Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

رستہ روک لیا ۔ میں   ساری رات کھڑا رہا یہاں   تک لوگ مجھ پر طنز کرتے اور کہتے کہ ’’   اسے اللہ عَزَّوَجَلَّنے پیٹ کے درد میں   مبتلا کر دیا ہے ۔  ‘‘  حالانکہ مجھے کوئی تکلیف نہ تھی ۔  پھرجب

 وہ مجھے چھوڑ کر چلے گئے تو میں   بھی جانے کے لئے نکلالیکن کچھ لوگ مجھے واپس لے جانے کے ارادے سے دوبارہ میری راہ میں   حائل ہوگئے ۔ میں   نے ان سے کہا :  ’’  میں   تمہیں   چند اُوْقِیَّہ سونا اور دوقیمتی جوڑے دیتا ہوں   جو مکہ میں   ہیں   تم مجھ پربھروسہ کر کے میرا راستہ چھوڑدو ۔  ‘‘ چنانچہ،   وہ لوگ اس بات پرراضی ہوگئے تومیں   ان کے ساتھ مکہ گیا اور انہیں   دروازے کی چوکھٹ کے نیچے جگہ کھودنے کے لئے کہا ۔  اس کے نیچے سے چند اُوْقِیَّہ سونا ملا ۔ میں   نے وہ سونا انہیں   دے کر کہاکہ ’’ فلاں   عورت کے پاس چلے جاؤ اوراسے یہ نشانی دکھا کر دو جو ڑے وصول کر لو ۔  ‘‘ اس کے بعد میں   وہاں   سے نکلا اور حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وادی ٔقباء سے نکلنے سے قبل ہی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوگیا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے دیکھا توارشادفرمایا :  ’’  اے ابو یحییٰ  !  تجارت نفع بخش رہی ۔  ‘‘ اور یہ بات آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین بار ارشاد فرمائی ۔  میں   نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  مجھ سے پہلے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس توکوئی نہیں   آیایقینا یہ خبر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرت سیِّدُناجبرائیلعَلَیْہِ السَّلَام نے دی ہو گی ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 500 ) … حضرت سیِّدُناصُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ہجرت کے موقع پر مشرکینِ مکہ مصطفی جانِ رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تلاش میں   نکلے اور غار کی طرف متوجہ ہوئے لیکن پھر لوٹ آئے ۔  اس وقت رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے یاد کرتے ہوئے فرمایا :   ’’ افسوس !  اے صُہَیْب !  صُہَیْب میرے ساتھ نہیں   ہے ۔  ‘‘  جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہجرت کا اِرادہ فرمایاتھا توامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دو یا تین مرتبہ میری طرف بھیجا لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجھے نماز میں   مشغول پاکر بارگاہِ نبوتعَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُوَالسَّلَام میں   عرض کی :  ’’  یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! میں   نے انہیں   نماز میں   مشغول دیکھا تو ان کی نمازمیں   خلل ڈالنامناسب نہ سمجھا ۔  ‘‘  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’  تم نے اچھا کیا ۔   ‘‘  پھر حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اورامیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہراتوں   رات تشریف لے گئے ۔ فجر کے بعد میں   امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زوجۂ محترمہ اُمِّ رُومان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس گیاتووہ مجھے دیکھ کر فرمانے لگیں   کہ ’’ میں   تمہیں   یہاں   دیکھتی ہوں   جبکہ تمہارے دونوں   بھائی چلے گئے اور انہوں   نے اپنے زاد ِراہ میں   تمہارا بھی حصہ رکھا ہے ۔   ‘‘

            آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : میں   وہاں   سے نکلااپنی بیوی کے پاس پہنچ کراپنی تلوار ،   کمان اورنیزہ لیا اورمدینہ طیبہزَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًا میں   حضور نبی ٔ اکرم ،   رسولِ محترم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضر ہوگیا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتشریف فرما تھے ۔  امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمجھے دیکھ کر کھڑے ہوگئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میرے بارے میں   نازل ہونے والی آیت کریمہ کی بشارت دی ۔ پھر میں   نے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کچھ اظہار ناراضی کیاکہ آتے وقت مجھے خبر نہ دی  ۔   تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اس کی وجہ بیان فرما ئی اور رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے دیکھا تو خوشی کا اظہار کیااورارشاد فرمایا:  ’’ اے ابو یحییٰ ! تمہاری تجارت نفع بخش رہی ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 501 ) … حضرت سیِّدُناصُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ میں   نے حضور نبی ٔ اَکرم ،  نُورِمُجَسَّم،   شاہ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوارشادفرماتے ہوئے سناکہ ’’ انسان جنت میں   اس وقت تک داخل نہیں   ہو سکتا جب تک وہ اپنے مال کو اس اس طرح خرچ نہ کرے ۔ یہ کہتے ہوئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دائیں   بائیں   اشارہ فرمایا  ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 502 ) … حضرت سیِّدُنا حمزہ بن صُہَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا: ’’  اے صُہَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اولاد نہ ہونے کے باوجودتم نے اپنی کنیت رکھ لی اور رومی ہوکر عرب کی طرف نسبت کر لی ؟   ‘‘  حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :  ’’  یا امیر المؤمنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  جہاں   تک آپ کا یہ فرمان ہے کہ اولاد نہ ہونے کے باوجود میں   نے اپنی کنیت رکھی ہوئی ہے،   تویہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے ابو یحییٰ کی کنیت سے یاد فرمایا ہے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا یہ فرمانا کہ میں   نے رومی ہونے کے باوجود عرب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کر لیاتویہ اس وجہ سے ہے کہ در حقیقت میراتعلق عرب کے قبیلۂ نَمِربن قَاسِط سے ہے ۔ مجھے مُوصَل سے قید کر کے غلام بنایا گیا تھا،  پس میں   اپنا اہل و نسب جانتا ہوں   ۔  ‘‘  ( [4] )

 ( 503 ) … حضرت سیِّدُنا حمزہ بن صُہَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناصُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہلوگوں   کو بہت زیادہ کھانا کھلایاکرتے تھے ۔ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ان سے فرمایا :   ’’ اے صُہَیْب ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  تم لوگوں   کو بہت زیادہ کھانا کھلاتے ہو اورمیرے خیال میں   یہ مال کااِسراف ہے ۔  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :  بے شک رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’  تم میں   بہترین وہ ہے جو کھانا کھلائے اور سلام کا جواب دے ۔  ‘‘  پس یہی فرمانِ عالی شان مجھے کھانا کھلانے پر اُبھارتا ہے ۔  ‘‘    ( [5] )

تین باتوں   پر اعتراض :  

 ( 504 ) … حضرت سیِّدُنایحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطِب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنا صُہَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی



[1]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۷۲۹۶ ، ج۸ ، ص۳۱ـ۳۲۔

[2]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۷۳۰۸ ، ص۳۶۔

[3]    تاریخ بغداد  ،  الرقم۴۸۵۳صالح بن حرب بن خالد  ،   ج۹ ، ص۳۱۷۔

[4]    المعجم الکبیر ،   الحدیث : ۰ا۷۳ ، ج۸ ، ص۳۸۔

[5]    المسند للامام احمد بن حنبل  ،  حدیث صُہیب ،  الحدیث : ۲۳۹۸۱ ،  ج۹ ،  ص۲۴۰۔

Total Pages: 273

Go To