Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

یاسِر ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ ) سرسے پاؤں   تک ایمان سے بھرے ہوئے ہیں   ۔  ‘‘    ( [1] )

جنت کی خوشخبری:

 ( 452 ) … امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان بن عفان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ وادیٔ بطحامیں   رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے میری ملاقات ہوئی تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میرا ہاتھ اپنے دست اقدس میں   لے لیا پھر میں   آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ چلنے لگا یہاں   تک کہ حضرت عَمَّار اور ان کی والدہ  ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا )  کے پاس سے گزر ہوا ۔ چونکہ،   ان دنوں   انہیں   ایمان لانے کی وجہ سے بہت ستایاجاتا تھااس لئے حضورنبی ٔرحمت،   شفیعِ اُمت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے ارشاد فرمایا:  ’’ اے آل یاسِر !  صبر کرو !  بے شک تمہارا ٹھکانہ جنت ہے ۔  ‘‘    ( [2] )

اسلام کے اوَّلین مبلِّغین :  

 ( 453 ) …  حضرت سیِّدُنا مجاہد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’  سب سے پہلے جنہوں   نے دین اسلام کی دعوت کوعام کیا،  وہ یہ 7 شخصیات ہیں :  ( ۱ ) حضور نبی ٔاکرم ،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ( ۲ )  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق ( ۳ ) حضرت سیِّدُناخَبَّاب ( ۴ ) حضرت سیِّدُناصُہَیْب ( ۵ ) حضرت سیِّدُنابلال  ( ۶ ) حضرت سیِّدُنا عمار  ( ۷ ) حضرت سیِّدَتُنااُمِّ عمار سمیہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ۔  ‘‘

            حضورنبی ٔرحمت،   شفیع اُمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت کا ذریعہ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاچچاابو طالب بنااور امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی حفاظت ان کے قبیلے کے لوگوں   نے کی جبکہ بقیہ افراد کو کفار لوہے کی زِرہیں   پہناتے اورکڑی دھوپ میں   ڈال دیتے  ۔ جب تک اللہعَزَّوَجَلَّنے چاہا اُنہوں   نے یوں   ہی سورج اور لوہے کی گرمی کی تکالیف اُٹھائیں   ۔  جب شام ہوتی تو ابوجہل برچھی لے کر آتا ان معزز حضرات کو گالیاں  بکتا اوربر چھی کے ذریعے تکالیف پہنچاتا ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 454 ) … حضرت سیِّدُناعمّار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے پوتے ابو عبیدہ بن محمد رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں   کہ کفارِ مکہ نے حضرت سیِّدُنا عمّار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو اپنے معبودوں   کی تعریف کرنے پر مجبور کیا ۔  جب حضورنبی ٔاکرم ،    نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے پاس تشریف لائے تو استفسار فرمایا: ’’ کیا معاملہ پیش آیا ؟   ‘‘ انہوں   بتایا:  ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ! بہت بُرا معاملہ پیش آیا ،   انہوں   نے مجھے اس وقت تک نہیں   چھوڑا جب تک آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف نہیں   لائے اور مجھے اپنے باطل معبودوں   کی تعریف کرنے پر بھی مجبور کیا ۔ حضور نبی ٔکریم،  رَء ُ وفٌ رَّحیمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسارفرمایا: ’’  تم اپنی دلی کیفیت کو کیسا پاتے ہو  ؟  ‘‘  عرض کی :   ’’ میں   اپنے دل کو ایمان پر مطمئن پاتا ہوں   ۔  ‘‘ توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’  اگر مشرکین دوبارہ مجبور کریں   تو تمہیں   ایسا کرنے کی اجازت ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

پاکیزہ شخص :  

 ( 455 ) …  امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں :  حضرت عَمَّاربن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے حضورنبی ٔ اکرم   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں   حاضر ہونے کی اجازت طلب کی تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :   ’’ اسے اجازت دو،  مبارَک ہو اے پاک اورپاکیزہ شخص ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 456 ) … امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ  کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں :  حضرت عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ  قرآن پاک کی کبھی ایک سورت کا کچھ حصہ یاد کرتے تو کبھی دوسری سورت کا ۔  جب یہ بات حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بتائی گئی تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے استفسار فرمایا :  ’’  تم کبھی ایک سُورت سے اور کبھی دوسری سُورت سے کیوں   یاد کرتے ہو ؟  ‘‘  حضرت عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  !  کیا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی سنا ہے کہ میں   نے قرآن کے ساتھ غیر قرآن کو ملا دیا ہے ؟  ‘‘  ارشادفرمایا: ’’  نہیں   ۔  ‘‘  تو انہوں   نے عرض کی :   ’’  یہ سارے کا سارا عمدہ و پاکیزہ ہے ۔  ‘‘  ( [6] )

کامل الایمان بنانے والے اعمال :  

 ( 457 ) … حضرت سیِّدُنا عَمَّاربن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : ’’  تین عادتیں   ایسی ہیں   کہ جس نے انہیں   اختیار کر لیا اس نے اپنا ایمان کامل کرلیا ۔  ‘‘  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے کسی رفیق نے دریافت کیاکہ اے ابویَقْظَان !

  ( یہ حضرت سیِّدُنا عَمَّار بن یاسِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی کنیت ہے )   وہ کون سی عادات ہیں   جن کی نسبت آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ حضورنبی ٔاکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’  جس نے اپنے اندر یہ عادتیں   اکھٹی کر لیں   اس نے اپنا ایمان کامل کر لیا ؟  ‘‘  فرمایا :  ’’ تنگی کے وقت راہِ خدا میں   خرچ کرنا،   اپنے نفس سے انصاف کرنا اور عالِم دِین کو سلام کرنا  ۔  ‘‘    ( [7] )

غلامانِ مصطفی کی سادگی:

 



[1]    صفۃ الصفوۃ  ،  الرقم۲۷عمار بن یاسر بن عمار بن مالک  ،  ج۱ ،  ص۲۳۱۔

[2]    مسندالحارث ،   کتاب المناقب  ،  باب فضل عماربن یاسر ،   الحدیث۱۰۱۶ ، ج۲ ، ص۹۲۳۔

[3]    المصنف لابن  ابی شیبۃ  ،  کتاب التاریخ  ،  باب کتاب التاریخ  ،   الحدیث۱۳ ، ج۸ ،  ص۴۲ ، بتغیرٍ۔

[4]    الطبقات الکبری لابن سعد  ،  الرقم۵۴

Total Pages: 273

Go To