Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

لوگوں   کودکھانے کے لئے عمل کیا اللہعَزَّوَجَلَّقیامت کے دن اسے سب کے سامنے رسواکرے گااور جوشہرت کاخواہاں   ہوگااللہعَزَّوَجَلَّقیامت کے دن  اسے ذلیل کرے گااورجوبسبب تکبربڑائی چاہے گااللہ عَزَّوَجَلَّاس کامرتبہ گھٹادے گااورجو عاجزی اختیار کرے گا اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بلندی عطا فرمائے گا ۔  ‘‘    ( [1] )

41 سنہرے فرامینِ عالیشان :  

 ( 449 ) …  حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ بے شک سب سے سچی کتاب اللہعَزَّوَجَلَّکی کتاب ( یعنی قرآن مجید )  ہے ۔  سب سے مضبوط رسی تقویٰ و پرہیزگاری کی باتیں   ہیں   ۔  بہترین ملت،  ملت ابراہیمی ہے  ۔  سب سے اچھاطریقہ،  طریقۂ محمدی ہے ۔  بہترین رہنمائی انبیا عَلَیْہِمُ السَّلَام کی ہے ۔  افضل ترین ذکر،   ذکرِ الٰہی ہے ۔  بہترین واقعات قرآن پاک کے ہیں   ۔  بہترین امور وہ ہیں   جن کا انجام اچھا ہواور بُرے امور وہ ہیں   جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ تھوڑا مال جو کفایت کرے اس کثیرسے بہتر ہے جو غفلت میں   مبتلا کردے ۔ نفس کو گناہوں   سے پاک رکھنا بلندی ٔدرجات کا باعث ہے ۔  موت کے وقت کی ملامت سب سے بُری ملامت ہے  ۔  قیامت کی رسوائی بد ترین رسوائی ہے ۔ ہدایت ملنے کے بعدگمراہ ہوجانا سب سے بد تر گمراہی ہے ۔  بہترین غنا دل کا لوگوں   کی طرف سے بے پرواہ ہونا ہے ۔  بہترین زادِراہ تقویٰ و پرہیزگاری ہے ۔  دل میں   القا کی جانے والی سب سے بہترین چیز یقین اور شک کفر میں   سے ہے ۔  دل کا اندھا ہونا سب سے برُا اندھا پن ہے ۔  شراب نوشی سب گناہوں   کی جڑ ہے  ۔  عورتیں   شیطان کی رسیاں   ہے  ۔ جوانی جنون کا ایک شعبہ ہے ۔  نَوحہ کرنا زمانۂ جاہلیت کے کاموں   میں   سے ہے ۔  بعض لوگ جمعہ میں  تأخیر سے حاضر ہوتے اوراللہعَزَّوَجَلَّ کا ذکر بہت کم کرتے ہیں   ۔ جھوٹ سب سے بڑا گناہ ہے ۔  مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے  ( حلال سمجھ کے )  قتال کرنا کفر ہے ۔  مسلمان کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے ۔

            جو لوگوں   کومعاف کرتا ہے اللہعَزَّوَجَلَّاسے معاف فرما تا ہے ۔ جو غصہ پی لیتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّاسے اجرعطا فرماتا ہے  ۔  جولوگوں   کو اپنے حقوق بخش دیتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّبھی اس کی بخشش فر ما دیتا ہے ۔  جو تکالیف پر صبر کرتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اچھا بدلہ عطا فرماتا ہے ۔ سب کمائیوں   سے بری سود کی کمائی ہے ۔  سب سے برا کھانا یتیم کا مال ہے ۔  خوش بخت وہ ہے جودوسروں   سے نصیحت حاصل کرے اور بدبخت وہ ہے جو ماں   کے پیٹ ہی سے بد بخت لکھ دیا گیا ہو ۔  تمہیں   اتنا مال کافی ہے جتنے پر تمہارانفس قناعت کرے ۔ بے شک انسان چارگز کے ٹھکانے ( یعنی قبر )  کی طرف جا رہا ہے اوراصل زندگی توآخرت ہی کی ہے ۔  اعمال کا دارو مدار خاتمے پر ہے ۔  سب سے بد تر روایت جھوٹی روایت ہے ۔  شُہَدا کی موت بہترین موت ہے ۔  جو مصیبت و آزمائش کو پہچانتا ہے اس پر صبر کرتا ہے اورجو نہیں   پہچانتا واویلا کرتااور شور مچاتا ہے ۔ جو تکبرکرتا ہے ذلت اُٹھاتا ہے ۔  جو دنیا کا والی بننے جاتا ہے عاجز آجاتاہے ۔ جو شیطان کی مانتاہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی میں   مبتلا ہوجاتاہے اورجو اللہ عَزَّوَجَلَّکی نا فرمانی کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّاسے عذاب میں   مبتلا کرے گا ۔  ‘‘    ( [2] )

