Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

عَنْہسے فرمایا :  ’’  مجھے تمہاری تین باتوں   پر اعتراض ہے ۔  ( ۱ )  تم نے اپنی کنیت ابو یحییٰ رکھی جبکہ اللہعَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے :   لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنۡ قَبْلُ سَمِیًّا ﴿۷ ( پ۱۶،   مریم :  ۷ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اس کے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی نہ کیا ۔

             ( ۲ )  تمہارے پاس جو چیز بھی آتی ہے تم اسے خرچ کردیتے ہواور ( ۳ )  تم اپنے آپ کو قبیلۂ نَمِربن قَاسِط کی طرف منسوب کرتے ہو حالانکہ تم مہاجرین اوّلین میں   سے ہو جن پر اللہ عَزَّوَجَلَّنے انعام فرمایا ہے ۔  ‘‘  

            توحضرت سیِّدُنا صُہَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :  ’’ یا امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  ابو یحییٰ کنیت میں   نے خود اختیار نہیں  کی بلکہ یہ توحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے عطا فرما ئی ہے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے ابو یحییٰ کہہ کریاد فرماتے تھے اور میرے پاس جو چیز بھی آتی ہے میں   اسے اس لئے خرچ کر دیتا ہوں   کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکا فرمان عالیشان ہے :   

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ ( پ۲۲،  سبا :  ۳۹ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں   خرچ کرو وہ اس کے بدلے اوردے گا ۔

            اورجہاں   تک نَمِربن قَاسِط کی طرف منسوب ہونے کا معاملہ ہے تویہ بھی بالکل درست ہے کیونکہ عرب ایک دوسرے کو قید کر لیتے تھے،   ایسے ہی عرب کے ایک قبیلے نے مجھے بھی قید کرلیا اور کوفہ لے جاکر بیچ دیا،  وہاں   میں   نے ان کی زبان سیکھ لی،  لہٰذا اگر میں   رومی ہوتا تو انہی کی طرف منسوب ہوتا ۔  ‘‘    ( [1] )

کھانے میں   حیرت انگیزبرکت:

 ( 505 ) … حضرت سیِّدُنا صُہَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان فرماتے ہیں :  میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے کھانا تیار کیا جب بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   حاضرہواتوآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوصحابۂ کرام ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  کے جھرمٹ میں   تشریف فرما پایا ۔  میں   نے سامنے کھڑے ہوکر اشارے سے کھانے کا عرض کیاتوآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اشارے سے صحابۂ کرام ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن )  کا دریافت فرمایا ۔  میں   نے  ( کھانے کی کمی کی وجہ سے )  عرض کی :  ’’  نہیں   ۔   ‘‘ توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہوگئے اور میں   اپنی جگہ کھڑا رہا ۔  جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوبارہ میری طرف متوجہ ہوئے تو میں   نے پھر اشارے سے کھانے کا عرض کیاتو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اب کی بار بھی یہی دریافت فرمایا :   ’’ کیا ان کے لئے بھی  ؟   ‘‘  میں   نے عرض کی :   ’’ نہیں   ۔  ‘‘  دو یا تین مرتبہ ایسا ہوا پھرمیں   نے عرض کی :   ’’ ہاں   !  ان کے لئے بھی ۔  ‘‘  چنانچہ،   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے رُفقا کو ساتھ لے کے تشریف لائے اور سب نے مل کر کھانا کھایا ۔  میں   نے وہ کھانا صرف حضور سیِّدعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے تھوڑاسا بنایا تھا لیکن ان سب کے کھانے کے بعدبھی وہ بچ رہا ۔  ‘‘    ( [2] )

قرض کاچور :  

 ( 506 ) … حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ رسولِ مکرّم،   نُورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’  جو شخص کسی عورت سے مہر پر شادی کرے اور اس کا اِرادہ مہر ادا کرنے کا نہ ہو تو اس شخص نے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّکے نام کے ساتھ دھوکا دیا اور باطِل طریقے سے اس کی شرمگاہ کو اپنے لئے حلال کیا بروزِ قیامت ایساشخصاللہ عَزَّوَجَلَّسے اس حال میں   ملے گا کہ وہ زانی ہوگا ( [3] )اور جو واپس نہ کرنے کے ارادے سے قرض لیتاہے و ہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نام کے ساتھ دھوکا دیتا اور باطِل طریقے سے غیر کے مال کو اپنے لئے حلال ٹھہراتا ہے  ۔  ایسا شخص اللہ عَزَّوَجَلَّسے اس حال میں   ملے گا کہ وہ چور ہوگا ۔  ‘‘    ( [4] )

میں   کیوں   مسکرایا ؟:

 ( 507 ) … حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،  کہ ایک مرتبہ ہم نے رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رات کی نماز پڑھی ۔  جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رُخِ انور پھیرا تو ہماری طرف مسکراتے ہوئے متوجہ ہوئے اور اِرشاد فرمایا :   ’’  جانتے ہو میں   کیوں   مسکرایا ؟  ‘‘  صحابۂ کرام  رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  نے عرض کی :   ’’  اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کارسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں   ۔   ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  مجھےاللہ عَزَّوَجَلَّکے مسلمان بندے کے حق میں  فیصلہ پر تعجب ہوا کہاللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے جو بھی فیصلہ فرماتا ہے اس کے لئے اس میں   بھلائی ہی ہوتی ہے اور جس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ تمام فیصلے بھلائی کے فرمائے وہ بندہ مومن ہی ہوتا ہے ۔  ‘‘  ( [5] )

 



[1]    المستدرک  ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ  ،   باب نزلت آیۃ  ومن الناسالخ ،  الحدیث : ۵۷۵۴ ،  ج۴ ،  ص۴۹۰۔

[2]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۷۳۲۱ ، ج۸ ،  ص۴۵۔

[3]    اس کا یہ مطلب نہیں   کہ شرعی اعتبار سے اس کا نکاح ہی نہ ہوگا۔جیسا کہ محدِّثِ اعظم ،  اعلیٰ حضرت ،  امامِ اہلسنّت ،  مجدِّدِ دین و ملت ،  شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں   ایک سوال کے جواب میں   فرماتے ہیں   :  ’’یہ جو حدیث میں   ارشاد ہوا ہے کہ جن کا نکاح ہوا ان کی نیت میں   ادائے مہر نہیں   وہ روزِ قیامت زانی وزانیہ اٹھائیں   جائیں   گے ،  یہ ان کے واسطے ہے جو محض برائے نام جھوٹے طور پر ایک لغو رَسم سمجھ کر مہر باندھیں   ،  شرعًا ان کا نکاح بھی ہو جائے گااور وہ بحکمِ شریعت زانی و زانیہ نہیں   زن وشو  ( یعنی میاں   بیوی )  ہیں  ۔ اگرچہ قیامت میں   ان پر اس بد نیَّت کا وبال مثلِ زنا ہو کہ انہوں   نے حکمِ الٰہی کو ہلکا سمجھا۔‘‘ ( فتاوی رضویہ ،  ج ۱۲ ، ص ۱۹۹ )  

[4]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  حدیث صُہیب بن سنان  ،   الحدیث : ۱۸۹۵۴ ، ج۶ ، ص۵۰۳۔