ،  تمام صحابہ ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  )  آ پ کا بہت احترام کرتے ان کی ناراضی یا مار پر ناراض نہ ہوتے تھے ،  جیسے آج بھی سعادت مند جوان محلہ کے بزرگوں   کی سختی پر ناراض نہیں   ہوتے اس لیے خلیفۃ المؤمنین ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  نے ان سے قصاص کے لیے نہ کہا نہ حضرت کعب ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  نے کچھ برا منایا ہوسکتا ہے کہ آپ کی یہ مارتا دیب و سزنش کے لیے ہو کہ تم تو کہہ رہے ہو کہ مال جمع کرنے میں   کوئی حرج نہیں   حالانکہ امیر سخی بھی مسکینوں   سے پانچ سو برس بعد جنت میں   جائیں   گے ،  حساب میں   دیر لگے گی۔یہاں   مرقات میں   ہے کہ بعد میں   حضرت عثمان ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  نے ( حضرتِ سیِّدُنا )  ابوذر غفاری  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کو مدینۂ منورہ  ( زَادَہَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا ) سے مقام ربذہ میں   بھیج دیا تھا آپ تاوفات وہاں   ہی رہے ،  کیونکہ آ پ کی طبیعت بہت جلالی تھی۔خلاصۂ جواب یہ ہے کہ اے کعب تم تو کہتے ہو مال جمع کرنے میں   حرج نہیں   جب کہ اس سے فرائض ادا کردیئے جائیں    ، مگر میں   نے اپنے محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا۔  ( لہٰذا )  مال سارے کا سارا خیرات کردینا کچھ باقی نہ رکھنا سنت ہے اور جمع کرنا خلاف سنت کیا خلاف سنت میں   حرج نہیں   ہوتا ،  مگر یہ جودو سخا حضو ر انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خصوصیات سے ہے کہ خود حضور انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّماور آپ کے سب گھر والے سید المتوکلین تھے۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللہ عَنْہ نے حدیث سننے کا اقرار تو کیا ،  مگر حدیث کا مطلب سمجھایا کہ حضور انورصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے یہ اپنے لیے فرمایا ہے ،  عام مسلمانوں   کو اس کا حکم نہ دیا۔‘‘ ( مِرْآۃُ الْمَنَاجِیْح ،  ج۳ ، ص۸۸ )

[2]    سیر اعلام النبلاء  ،  الرقم ۱۰۶ ،  ابوذَرجُنْدب بن جُنادۃ الغِفَاری ، ج۳ ، ص۳۹۱ ، بتغیرٍ۔

[3]