Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کرامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہروپڑے اور فرمایا :   ’’ میں   نے تمہیں  اللہعَزَّوَجَلَّکی رضا کے لئے آزاد کیا ہے جاؤ اور اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے عمل بجالاؤ ۔  ‘‘  ( [1] )

 ( 496 ) … حضرت سیِّدُناسَعِیدبن مُسَیِّبرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے،  کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے دور خلافت میں   حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ( جہادکے لئے )  شام جانے کی تیاری کی توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’  اے بلال !  میرا خیال ہے کہ تم ہمیں   اس حال میں   چھوڑ کر نہ جاؤ ہم نے تمہیں   آزاد کیا ہے اس لئے ہمارے پاس ہی ٹھہرے رہو ۔   ‘‘  حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :   ’’ اگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجھیاللہعَزَّوَجَلَّکے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے جانے دیجئے اور اگر اپنی ذات کے لئے آزاد کیا ہے تو اپنے پاس روک لیجئے  ۔  ‘‘  چنانچہ،  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں   جانے کی اجازت دے دی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہشام تشریف لے گئے اور وہیں   وفات پائی ۔  ‘‘    ( [2] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسب سے پہلے ہجرت کرنے والوں   میں   سے ہیں   ۔ بہ نیت ثواب لوگوں   کو کھانا کھلاتے ۔  راہِ خدامیں   اپنا مال خرچ کرتے،  نفس کی مخالفت کرتے،  دین کی عمدہ سمجھ رکھتے،   اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضاو خوشنودی کے لئے جہادبھی کرتے تھے  ۔ اورآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاللہ ورسول عَزَّوَجَلَّوَصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے احکامات کو بجالانے میں   جلدی کیاکرتے تھے ۔

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں : ’’ فضو لیات کو ترک کر کے دین پر عمل کرنے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات کے لئے ہر وقت تیار رہنے کانام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

پروانۂ شمعِ رسالت :  

 ( 497 ) … حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں   کہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جہاں   بھی تشریف لے جاتے میں   وہاں  ضرور حاضر ہوتا  ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب بھی کوئی بیعت لیتے میں   اس میں   بھی ضرور شریک ہوتااورآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جولشکر بھی جنگ کے لئے روانہ فرمایا میں   اس میں   بھی شریک رہااورجس جنگ میں   مصطفی جان رحمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بنفس نفیس شریک ہوتے میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ رہتا ۔  اگر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کی طرف سے حملہ کا اندیشہ ہوتا تو سامنے آجاتااگرپیچھے سے خطرہ ہوتا تو پیچھے ہو جاتا اورمیں   نے کبھی بھی حضورنبی ٔ رحمت ،   شفیع اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو  اپنے اور دشمنوں   کے درمیان تنہانہیں   چھوڑاحتی کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا سے ظاہری پردہ فرمایا ۔  ‘‘    ( [3] )

سیِّدُنا صُہَیْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی شان :  

 ( 498 ) … حضرت سیِّدُناسَعِیدبن مُسَیِّبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضورنبی ٔاکرم،   نُورِمُجَسَّم،   شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلے تو قریش کا ایک گروہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھے لگ گیا  ۔ چنانچہ،   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنی سواری سے اترے اور ترکش سے تمام تیر نکال کر فرمایا :  ’’  اے گروہ ِقریش !  تم جانتے ہو کہ میں   تم سب سے زیادہ تیراندازی کا ماہر ہوں   ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  تم اس وقت تک مجھ تک نہیں   پہنچ سکتے جب تک میرے ترکش میں   ایک تیربھی باقی ہے پھر میں   تلوار سے لڑوں   گا یہاں   تک کہ میرے ہاتھوں   میں   قوت ختم ہو جائے ۔  اب تمہاری مرضی ہے یا تو میں   تمہیں   مکہ میں   اپنے مال و دولت کے بارے میں   بتا دوں   تو تم اس پر قبضہ کر کے میرا راستہ چھوڑ دو ۔  یا مجھ سے لڑو ۔  ‘‘ لہٰذا کفار مال لینے پر راضی ہوگئے اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا راستہ چھوڑ دیا ۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمدینہ طیبہزَادَھَااللہ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًامیں   بارگاہِ رسالت عَلیٰ صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں   حاضر ہوئے تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’ ابو یحییٰ نے نفع بخش تجارت کی،   ابویحییٰ نے نفع بخش تجارت کی  ۔  ‘‘  ( ابو یحییٰ،  حضرت سیِّدُنا صُہَیْب بن سِنَان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ہے )

            راوی بیان کرتے ہیں   کہ پھر یہ آیت ِمبارَکہ نازل ہوئی :   

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ(۲۰۷)( پ۲،  البقرۃ :  ۲۰۷ )

ترجمہ کنزالایمان :  اور کوئی آدمی اپنی جان بیچتا ہے اللہ کی مرضی چاہنے میں   ۔  ( [4] )

غیبی خبر :  

 ( 499 ) … حضرت سیِّدُناصُہَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے ،  کہ حضور نبی ٔ پاک،  صاحبِ لولاک،  سیَّاحِ افلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ہمراہ مدینہ طیبہ زَادَھَااللہ شَرَفًاوَّتَعْظِیْمًاتشریف لے جانے لگے تو میں   نے بھی آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے ساتھ جانے کا اِرادہ کر لیا لیکن قریش کے چند نوجوانوں   نے میرا



[1]    المصنف لابن  ابی شیبۃ ،  کتاب الفضائل ،  باب فی بلال وفضلہ ،  الحدیث : ۴ ، ج۷ ،  ص۵۳۸۔

[2]    الجھاد لابن المبارک ،  الحدیث : ۱۰۲ ،  ص۸۷۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۷۳۰۹ ، ج۸ ، ص۳۷۔

[4]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد  ،  الرقم ۴۸صُہَیْب بن سِنَان  ، ج۳ ، ص۱۷۱۔



Total Pages: 273

Go To