Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

             پھرجب ایک دن امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا گزر حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس سے ہوا اوروہ لوگ حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ یہی برتاؤ کررہے تھے توآپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اُمَیّہ بن خَلَف سے فرمایا :  ’’  اس بیچارے کے معاملے میں   تواللہ عَزَّوَجَلَّسے نہیں   ڈرتا ۔  کب تک اسے تکلیف دیتا رہے گا ؟   ‘‘ اُمیہ نے کہا :  ’’ آپ نے اسے بگاڑا ہے،   آپ اسے اس تکلیف سے بچالیں   جو آپ دیکھ رہے ہیں   ۔  ‘‘  

            امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  میں   بچا لیتا ہوں   میرے پاس ایک سیاہ فام غلام ہے جو بلال ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) سے زیادہ قوی اور طاقتورہے اوروہ تیرے ہی  ( باطل ) دین پر ہے،   میں   وہ تجھے دے دیتا ہوں  اور تم اس کے بدلے میں   مجھے بلال ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  دیدو ۔  ‘‘  اُمیّہ بولا :  ’’  مجھے منظور ہے ۔  ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اُمیّہ کو اپنا غلام دے دیا اور بلال ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کو لے لیااور انہیں   آزاد کر دیا ۔  پھر مکہ معظمہ سے ہجرت کرنے سے پہلے مزید6 غلام اسلام کی شرط پر آزادفرمائے اور حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو ان سب سے پہلے آزاد فرمایا  ۔  ‘‘

             حضرت سیِّدُنا محمد بن اِسحاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الرَّزَّاق  نے ذکر کیاکہ حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  قبیلہ بَنِی جُمَحَ کے غلام تھے اور ان کا نام بلال بن رَباح ہے اور ان کی ماں   کا نام حمامہ ہے اورآپ ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  اسلام میں   سچے اورپاکیزہ دل والے تھے اوردوپہرکے وقت جب گرمی خوب زور پکڑتی تو اُمَیّہ بن خَلَف انہیں   باہر لاکر پیٹھ کے بل مکہ کے ریتلے میدان میں   ڈال دیتا پھر بڑاپتھر لانے کا حکم دیتا تو ان کے سینے پر رکھ دیاجاتا پھر کہتا:  ’’ تم ایسے ہی پڑے رہو گے یہاں   تک کہ مر جاؤ یامحمد ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) سے پھرجاؤ اور لات وعزٰی  ( یہ مشرکین کے دو باطل معبودوں   کے نام ہیں   )  کو پوجو ۔  ‘‘  لیکن حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاس سخت مصیبت میں   گرفتار ہونے کے باوجود ’’ اَحَد،   اَحَد ‘‘ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّایک ہے،   اللہ عَزَّوَجَلَّ ایک ہے،     کی صدا لگائے جاتے  ۔

            امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا ایک نام عتیق بھی ہے ۔  حضرت سیِّدُنا عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو خرید کر آزاد کرنے،   ان کی تکالیف اور ان کے رُفقا کو آزاد کرنے کے متعلق درج ذیل اشعارکہے :   

جَزَی اللہ خَیْرًاعَنْ بِلَالٍ وَصَحْبِہٖ          عَتِیْقًاوَاَخْزٰی فَاکَھًاوَاَبَاجَھْل

عَشِیَّۃَ ھُمَافِیْ بِلَالٍ بِسَوْ ء ۃٍ             وَلَمْ یَحْذَرَامَایَحْذَرُالْمَرْئُ ذُوالْعَقْل

بِتَوْحِیْدِہٖ رَبَّ الْاَنَامِ وَقَوْلُہٗ             شَھِدْتُّ بِأَنَّ اللہ رَبِّیْ عَلٰی مَھْل

فَاِنْ یَّقْتُلُوْنِیْ یَقْتُلُوْنِیْ فَلَمْ اَکُنْ           لِاُشْرِکَ ِبالرَّحْمٰنِ مِنْ خِیْفَۃِ الْقَتْل

