Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

مانند لگ رہا تھا ۔  ‘‘    ( [1] )

سیِّدُنا ابوذَررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خصوصیات :  

 ( 519 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن صا مِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے سے فرمایا :  ’’  میں   مکۂ مکرمہزَادَہَا اللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا آیا اورکفار سے حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں   پوچھاکہ وہ کہاں   ہیں   ؟   ‘‘ کفارنے سنا تو ’’  بددین،   بددین  ‘‘  کہتے ہوئے مجھے ہڈیوں   اور پتھروں   سے مارنے لگے یہاں   تک کہ سرخ پتھر کی مانند کر ڈالا ۔  صبح کی ٹھنڈک سے مجھے کچھ افاقہ ہوا تو میں   اُٹھ کرآب ِزمزم تک آیا ۔  اس سے پیا اور غسل کیا ۔ پھر کعبہ اور اسکے پردوں   کے درمیان تیس دن تک ٹھہرا رہا اورمیرے پاس کھانے پینے کو کچھ نہ تھا بس آبِ زمزم پیتارہا حتّٰی کہ میرے پیٹ کی بلٹیں   ختم ہو گئیں   پھر ایک رات رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیت اللہشریف کے طواف کے لئے تشریف لائے اور مقام ابراہیم کے پیچھے نمازادا فرمائی اور سب سے پہلے میں   نے ہی حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سلامِ تحیت کیا اور عرض کی :   ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ  ۔  ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواب دیا :  ’’  وَعَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللہ ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 520 ) … حضرت سیِّدُناابو ذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ جب سیِّد ِ عالم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہوئے تو میں   آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوا اور عرض کی ’’  اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ ۔  ‘‘  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جواباً ارشاد فرمایا :   ’’ وَعَلَیْکَ السَّلَام ۔  ‘‘ لہٰذا سب سے پہلے مجھے بارگاہِ رسالت میں   سلام تحیت پیش کرنے کی سعادت ملی ۔    ( [3] )

6 باتوں   کی نصیحت :  

 ( 521 ) … حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  حضورنبی ٔپاک،   صاحبِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے مجھے 6 باتوں   کی نصیحت فرمائی :    ( ۱ ) مساکین سے محبت کرنا  ۔   ( ۲ )  ( دُنیوی اعتبارسے )  اپنے سے کم درجہ لوگوں  کو دیکھنااونچے درجے والوں  کی طرف نہ دیکھنا ۔  ( ۳ ) ہر حال میں   حق بات کہنا اگرچہ کڑوی ہو اور  ( ۴ ) اللہعَزَّوَجَلَّ کے معاملہ میں   کسی کی ملامت سے نہ ڈرنا ۔   ( ۵ ) رشتہ داروں   سے صلہ رحمی کرنااگرچہ وہ قطع تعلق کریں  اور ( ۶ ) )لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللہکی کثرت کرنا )  ۔  ‘‘    ( [4] )

 نفاذِ حکمِ رسول کا جذبہ :  

 ( 522 ) … حضرت سیِّدُناابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :  ایک شخص نے میرے پاس آکر کہا:  ’’ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے عاملین  ( یعنی زکوٰۃ کی وصولی پر مقرر کردہ افراد )  زکوٰۃ کے معاملے میں   ہم پر زیادتی کرتے ہیں   تو کیا ہم بقدرِ زیادتی اپنا مال چھپا لیا کریں   ؟  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :   ’’ نہیں   ۔  بلکہ تم اپنامال ان کے سامنے رکھو اور ان سے کہو کہ جتنا حق بنتا ہے اتنا ہی لو اورجس میں   حق نہیں   بنتااسے چھوڑ دو ۔ پھربھی اگر وہ تم پر ظلم کریں   تو ان کا یہ ظلم نیکیوں   کی صورت میں   کل بروزِ قیامت تمہارے نامۂ اعمال میں   رکھا جائے گا ۔  ‘‘ وہاں   اس وقت ایک قریشی نوجوان کھڑا تھا اس نے کہا :   ’’ کیاآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کوامیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فتویٰ دینے سے منع نہیں   کیا تھا ؟  ‘‘ توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ کیا تم میرے نگہبان ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں   میری جان ہے !  اگر تم میرے گلے پر چھری بھی رکھ دو اور مجھے یقین ہو کہ میں   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حکم کو چھری چلنے سے پہلے نافذ کر سکتا ہوں   تومیں   ایسا ضرورکروں   گا ۔   ‘‘   ( [5] )

دُنیا سے نفرت :  

 ( 523 ) … حضرت سیِّدُناابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے بھتیجے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن صا مِت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں :  میں   اپنے چچا حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں   حاضر ہوا  ۔  چچانے امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے رَبْذَہ کی طرف جانے کی اجازت طلب کی توانہوں   نے اجازت دیتے ہوئے فرمایا :  ’’  ہم آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس صبح و شام صدقہ کے مویشی بھیجتے رہیں   گے ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُنا ابوذَرغِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ مجھے ان کی حاجت نہیں    ۔  ابوذَر کے لئے تو اس سے قطع تعلُّق ہی کافی ہے ۔  ‘‘  پھر کھڑے ہو کر فرمایا: ’’  آپ کوآپ کی دُنیا مبارَک ہو ۔  ہمیں   اپنے رب عَزَّوَجَلَّ اور دین کے ساتھ رہنے دیجئے  ۔  ‘‘ اس وقت حضرت سیِّدُنا عبد الرحمن بن عَوْف رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا مال تقسیم کیا جا رہا تھا اور حضرت سیِّدُنا کَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بھی موجود تھے ۔ امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضرت سیِّدُناکَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا :   ’’ آپ اس شخص کے بارے میں   کیا کہتے ہیں   جو مال جمع کرتاپھر اسے صدقہ کرتا اور راہِ خدا میں   خرچ کرتا ہے اور اس کے ذَریعے فلاں   فلاں   نیکی کا کام کرتا ہے ؟  ‘‘  تو انہوں   نے جواب دیا :   ’’ مجھے اس کے بارے میں   بھلائی کی امید ہے ۔  ‘‘ یہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابوذَر غِفَاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جلال میں   آکراپناعصاحضرت سیِّدُناکَعْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ



[1]    مصنف ابن ابی شیبۃ  ،   کتاب المغازی  ،   باب اسلام ابی ذر ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۴۵۰۔

[2]    مصنف ابن ابی شیبۃ  ،   کتاب المغازی  ،   باب اسلام ابی ذر ،  الحدیث : ۱ ، ج۸ ، ص۴۵۰ ، بتغیرٍ۔

[3]    صحیح مسلم  ،  کتاب فضائل الصحابۃ  ،  باب من فضائل ابی ذر ،   الحدیث : ۶۳۵۹ / ۶۳۶۱ ،  ص۱۱۱۱۔

[4]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۱۶۴۸ ، ج۲ ، ص۱۵۶ ، بتقدمٍ وتاخرٍ۔

[5]    سنن الدارمی ،  المقدمۃ ،  باب البلاغ عنالخ ،

Total Pages: 273

Go To