Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

( 466 ) … حضرت سیِّدُناخالد بنعُمَیْررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ’’ حضرت سیِّدُنا عَمَّار بن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبہت زیادہ خاموش رہتے اوراکثر غمزدہ و افسردہ رہتے اور فتنوں   سے اکثر اللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ مانگتے  ۔  ‘‘    ( [1] )

 ( 467 ) … حضرت سیِّدُناعبد اللہبن ابو ہُذَیْلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ جب حضرت سیِّدُناعبد اللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے اپنا گھر بنوایا تو حضرت سیِّدُنا عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کہاکہ میرا گھردیکھئے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے گھر دیکھ کرفرمایا :  ’’  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مضبوط گھر تعمیرکر وایا اورلمبی امیدباندھی لیکن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکوتوعنقریب اس دنیا سے رخصت ہو جانا ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

رضائے الٰہی کے متلاشی :   

 ( 468 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن اَبْزَی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ایک روز دریائے فرات کے کنارے چلتے ہوئے یوں   عرض کی: ’’ یااللہعَزَّوَجَلَّ !  اگر مجھے پتا چل جائے کہ میرے گر کر ہلاک ہو نے سے تو مجھ سے راضی ہوگا تو میں   یہ بھی کر گزروں   اور اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ اس پانی میں   غرق ہوناتیری رضاکاسبب ہے تو میں   ایسا کرنے کے لئے بھی تیار ہوں   ۔  ‘‘    ( [3] )

حضرت سَیِّدُ نَا خَبَّاب بن اَلْارَتْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُنا ابوعبداللہخَبَّاب بن اَ لْاَرَتْ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبنی زُہرہ کے آزاد کردہ غلام ہیں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبخوشی اسلام قبول کرنے والے،   تکالیف وآزمائش کی بھٹی سے گزرنے والے ،   برضا و رغبت ہجرت کرنے والے ہیں   ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے مجاہدبن کر زندگی بسرکی اور اسلام کی خاطر پیش آنے والے مصائب کو صبر و شکر سے برداشت کیا ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا شمار آہ وزاری کرنے اور بکثرت رونے والوں   میں   ہوتا ہے اور جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکومالِ غنیمت سے حصہ دیا جاتاتو غمگین ہوجاتے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفقرا مہاجرین و سابقین میں   سے ہیں   اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبکثرت حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت میں   بیٹھتے اور انس حاصل کرتے  ۔  آپ اورآپ کے رُفَقا رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے بارے میں  اللہعَزَّوَجَلَّنے اپنے پیارے حبیب ،   حبیب لبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرمایا :  

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ

ترجمۂ کنز ا لا یمان :   اور دور نہ کرو انہیں   جو اپنے رب کو پکارتے ہیں   صبح اور شام  ۔ (پ۷،الانعام: ۵۲)

            آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاللہعَزَّوَجَلَّکے ذکر سے انس حاصل کرتے اور حضورنبی ٔ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت و صحبت میں   کثرت سے بیٹھتے تھے ۔

 ( 469 ) … حضرت سیِّدُناکُرْدُوس غَطَفَانِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَتْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہچھٹے نمبر پر اسلام لائے اوراسلام لانے میں   آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا چھٹانمبر ہے ۔  ‘‘   ( [4] )

 ( 470 ) … حضرت سیِّدُنامَعْدِیکَرَب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں :  ایک مرتبہ ہم حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں   سورۂ شعراء کے بارے میں   پوچھنے آئے تو فرمایا: ’’  مجھے اس کا علم نہیں  ،  تم حضرت ابوعبداللہخَبَّاب بن اَ لْاَرَتْرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے پوچھ لوکہ انہوں   نے اسے حضورنبی ٔاکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سن کریادر کھا ہے ۔  ‘‘    ( [5] )

راہِ خدا کے مسافر وں   کی تکالیف :  

 ( 471 ) … حضرت سیِّدُنا طارِق بن شِہابعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَہَّاب سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا خَبَّاب بن اَ لْاَرَتْ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاولین مہاجرین اورراہِ خدامیں   تکالیف برداشت کرنے والوں   میں   سے ہیں   ۔   ( [6] )

 ( 472 ) … حضرت سیِّدُناشَعْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیِّدُنابلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کے بارے میں   پوچھاتو حضرت سیِّدُنا خَبَّاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ( بھی چونکہ وہاں   موجود تھے انہوں   ) نے عرض کی:  ’’ یاامیرالمومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  میری پیٹھ دیکھیں   ۔  



[1]    موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا ،  کتاب الہَمّ والحُزْن ،   الحدیث : ۳۴ ، ج۳ ، ص۲۶۸۔

                الطبقات الکبری لابن سعد  ،  الرقم۵۴ عماربن یاسر ،  ج۳ ،  ص۱۹۴۔

[2]    الزہد لابی داود ،  باب من خبر عمار ،  الحدیث : ۲۶۳ ، ج۱ ، ص۲۸۳۔

[3]    الزہد للامام احمد بن حنبل  ،  زہد علی بن الحسین  ،  الحدیث : ۹۸۵ ، ص۱۹۶۔

[4]    المصنف لابن  ابی شیبۃ  ،  کتاب التاریخ  ،   باب کتاب التاریخ  ،   الحدیث : ۱۶ ، ج۸ ، ص۴۳۔

[5]    المعجم الکبیر  ،  الحدیث : ۳۶۱۴ ،