Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

‘‘  حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے دیکھا تو فرمایا :  ’’  میں   نے آج تک ایسی پیٹھ نہیں   دیکھی ۔  ‘‘  حضرت سیِّدُناخَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :  ’’ کفارمیرے لئے آگ بھڑکاتے  ( پھر مجھے برہنہ پیٹھ اس پرلٹاتے )  تو آگ کو میری پشت کی چربی ہی بجھاتی تھی ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 473 ) …  حضرت سیِّدُناخَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں  :  ایک مرتبہ حضورنبی ٔ مکرّم،  نُورِ مُجَسَّم،  شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کمبل اوڑھے خانہ کعبہ کے سائے میں   تشریف فرما تھے ۔  ہم نے مشرکین کی طرف سے پہنچے والی تکالیف کی شکایت کرتے ہوئے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے لئے اللہعَزَّوَجَلَّسے کیوں   دُعانہیں   فرماتے اورکیوں   مددطلب نہیں   فرماتے ؟  ‘‘ یہ سُن کر آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا چہرہ مبارَک سُرخ ہوگیا پھر ارشاد فرمایا :   ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  تم سے پہلے کے مسلمانوں   میں   سے کسی کے بدن کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے تو کسی کا لوہے کی کنگھی سے گوشت اُدھیڑا جاتاتھا لیکن اس کے باوجود وہ دین سے نہ پھرتے حالانکہاللہ عَزَّوَجَلَّاس دین پہ چلنے والوں   کے لئے ایسا امن قائم فرمائے گا کہ تم میں   سے کوئی سوارصنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اسے اللہ عَزَّوَجَلَّکے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا اور بھیڑیا بکریوں   کی نگہبانی کرے گا لیکن تم لوگ جلد بازہو ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 474 ) … حضرت سیِّدُناامام شَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ ’’   مشرکین مسلمانوں   کو شدید تکالیف سے دو چار کر کے اپنی پسند کی باتیں   کہلوا لیتے تھے لیکن حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو گرم پتھر پر لٹانے کے باوجود ان کے منہ سے اپنی پسند کی ایک بات بھی نہیں   سن پاتے تھے ۔  ‘‘    ( [3] )

موت کی تمناکرناکیسا ؟

 ( 475 ) …  حضرت سیِّدُناحَارِثَہ بن مُضَرِّب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،  فرماتے ہیں : ایک دن ہم حضرت سیِّدُنا خبّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا جسم جگہ جگہ سے داغا ہوا ہے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ جو مصائب مجھے پہنچے میں   نہیں   جانتاکہ وہ کسی دوسرے کو بھی پہنچے ہوں   ۔ حضورنبی ٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک دور میں   میرے پاس ایک درہم بھی نہ تھا اورآج میرے گھر میں   40 ہزار درہم موجود ہیں   ۔  اگر رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں   موت کی تمنا کرنے سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں   ضرور موت کی تمنا کرتا ۔  ‘‘    ( [4] )

 ( 476 ) … حضرت سیِّدُناحَارِثَہ بن مُضَرِّب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں : ہم حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پیٹ پر 7 جگہ داغنے کے نشان ہیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  اگر رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ ارشاد نہ فرمایا ہوتا کہ ’’   تم میں   سے کوئی بھی ہر گزموت کی تمنا نہ کرے ۔  ‘‘  تومیں   ضرور موت کی تمنا کرتا  ۔  کسی نے عرض کی :  ’’  حضورنبی ٔ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت بابرکت اوربارگاہ میں   حاضری کا کچھ تذکرہ فرما دیں   !  ‘‘  تو فرمایا :   ’’  میں   اس بات سے ڈرتا ہوں   کہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہوں    ( یعنی تذکرہ کرتے ہوئے )  اورمیرے پاس یہ 40 ہزاردرہم بھی ہوں    ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 477 ) … حضرت سیِّدُناحَارِثَہ بن مُضَرِّب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،  فرماتے ہیں :  ہم حضرت سیِّدُنا خبّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس حاضر ہوئے تودیکھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا جسم 7 جگہوں   سے داغا ہوا ہے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   اگر رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ ارشاد نہ فرماتے کہ ’’   تم میں   سے کوئی بھی ہر گزموت کی تمنا نہ کرے  ۔  ‘‘  تو میں   ضرور موت کی تمنا کرتا ۔    ( [6] )

            حضرت سیِّدُنایحییٰ بن آدم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی روایت میں   اتنا زائد ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے زمانے میں   میری یہ حالت تھی کہ میرے پاس ایک درہم بھی نہ ہوتاتھا اور اب میرے گھر میں   40 ہزار درہم ہیں   ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا کفن لایا گیا تواسے دیکھ کر رو پڑے اور فرمایا :  ’’ سیدالشُّہَدا حضرت سیِّدُناامیرحمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے کفن کے لئے ایک دھاری دار چادر تھی ۔  جب اس کے ساتھ سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں   ظاہر ہو جاتے اور جب پاؤں   پر ڈالی جاتی تو سر خالی رہ جاتا پھر وہ چادر اُن کے سر پر ڈالی گئی اور قدموں   پر گھاس رکھی گئی ۔  ‘‘    ( [7] )

 ( 478 ) … حضرت سیِّدُناابو وَائِل شَقِیق بن سَلَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں :  ہم حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَتْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پاس ان کے مرضِ موت میں   حاضر ہوئے توانہوں   نے فرمایا :  ’’  اس تابوت میں   80 ہزار درہم ہیں   ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم !  میں   نے نہ تو انہیں   دھاگے سے سیا ہے اور نہ ہی کسی سائل کو محروم رکھاہے ۔  ‘‘  پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہروپڑے ۔ ہم نے رونے کی وجہ پوچھی،   تو فرمایا :  ’’  میں   اس لئے روتا ہوں   کہ میرے رُفقاچلے گئے اور دنیا انہیں   کوئی نقصان نہ پہنچا سکی جب کہ ہم زندہ ہیں   اور ان دراہم کے لئے مٹی کے سوا کوئی جگہ نہیں   پاتے ۔  ‘‘

 



[1]    الاِسْتِیْعاب فی مَعْرِفَۃ الاصحاب  ،  الرقم۶۴۶خباب بن الارت ، ج۲ ، ص۲۲۔

[2]    صحیح البخاری  ،  کتاب المناقب ،  باب علامات النبوۃ فی الاسلام  ،   الحدیث۳۶۱۲ ، ص۲۹۴ ، مفہومًا۔

[3]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۳۶۹۴ ، ج۴ ، ص۷۷ ، مفہومًا۔

[4]    مسند ابی داود الطیالسی ،  خباب بن الارت ،  الحدیث : ۱۰۵۳ ، ص۱۴۱۔

[5]    المعجم الکبیر ،   الحدیث

Total Pages: 273

Go To