Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

            ابو اُسامَہ حضرت اِدْرِیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے نقل کرتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ میں   پسند کرتا ہوں   کہ یہ دراہم مینگنیاں   یا کچھ اور ہوتے  ۔  ‘‘   ( [1] )

 ( 479 ) … حضرت سیِّدُناطارِق بن شِہاب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَہَّاب سے مروی ہے کہ چند صحابۂ کرام  رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن  حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی عیادت کے لئے تشریف لائے اور کہا :  ’’  اے ابوعبداللہ !  ( یہ حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ہے )  خوش ہوجائیے ! عنقریب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاپنے رُفقا سے ملنے والے ہیں   ۔  ‘‘  ( یہ سن کر ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہرونے اورفرمانے لگے :   ’’ مجھے مرنے کا غم نہیں   بلکہ تم نے میرے سامنے ان لوگوں   کا تذکرہ کیا اور مجھے ان کا بھائی کہاہے جو اپنا پورا پورا اجر لے چکے اور میں   خوفزدہ ہوں   کہ کہیں  مجھے میرے اعمال کا اجر و ثواب دنیاہی میں   نہ دے دیا گیا ہو ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 480 ) … حضرت سیِّدُناقَیْس بن ابی حَازِم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں : میں   حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   حاضر ہواتو دیکھا کہ ان کا جسم سات جگہوں   سے داغا ہو اہے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اے قیس !  اگر رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیں   موت کی دعا کرنے سے منع نہ فرماتے تو میں   ضرورمرنے کی دعا کرتا ۔  ‘‘ ( [3] )    ( [4] )

 ( 481 )  …  حضرت سیِّدُناقَیْس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں : ’ہم حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی عیادت کے لئے حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا پیٹ سات جگہوں   سے داغا ہو اہے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ اگر رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   مرنے کی دعا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں  ضرور کرتا ۔  ‘‘  پھر فرمایا: ’’  ہم سے پہلے گزرنے والوں  نے دنیا سے کچھ نہ لیا ( یعنی دنیوی مال واسباب جمع نہ کئے )  جبکہ ہمارے پاس اتنا دنیوی مال ہے کہ ہمیں   سمجھ نہیں   پڑتی کہ اسے کہاں   خرچ کریں   سوائے اس کے کہ مٹی میں   ملا دیں   اور مسلمان کو مٹی میں   خرچ کر نے کے سوا ہر جگہ خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے ( مٹی میں   خرچ کرنے سے فضول تعمیرات وغیرہ میں   خرچ کرنا مراد ہے )  ۔  ‘‘    ( [5] )

مساکین صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی شان میں   قرآنی آیات :  

 ( 482 ) … حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے،  فرماتے ہیں : ایک مرتبہ حضورنبی ٔکریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیِّدُنا عمار ،   حضرت سیِّدُنا بلال اورمجھ سمیت دیگر غریب مؤمنین رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے جھرمٹ میں   تشریف فرما تھے کہ اَقْرَع بن حَابِس تَمِیْمِیاور عُیَیْنَہ بن حِصْن فَزَارِیحاضر خدمت ہوئے ۔ بارگاہِ رسالت عَلٰی صَاحِبِہَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں   موجود اِن غریب صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کو حقارت سے دیکھتے ہوئے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے علیحدگی میں   ملنے کو کہا اور عرض کی :   ’’ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں   ہم عرب کے وفد حاضر ہوتے ہیں   اورہمیں   ان غلاموں   کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں   ہے ۔  اس سے ہمیں   حیا آتی ہے ۔  لہٰذا جب ہم حاضرِ خدمت ہوں   تو انہیں   اپنے پاس سے اُٹھا دیا کریں   ۔  ‘‘  حضور سیِّدِعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ’’ ٹھیک ہے ۔   ‘‘ پھر انہوں   نے عرض کی :   ’’ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے لئے اپنے ذمہ ایک معاہدہ لکھ دیں   ۔  ‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک صحیفہ منگوایا اورامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰکَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو لکھنے کے لئے بلوایا جبکہ ہم ایک کونے میں   بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت سیِّدُنا جبرئیل امینعَلَیْہِ السَّلَاماللہعَزَّوَجَلَّکی طرف سے یہ وحی لے کر حاضر ہوئے :   

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ-مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۲)وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَاؕ-اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ(۵۳)وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا ( پ۸،  الانعام :  ۵۲تا۵۴ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  اور دور نہ کرو انہیں   جو اپنے رب کو پکارتے ہیں   صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں   اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں   پھر انہیں   تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے اور یونہی ہم نے ان میں   ایک کو دوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کا فر محتاج مسلمانوں   کو دیکھ کر کہیں   کیا یہ ہیں   جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں   سے،  کیا اللہ خوب نہیں   جانتا حق ماننے والوں   کو اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں  جو ہماری آیتوں   پر ایمان لاتے ہیں    ۔

 



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۶۶۶ / ۳۶۶۷ ، ج۴ ، ص۷۰۔

                المصنف لابن ابی شیبۃ  ،  کتاب الزھد ،  باب ما قالوا فی البکاءالخ ،  الحدیث : ۱۰ ، ج۸ ، ص۲۹۷۔

[2]    الطبقات الکبریٰ لابن سعد  ،  الرقم۴۳خباب بن الارت  ،  ج۳ ، ص۱۲۴۔

[3]    صحیح البخاری ،  کتاب الدعوات ،  باب الدعاء بالموت والحیاۃ ،  الحدیث : ۶۳۴۹ ، ص۵۳۴۔

[4]    مفسِّرِ شہیر ،  حکیم ُ الا ُ مَّت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی  ’’مرآۃ المناجیح‘‘ میں   فرماتے ہیں   :  ’’موت کی آرزو اچھی بھی ہے اور بری بھی ،  اگرحضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے دیدارکے لئے یا دُنیوی فتنوں   سے بچنے کے لئے موت کی تمناکرتاہے تواچھاہے اور اگر دُنیوی تکالیف سے گھبراکر تمنائے موت کرے تو برا ،  موت کی یادبہترین عبادت ہے خصوصاً جب اس کے ساتھ تیاری ٔموت ہو۔ خیال رہے کہ یہ کہنا جائز ہے :  خدایا! مجھے شہادت کی موت دے ، خدایا! مجھے مدینۂ پاک میں   موت نصیب کر۔ چنانچہ ،  ( امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا )  عمر فاروق  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) نے دعاکی تھی کہ مولا  ( عَزَّوَجَلَّ )  مجھے اپنے حبیب ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  کے شہرمیں   شہادت نصیب کر۔   ( اُمُّ المؤمنین )  حضرت  ( سیِّدَتُنا )  حفصہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کیا : یہ کیسے ہوسکے گا تو آپ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) نے فرمایا :  اِنْ شَآء اللہ ( عَزَّوَجَلَّ )  ایسے ہی ہوگا۔ چنانچہ ،  مسجدِنبوی محرابُ النَّبی نمازکی حالت میں   مصلائے مصطفی ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم