Book Name:Allah Walon Ki Batain Jild 1

کرنے والے اور آخرت میں   رغبت رکھنے والے ؟   ‘‘  تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ وہ جابیہ کے رہنے والے تھے،  وہ تعدادمیں   500تھے اورانہوں   نے قسم کھائی تھی کہ شہید ہوئے بغیر واپس نہیں   پلٹیں   گے پھروہ سر منڈاکر دشمنوں   سے جا بھڑے یہاں   تک کہ وہ سب کے سب جامِ شہادت نوش کر گئے اور ان کی شہادت کی خبر دینے والے کے سوا ایک بھی زندہ نہ بچا ۔   ‘‘ ( [1] )

سب سے زیادہ زُہدوالے :  

 ( 438 ) … حضرت سیِّدُنا عبدالرحمن بن یزید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  (  اے لوگو !   ) تم نماز،   روزہ اور اجتہاد میں   صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے بڑھنا چاہتے ہو (  یاد رکھو !  ایسا نہیں   ہو سکتا کیونکہ  )   وہ تم سے بہترہیں   ۔   ‘‘  لوگوں   نے عرض کی:  ’’ اے ابو عبدالرحمن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اس کی کیا وجہ ہے  ؟   ‘‘  فرمایا :   ’’ وہ دنیا میں   سب سے زیادہ زُہد اختیار کرتے اور آخرت میں   سب سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہیں   ۔  ‘‘    ( [2] )

مومن کاآرام وسکون :  

 ( 439 ) …  حضرت سیِّدُنااِبراہیم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  مومن کیلئے دیدارِ الٰہی سے بڑھ کر کسی چیز میں   راحت و سکون نہیں   اور جس کا آرام و سکون دیدارِ الٰہی میں   ہے وہ ضرور اسے پائے گا ۔  ‘‘    ( [3] )

فتنوں   کادَوردَورہ :  

 ( 440 ) … حضرت سیِّدُناعَلْقَمَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کرتے ہیں   کہ حضورنبی ٔاکرم،  نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  اس وقت تمہارا کیاحال ہوگا جب فتنوں   میں   اُلجھ جاؤ گے ؟ جب ایسا وقت آئے تو تم سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھناکیونکہ یہ فتنے ایسے خطرناک ہوں   گے کہ بچے جوان اور جوان بوڑھے ہو جائیں   ۔ اگر ان سے کوئی چیز رہ جائے گی تو ایک دوسرے سے کہے گا: ’’  تو نے سنت ترک کر دی ۔  ‘‘  صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی :   ’’ یا رسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ایساکب ہوگا ؟  ‘‘  ارشاد فرمایا :  ’’ جب تمہارے عالم کم اور قاری زیادہ ،   مالدارزیادہ اور دیانت دار کم ہو جائیں   گے ۔ آخرت کی بہتری کے لئے کئے جانے والے اعمال کو دنیاکمانے کا ذریعہ بنایا جائے گا اورحُصُول علم کامقصد رضائے الٰہی نہیں   ہو گا ۔  ‘‘    ( [4] )

             حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعودرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا :  ’’  اب تم ایسے ہی زمانہ میں   ہو ۔  ‘‘

نیکیاں   چھپاؤ :  

 ( 441 ) … حضرت سیِّدُنامَسْرُوق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَدُوْدسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’  جب تم میں   سے کوئی روزے کی حالت میں   صبح کرے یا فرمایا :  تم میں   سے کوئی روزہ دار ہو توکچھ چلے پھرے اور جب دائیں   ہاتھ سے صدقہ دے تو بائیں   ہاتھ سے چھپائے اور جب نفل نماز ادا کرے تو گھر میں   پڑھے ۔  ‘‘

دِین میں   پیروی کا معیار :  

 ( 442 ) … حضرت سیِّدُنااَبُوالْاَحْوَص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ دِین میں   کسی کی اس طرح پیروی نہ کروکہ وہ ایمان لائے توتم ایمان لاؤاوراگروہ کفر کرے توتم بھی کفر کرو ۔  ہاں   !  اگر تم نے پیروی کرنی ہی ہے تووفات یافتہ بزرگوں   کی کروکہ زندہ پر فتنہ سے بے خوفی نہیں   ( [5] ) ۔  ‘‘    ( [6] )