فَیَارَبَّ اِبْرَاھِیْمَ وَالْعَبْدِ یُوْنُسَ             وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی نَجِّنِیْ ثُمَّ لَا تُمْل

لِمَنْ ظَلَّ یَھْوِی الْغَیَّ مِنْ آلِ غَالِبٍ         عَلٰی غَیْرِبِرٍّکَانَ مِنْہُ وَلَاعَدْل

ترجمہ :   ( ۱ ) … اللہ عَزَّوَجَلَّ حضرت سیِّدُنابلال اور ان کے دوستوں   ( رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ) کی طرف سے عتیق  ( یعنی  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کو جزائے خیر عطا فرمائے اوراُمَیَّہ اور ابوجَہل کو رُسوا کرے ۔

                 ( ۲ )  … وہ شام یاد کروجب ان دونوں   بدبختوں   ( یعنی ابوجَہل و اُمَیَّہ )  نے حضرت سیِّدُنا بلال ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) سے انتہائی سفاکانہ سلوک کیااور اس سے نہ ڈرے جس سے عقل مند آدمی ڈر جاتا ہے ۔  

                 ( ۳ ) … انہوں   نے حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہپراس لئے ظلم کیا کیونکہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے خدا عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیَّت کا اقرار کیا اور فرمایا :   میں   گواہی دیتا ہوں   کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا رب ہے ۔

                 ( ۴ ) …  اور  ( فرمایا :   ) اگر تم مجھے قتل کرتے ہو تو کر دو مگرمیں   اس کے ڈر سے رحمن عَزَّوَجَلَّکے ساتھ شرک نہیں   کر سکتا ۔

                 ( ۵،  ۶ ) … اے حضرت سیِّدُنا ابراہیم،   سیِّدُنا یونس،  سیِّدُنا موسیٰ اور سیِّدُنا عیسٰیعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ربّ عَزَّوَجَلَّ !  مجھے نجات عطا فرماپھراسے مہلت نہ دے جو ناحق آلِ غالب ( یعنی قریش والوں   )  کی گمراہی کی آرزو کئے جاتا ہے اور اسے احسان و بھلائی سے کوئی واسطہ نہیں    ۔  ( [1] )

 ( 487 ) … حضرت سیِّدُنا عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   کہ ’’ سب سے پہلے دینِ اسلام کاپیغام عام کرنے والی 7 شخصیات ہیں :  ( ۱ ) حضور نبی ٔپاک،   صاحب ِ لَوْلاک،   سیّاحِ اَفلاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم   ( ۲ ) امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( ۳ ) حضرت سیِّدُناعَمَّاربن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  ( ۴ ) ان کی والدہ حضرت سیِّدَتُنا سُمَیَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا  ( ۵ )  حضرت سیِّدُنا صُہَیْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( ۶ ) حضرت سیِّدُنابِلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاور ( ۷ ) حضرت سیِّدُنا مِقْدَاد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ۔

            اللہ عَزَّوَجَلَّنے حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّم ،   شاہ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چچا ابو طالب کے ذریعے فرمائی ۔  حضرت سیِّدُنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی حفاظت کا ذریعہ ان کی قوم کو بنایاجبکہ دیگر حضرات کو مشرکین نے پکڑکرلوہے کی زرہیں   پہنائیں   اورانہیں   سُورج کی تپتی دھوپ میں   ڈال دیا ۔  مشرکین نے ان میں   سے ہر ایک سے جو چاہا کہلوایالیکن حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں   اپنی جان کی پرواہ نہ کی اور جب مشرکین پر ان کا معاملہ مشکل ہو ا تو انہوں   نے



[1]    السیرۃ النبویۃ  لابن ہشام  ،   ذکرعد وان المشرکینالخ  ،   ص۱۲۵۔

                 فضائل الصحابۃ للامام احمدبن حنبل ،   باب قولہ مروا ابابکر یصلی بالناس ،  الحدیث : ۸۹ ، ج۱ ، ص۱۲۰۔



Total Pages: 273

Go To