حضرت سَیِّدُ نا عَمَّار بن یَا سِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ

            حضرت سیِّدُناابویَقْظَان عَمَّار بن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکامل ایمان اور پختہ یقین کے حامل تھے ۔ امتحان وآزمائش میں  ثابت قدم اورتکالیف ومصائب پر صابر وشاکر رہتے  ۔  طاعات وعبادات میں   پہل کرتے ۔ حضور پرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارَک زمانے میں   سرکشوں  سے جہاد کرنے میں   پیش پیش رہتے تھے اور مرتے دم تک باغیوں   کی سر کُوبی کرتے رہے ۔  جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضورنبی ٔ پاکصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں   حاضری کا شرف پاتے توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخوشی کا اظہارفرماتے اور بشارتوں   سے نوازتے ۔  آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہدنیوی زیب وآرائش کو ترک کرنے،   نفس کو زیر کرنے،   دین کے مدد گاروں   و حامیوں   کو بلند کرنے اور امام ہدیٰ کی اِتباع کرنے والے بدری صحابی ہیں   ۔  امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو کوفہ کا گورنر مقرر فرمایا اوروہاں   کے لوگوں   کویہ لکھ کربھیجا کہ یہ حضورنبی ٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ میں   اپنی ذات وصفات کے اعتبار سے ممتاز حیثیت کے حامل ہیں   اور ان کا شمار ان 4 صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں   ہوتا ہے کہ خود جنَّت جن کی مشتاق ہے ۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ زندگی کے آخری لمحے تک جنت کی ابدی نعمتوں   کو پانے کے لئے کو شاں   رہے یہاں   تک کہ اپنے احباب یعنی رسولِ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے جا ملے ۔  

            اہلِ تصوُّف فرماتے ہیں : ’’ اخروی نعمتوں   کے حصول کی خاطرمصائب برداشت کرنے کا نام تصوُّف ہے ۔  ‘‘

ایمانِ کامل کی بشارت :  

 ( 450 ) …  حضرت سیِّدُناہا نی بن ہانی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،   فرماتے ہیں  : ہم امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ  اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی خدمت میں   حاضرتھے کہ حضرت سیِّدُنا عَمَّاربن یاسِررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لائے تو امیر المؤمنینرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا :  ’’ مبارَک ہو پاک اور پاکیزہ شخص کو ۔  ‘‘ پھرفرمایا :  میں   نے رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کویہ فرماتے ہوئے سناکہ ’’   عماربن یاسِر ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  حلق تک ایمان کے نور سے بھرے ہوئے ہیں   ۔  ‘‘    ( [3] )

 ( 451 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہبن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ حضورنبی ٔ مکرم ،  نورِ مجسم،   شاہِ بنی آدمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا :  ’’ بے شک عَمَّاربن



[1]    الزھد لابن المبارک ،   ما رواہ نعیم بن حماد فی نسختہ زائدا  ،   باب حسن السریرۃ  ،   الحدیث : ۷۴ ، ص۱۸ ، مفہومًا۔

[2]    المصنف لابن  ابی شیبۃ  ،  کتاب الزہد ،   کلام ابن مسعود  ،   الحدیث : ۳۷ ، ج۸ ، ص۱۶۲ ، بتغیرٍ.

[3]    سنن ابن ماجہ  ،  کتاب السنۃ  ،   باب فضل عمار بن یاسر  ،  الحدیث : ۱۴۷ ،  ص۲۴۸۶۔



Total Pages: 273

Go To