Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کہے کہ )  اگر دوسرے لوگ ہدایت پر ہیں   تو میں   بھی ہدایت پر ہوں  ،  اور اگر وہ گمراہ ہیں   تو میں   بھی گمراہ ہوں   ۔ بلکہ ایسے بنو کہ لوگ اگر کفر بھی کریں   تو تم اسلام پر قائم رہو ۔  ‘‘    ( [1] )

4باتوں   کاحلفیہ بیان :  

 ( 444 ) … حضرت سیِّدُناابوعبیدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ میں   3 باتوں   پرقسم اٹھاتا ہوں   اور چوتھی بات پراگر قسم اٹھا لوں   تو اس میں   بھی سچا ہوں   گا ۔ وہ یہ ہیں :   ( ۱ ) اللہعَزَّوَجَلَّمسلمان اور کافر کو برابر نہ رکھے گا ( ۲ )  جسے اللہعَزَّوَجَلَّدنیامیں   کوئی نعمت عطا نہیں   فرماتا اسے آخرت میں   عطا فرمائے گا ( ۳ )  بندے کا حشر اُسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے  ( ۴ ) اورچوتھی بات جس پر میں   قسم اٹھاتا ہوں   وہ یہ ہے کہ اللہعَزَّوَجَلَّ دنیا میں   جس بندے کی پردہ پوشی فرماتا ہے آخرت میں   بھی اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔  ‘‘    ( [2] )

 ( 445 ) … حضرت سیِّدُناابو وَائِل رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :   ’’ بروزِقیامت ہر شخص یہ تمنا کرے گا کہ کاش !  میں   دنیا میں   بقدرِ ضرورت ہی کھاتااورجس کا دل شک وشبہ سے پاک ہو تودنیامیں   صبح وشام اس کے لئے کوئی نقصان نہیں   اورمنہ میں   انگارہ لے لینا اس سے بہتر ہے کہ آدمی اس بات کے نہ ہونے کی تمنا کرے جس کے ہونے کا اللہ عَزَّوَجَلَّنے فیصلہ فرما دیا ہو  ۔  ‘‘    ( [3] )

ہردن میں   بارہ ساعتیں :

 ( 446 ) … حضرت سیِّدُناعبداللہیاعُبَیداللہبن مِکْرَزرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  بے شک تمہارے رب عَزَّوَجَلَّکے ہاں   ! دن رات نہیں  ،   زمین و آسمان کا نور اسی کے نور سے ہے ۔  اس کے ہاں   تمہارے دنوں   کے اعتبار سے ہر دن بارہ ساعتوں   پر مشتمل ہے ۔  جب اس کی بارگاہ میں   تمہارے اعمال پیش کئے جاتے ہیں  تو وہ تین ساعتیں   ان پر نظر فرماتا ہے ۔  عرش اٹھانے والے،   عرش کے گرد رہنے والے اورمقربین فرشتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں   ۔  پھر رحمن عَزَّوَجَلَّتین ساعتیں   نظرِ رحمت فرماتا ہے حتی کہ رحمت سے بھر جاتا ہے تو یہ چھ ساعتیں   ہوئیں   پھر تین ساعتیں   اَرْحام میں   نظر فرماتا ہے،   جس کے متعلق قرآن مجید میں   اس کا فرمان عالیشان ہے :  

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُؕ   ( پ۳،  ال عمران :  ۶ )

 ترجمۂ کنزالایمان:  تمہاری تصویر بناتا ہے ماؤں   کے پیٹ میں   جیسی چاہے ۔

            اور ارشاد فرمایا :   یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹) اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ

 ( پ۲۵،  الشوری :  ۴۹، ۵۰ )

ترجمۂ کنزالایمان: جسے چاہے بیٹیاں  عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں   ملا دے بیٹے اور بیٹیاں   اورجسے چاہے بانجھ کر دے ۔

            یہ نو ساعتیں   ہوئیں   ۔  پھر تین ساعتیں   رزق کے معاملہ میں   نظر فرماتاہے ۔

            اس بارے میں   اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمان ہے :   یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُؕ    ( پ۲۵،  الشوری :  ۱۲ )

 ترجمۂ کنزالایمان: روزی وسیع کرتا ہے جس کے لئے چاہے اور تنگ فرماتا ہے ۔

كُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِیْ شَاْنٍۚ(۲۹) ( پ۲۷،  الرحمن :  ۲۹ )

 ترجمۂ کنزالایمان: اسے ہر دن ایک کام ہے ۔

حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں : ’’ اے لوگو ! یہ تمہارا معاملہ اور تمہارے رب  عَزَّوَجَلَّکی شان ہے ۔  ‘‘    ( [4] )

دنیا کی خاطر آخرت کو نقصان نہ پہنچاؤ :  

 ( 447 ) … حضرت سیِّدُناہُذَ یْل بن شُرَحْبِیلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ جو دنیا ( حاصل کرنے  ) کاارادہ کرتاہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آخرت سنوارتا ہے اس کی دنیا کو نقصان پہنچتا ہے ۔  تو اے لوگو !  ہمیشہ رہنے اور کبھی نہ ختم ہونے والی آخرت کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ناپائیدار و جلد ختم ہو جانے والی دنیا کی زندگی کے نقصان کی پرواہ نہ کرو ۔  ‘‘    ( [5] )

 ( 448 )  … حضرت سیِّدُنا اِیاسبَجَلیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے،  فرماتے ہیں  : میں  نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ جس نے دنیا میں   



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۷۶۵ ، ج۹ ، ص۱۵۲۔

[2]    جامع معمربن راشدمع المصنف لعبدالرزاق ،   باب المرء مع من أحب ،  الحدیث۲۰۴۸۶ ،  ج۱۰ ، ص ۲۰۳

[3]    المصنف لابن  ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  کلام ابن مسعود ،   الحدیث : ۵۲ ، ج۸ ،  ص ۱۶۵۔

                 الزہدللامام احمد بن حنبل ،  باب فی فضل ابی ہریرۃ ،  الحدیث : ۸۴۵ ،  ص۱۷۷۔

[4]    المعجم الکبیر  ،  الحدیث : ۸۸۸۶ ، ج۹ ، ص۱



Total Pages: 273

Go To