Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            چنانچہ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ صحیفہ پھینک دیا اور ہمیں   اپنی بارگاہ میں   حاضر ہونے کا فرمایا ۔ جب ہم حاضرِ خدمت ہوئے تواِرشاد فرمایا :   ’’ تم پر سلامتی ہو ۔  ‘‘  پھر ہم آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس قدر قریب ہوئے کہ ہمارے گھٹنے آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک گھٹنوں   سے مل گئے ۔ اس طرح رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ساتھ بیٹھنے لگے  ۔ جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٹھنے کا اِرادہ فرماتے تو ہمیں   چھوڑ کر کھڑے ہو جاتے ۔ اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّنے قرآ ن پاک میں   یہ آیت نازل فرمائی :  

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُعَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ   ( پ۱۵،  الکہف :  ۲۸ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں   اس کی رضاچاہتے اورتمہاری آنکھیں انہیں   چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں   ۔

            حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ ’’  اس کے بعد ہم حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   بیٹھنے کا شرف پاتے تھے اور جب ہم جان لیتے کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُٹھنا چاہتے ہیں   تو ہم آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے ہی اٹھ جاتے یوں  آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے اُٹھنے سے پہلے نہ اُٹھتے بلکہ ہمیشہ ہمارے اُٹھنے کا انتظار فرماتے ۔  ‘‘    ( [1] )

کوفہ میں   تدفین کی وصیت :  

 ( 483 ) … حضرت سیِّدُنازَید بن وَہْب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جنگ صفین سے واپسی پر ہم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے ہمراہ کوفہ کے دروازہ پر پہنچے تو ہمیں   سات قبریں   نظر آئیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اِستفسار فرمایا :  ’’  یہ کن کی قبریں   ہیں   ؟  ‘‘  لوگوں   نے عرض کی :  ’’ یا امیر المؤمنین !  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے صفین تشریف لے جانے کے بعد حضرت سیِّدُناخَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بوقت وفات یہ وصیت فرمائی تھی کہ انہیں   کوفہ کی سر زمین پر دفن کیا جائے ۔  ‘‘ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّخَبَّاب پر رحم فرمائے  !  کہ وہ بخوشی اسلام لائے اور برضا و رغبت ہجرت کی اور جہاد کرتے ہوئے زندگی گزاری اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اسلام کی خاطرکئی جسمانی تکالیف کا سامنا کیا ۔   ( یاد رکھو !  ) اللہ عَزَّوَجَلَّنیک عمل کرنے والے کے اجر کو ہرگز ضائع نہیں   فرماتا ۔  ‘‘  پھر اِرشاد فرمایا :  ’’  اس شخص کے لئے خوشخبری ہو جو آخرت کو یاد رکھے ،   حساب کے لئے عمل کرے ،   تھوڑے پر قناعت کرے اور ہر حال میں   اللہ عَزَّوَجَلَّکی رضا پرراضی رہے  ۔   ‘‘    ( [2] )

٭٭٭٭٭٭

حضرت سیِّدُ نا بلال بن رَبَاح رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہتنہائی میں   عبادت کرنے والے،   صاحب فضل و سخاوت امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے آزاد کردہ غلام ہیں   ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو دین اسلام قبول کرنے کی وجہ سے بہت زیا دہ ستایا گیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنور کے پیکر،   تمام نبیوں   کے سَرْوَر،   دو جہاں   کے تاجْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خازن تھے ۔ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرتے ۔  نیکیوں   میں   پہل کرتے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّکی ذات پر کامل بھروسہ اور یقین رکھتے تھے ۔

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں  کہ ’’ مخلوق سے امیدیں  قطع کرکے اللہ عَزَّوَجَلَّکی ذات پرکامل بھروسہ رکھنے کانام تصوّف ہے  ۔  ‘‘

 ( 484 ) … حضرت سیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے: ’’  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) ہمارے سردارہیں   اور انہوں   نے ہمارے سردارحضرت بلال  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) کوآزادکیا ۔  ‘‘    ( [3] )

مؤذنین کے سردار :  

 ( 485 ) …  حضرت سیِّدُنا زَید بن اَرقم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبی ٔ اکرم،  نُورِمُجَسَّم،  شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’  بلال ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) ایک اچھے انسان اورمُؤَذِّنِیْن ( یعنی اذن دینے والوں   )  کے سردار ہیں   ۔  ‘‘    ( [4] )

سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی اِستقامت :  

 ( 486 ) … حضرت سیِّدُناعُرْوَہ بن زُبَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں   کہ ایک دن ورقہ بن نوفل کا گزر حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس سے ہوا جبکہ انہیں   (  اسلام لانے کی وجہ سے )  ماراجا رہا تھا اور ایسی حالت میں   بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ’’  اَحَدْ ،   اَحَدْ ‘‘  یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّایک ہے،   اللہ عَزَّوَجَلَّایک ہے ‘‘  کی صدا لگا رہے تھے ۔  ورقہ بن نوفل نے دیکھا تو کہا :  ’’ بلال  !  اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کانام لئے جاؤ ۔  ‘‘ پھر اُمَیّہ بن خَلَف جو حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکومار رہا تھااس کی طرف متوجہ ہوکر کہا :  ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  اگر تم انہیں   اس بات پرشہید کر دوگے تو میں   انہیں   حَنَان ( [5] )بناؤں   گا ۔  ‘‘

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۶۱۸ ، ج۴ ، ص۵۶۔

[2]    سنن ابن ماجہ ،   ابواب الزہد  ،  باب مجالسۃ الفقراء  ،  الحدیث : ۴۱۲۷ ، ص۲۷۲۸۔

[3]    صحیح البخاری  ،  کتاب فضائل اصحاب النبی ،  باب مناقب بلاللخ ،   الحدیث : ۳۷۵۴ ،  ص۳۰۵۔