Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو باندھ کربچوں   کے حوالے کر دیا جو انہیں   مکہ کے گلی کوچوں  میں   گھسیٹتے پھرتے لیکن اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی زبان پر ’’ اَحَد،  اَحَدیعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک ہے،   اللہ عَزَّوَجَلَّایک ہے،  جاری رہتا ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 488 ) … حضرت سیِّدُنااَنَس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال،   پیکرِ حُسن وجمال،   رسولِ بے مثال صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :   ’’ حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں   میں   بلال  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )   سب سے پہلے ہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 489 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہہَوْزَنِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’ حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے میری ملاقات ہوتی تومیں   نے پوچھا کہ حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاروزانہ کا کتنا خرچہ ہوتا تھا ؟  ‘‘ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ سرکارِ دوجہان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس ( بظاہر ) کوئی چیز نہ تھی ۔ میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کابعثت سے لے کر وصالِ ظاہری تک مالی معاملات کا ذمہ دار تھا ۔  چنانچہ،   جب کوئی نو مسلم بے سرو سامانی کی حالت میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   آتا تو آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھے حکم فرماتے تو میں   قرض لے کر اس کے لباس اور کھانے وغیرہ کا بندوبست کرتا ۔  ‘‘    ( [3] )

فَقْرکی اَہَمّیَّت وترغیب کا بیان

 ( 490 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نور کے پیکر،  تمام نبیوں   کے سَرْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس تشریف لائے ،   ان کے پاس کھجوروں   کا ایک ٹوکرا رکھا ہواتھا ۔  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے استفسار فرمایا :  ’’ اے بلال !  یہ کس کے لئے ہے ؟   ‘‘  عرض کی:  ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! یہ میں   نے آپ اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مہمانوں   کے لئے جمع کر رکھاہے  ۔  ‘‘  ارشاد فرمایا:  ’’ اے بلال !  کیا تم جہنم کے دھوئیں   سے نہیں   ڈرتے،  خرچ کرو اور عرش کے مالک  عَزَّوَجَلَّسے تنگی و کمی کا خوف نہ رکھو ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 491 ) … حضرت سیِّدُنا ابو سعید خُدرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں  کہ تاجدارِ رسالت،   شہنشاہِ نُبوتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :  ’’  اے بلال !  مالداری کے بجائے ناداری کی حالت میں   دنیا سے رخصت ہونا ۔  ‘‘ میں   نے عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  یہ میرے لئے کیسے ممکن ہو گا ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’  جو رزق تجھے ملے اسے جمع نہ کر اور جب کوئی تجھ سے سوال کرے تو اسے محروم نہ کر ۔  ‘‘  میں   نے پھر عرض کی :   ’’ یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! یہ میرے لئے کس طرح ممکن ہوگا ؟   ‘‘  ارشاد فرمایا :   ’’ اسے اختیار کرویا پھر جہنم کی آگ کو ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 492 ) … حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ نور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دو جہاں   کے تاجْوَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  راہِ خدامیں   جس قدرمجھے ڈرا یا،   دھمکایاگیااتنا کسی کو نہیں   ڈرایا گیااورجتنا میں   ستایا گیا اتناکسی اورکو نہیں   ستایاگیا  ۔ ایسے حالات بھی آئے کہ ایک ایک مہینے تک میرے اور بلال کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہ ہوتا تھا سوائے اتنی چیز کے جو بلال کی بغل میں   آجائے ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 493 ) … حضرت سیِّدُناجابر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار،   ہم بے کسوں   کے مددگار،   شفیعِ روزِ شُمارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  میں   نے دیکھا کہ میں   جنت میں   داخل ہوا اور اپنے آگے کسی کے قدموں   کی آہٹ سنی ۔ تومیں   نے پوچھا :  ’’  اے جبریلعَلَیْہِ السَّلَام !  یہ کون ہے  ؟   ‘‘  انہوں   نے بتایا :  ’’ یہ حضرت بلال  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  ہیں   ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 494 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن بُرَیْدَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  میں   نے جنت میں   اپنے آگے قدموں   کی آہٹ سنی تو دریافت کیا :   ’’  یہ کون ہے ؟   ‘‘  فرشتوں   نے مجھے بتایا کہ ’’  یہ حضرت بلال  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  ہیں   ۔  ‘‘  جب حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحاضر خدمت ہوئے تو حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسارفرمایا :   ’’ اے بلال !  کس سبب سے تم جنت میں   مجھ سے آگے آگے چل رہے تھے ؟  ‘‘  عرض کی :  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  میں   ہمیشہ باوضو رہتا ہوں   اور جب بھی وضو کرتا ہوں   تو دو رکعت نماز ( تحیۃ الوضو )  پڑھ لیتاہوں   ۔  ‘‘  ( [8] )

 ( 495 ) … حضرت سیِّدُناقَیسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ ’’  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو پانچ او قیہ ( یعنی 200 درہم ) کے عوض خرید کر آزاد فرمایا ۔  تو حضرت سیِّدُنابِلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’ اے ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اگر آپ  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجھےاللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے آزاد کیا ہے تو مجھے اجازت دیں   کہ میں   اللہ عَزَّوَجَلَّکے لئے عمل بجا لاؤں   اور اگر اس لئے آزاد کیا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہمجھ سے خدمت لیں   تو مجھے اپنا خادم بنالیں   ۔  ‘‘ یہ سن



[1]    المصنف لابن  ابی شیبۃ  ،  کتاب الفضائل ،  باب فی بلال وفضلہ ،   الحدیث : ۱ ، ج۷ ، ص۵۳۷۔

[2]    المستدرک ،  کتاب معرفۃ الصحابۃ ،  باب خیرالسودان ثلاثۃ ،  الحدیث : ۵۲۹۴ ، ج۴ ، ص۳۲۹۔

[3]    سنن ابی داود ،  کتاب الخراج<



Total Pages: 273

Go To