 ( 443 ) … حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن یزید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُناعبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :  ’’ اے لوگو ! تم میں   سے کوئی اِمّعَہ نہ بن جائے ۔  ‘‘  لوگوں   نے پوچھا: ’’ اے ابو عبد الرحمنرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ !  اِمّعَہ کون ہوتا ہے ؟   ‘‘  فرمایا:  ’’  اِمّعَہ وہ ہے جو کہے کہ میں   سب کے ساتھ ہوں   ( یعنی ہر ایک کی ہاں   میں   ہاں   ملائے اور



[1]    المعجم الکبیر ،  الحدیث : ۸۵۸۴ ، ج۹ ، ص۱۱۳۔

[2]    المصنف لابن  ابی شیبۃ ،  کتاب الزہد ،  کلام ابن مسعود  ،  الحدیث : ۳۵ ،  ج۸ ،  ص۱۶۲۔

[3]    الزہد لابن المبارک  ،  باب التحضیض علی طاعۃ اﷲ ،  الحدیث : ۱۷ ، ص۶۔

[4]    سنن الدارمی ،  المقدمۃ  ،  باب تغیرالزمان وما یحدث فیہ  ،   الحدیث۱۸۵ /  ۱۸۶ ، ج۱ ، ص۷۵۔

[5]    اس حدیث کی شرح میں   حکیم الامت مفتی احمدیارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الْحَنَّان فرماتے ہیں   : ’’اس میں   تابعین سے خطاب ہے یعنی تاقیامت جوکوئی سیدھی راہ چلناچاہے وہ صحابہ کی پیروی کرے خودقرآن وحدیث سے استنباطِ مسائل پرقناعت نہ کرے اسی لئے مجتہدین ائمہ صحابہ کے پیروہیں   اس کی تائیدوہ حدیث کرتی ہے کہ میرے صحابہ تارے ہیں   جن کی پیروی کروہدایت پاجاؤگے۔‘‘مزیدآگے ارشاد فرمایا :  ’’یہاں   زندوں   سے مراد غیر صحابہ ہیں   اور وفات پانے والوں   سے سارے صحابہ  ، زندہ ہوں   یا وفات یافتہ۔ ( صاحبِ ) مرقاۃ نے فرمایایہ کلام حضرت ابن مسعود نے انکساراً فرمایاورنہ اس وقت آپ اور تمام زندہ صحابہ قابل اتباع تھے ۔زندہ سے ( اس زمانہ کے )  تابعین مراد ہیں   کیونکہ صحابہ سے اللہرسول کا وعدہ جنت ہوچکا ۔رب نے فرمایا  : ’’ وَ اَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى   ( پ۲۶ ، الفتح : ۲۶ )  ( ترجمہ کنزالایمان  : اورپرہیزگاری کا کلمہ ان پر لازم فرمایا )  اور فرمایا اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ- ( پ۲۶ ، الحجرات : ۳ )  ( ترجمہ کنزالایمان  : وہ ہیں   جن کا دلاللہنے پرہیز گاری کے لیے پرکھ لیا ہے  )  اور فرمایا  وَ كَرَّهَ اِلَیْكُمُ الْكُفْرَ وَ الْفُسُوْقَ وَ الْعِصْیَانَؕ   ( پ۲۶ ، الحجرات : ۷ )  ( ترجمہ کنزالایمان  : اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں   ناگوار کردی )  جس سے پتہ لگا کہ رب نے صحابہ کے لیے ایمان لازم کردیا ان کے دلوں   میں   کفر اور فسق سے نفرت پیدا فرمادی خصوصاحضرت ابنِ مسعود ( رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ )  کو تو جنت کی بشارت دی جاچکی تھی خیال رہے کہ مرتد صحابی نہیں   رہتا اِرتداد سے صحابیت ختم ہوجاتی ہے۔ ( مراٰۃ المناجیح  ،

Total Pages: 273

Go To